بالی وڈ سٹارز کو اپنے اشاروں پر نچانے والی سروج خان چل بسیں

دو ہزار سے زائد گانوں کی کوریوگرافی سروج کو پیار سے 'ماسٹرجی' کہہ کر پکارا جاتا تھا۔

سروج خان دل کے عارضے میں مبتلا تھیں (اے ایف پی)

بھارت کی معروف کوریوگرافر سروج خان جمعے کی صبح 71 سال کی عمر میں چل بسیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق سروج خان عارضہ قلب کے باعث ممبئی کے گرونانک ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔ سانس کی بیماری کی وجہ سے وہ گذشتہ مہینے سے زیر علاج تھیں۔ ڈاکٹرز کی جانب سے کیا جانے والا ان کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔

اپنے چار دہائیوں پر مبنی کیریئر میں انہوں نے بالی وڈ کے کئی مشہور فنکاروں کو اپنے اشاروں پر نچایا اور فلم انڈسٹری کو کئی یاد گار گانے دیے۔

ان کے کیریئر میں عروج اس وقت آیا جب 1980 کی دہائی کے اواخر میں انہوں نے مشہور بالی وڈ اداکاراؤں مادھوری ڈکشٹ اور سری دیوی کی فلموں کی کوریوگرافی کی۔

دو ہزار سے زائد گانوں کی کوریوگرافی سروج کو پیار سے 'ماسٹرجی' کہہ کر پکارا جاتا تھا۔1948 میں پیدا ہونے والی سروج نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز بطور چائلڈ ایکٹر تین سال کی عمر میں کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بطور کوریوگرافر ان کی پہلی فلم 1974 میں 'گیتا میرا نام' تھی۔ ان کی مشہور فلموں میں مسٹر انڈیا، نگینہ، چاندنی، تیزاب اور تھانیدار شامل ہیں۔

سروج خان نے دیوداس کے گانے 'ڈولا رے ڈولا'، جب وی میٹ کے گانے 'یہ عشق ہائے' اور تامل فلم شرینگرام کے تمام گانوں کے لیے تین قومی ایوارڈ بھی جیتے اور 2005 سے 2010 کے درمیان ٹی وی پر بھی ڈانس شو میں جج کے طور پر شرکت کی۔

سروج خان کو کوریوگرافی کے لیے پہلا فلم فیئر ایوارڈ ملا تھا- ان کو یہ ایوارڈ تیزاب فلم کر گانے 'ایک دو تین' پر دیا گیا- انہوں نے سال 1989 سے 1991 تک مسلسل تین سال یہ ایوارڈ اپنے نام کیا- وہ کوریوگرافی میں آٹھ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے کا ریکارڈ رکھتی ہیں-

انہوں نے گرو، دیوداس، ہم دل دے چکےصنم، کھل نائک، بیٹا، سیلاب، چالباز اور تیزاب جیسی فلموں کے لیے یہ اعزاز جیتا۔

ان کی وفات پر اکشے کمار سمیت کئی اداکاروں نے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

مادھوری نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ وہ اپنی دوست اور گرو کو کھو کر بہت افسردہ ہیں۔ انہوں نے رقص میں بھرپور مدد کرنے پر سروج کا شکریہ بھی ادا کیا۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی فلم