بس تھوک نہیں لگانا

کرکٹ کے گھر میں کھیلی جانے والی اس ٹیسٹ سیریز کے دوران آپ کی ہر اچھی شارٹ، اچھی گیند، سینچری، وکٹیں لینے، کسی چیز پر بھی آپ کو مخصوص انداز میں سلیقے کے ساتھ تالیوں کی صورت میں داد نہیں ملے گی۔

کئی بولرز یہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ گیند کو تھوک لگانا ضروری نہیں پسینے سے بھی کام چل جائے گا  (اے ایف پی)

کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کرکٹ سیریز کا تجربہ دونوں کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے بڑا ہی عجیب و غریب ہونے والا ہے۔

خود ہی دیکھ لیں کہ پہلے خبر آتی تھی کہ کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ، یو یو ٹیسٹ وغیرہ کر لیے گئے ہیں مگر اس مرتبہ خبر آئی کہ کھلاڑیوں، کوچز اور سکواڈ کے ساتھ جانے والے دیگر افراد کے کرونا ٹیسٹ کر لیے گئے ہیں۔

پاکستان اس دورے کے دوران انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گا۔

یہ سیریز دونوں ہی ٹیموں کے لیے کافی مشکل ہوگی، کیونکہ صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ کئی دیگر چیزوں کا بھی خیال رکھنا ہوگا اور یہ ان کھلاڑیوں کا ایک الگ ہی ٹیسٹ ہوگا۔

کرکٹ کے گھر میں کھیلی جانے والی اس ٹیسٹ سیریز کے دوران آپ کی ہر اچھی شارٹ، اچھی گیند، سینچری، وکٹیں لینے، کسی چیز پر بھی آپ کو مخصوص انداز میں سلیقے کے ساتھ تالیوں کی صورت میں داد نہیں ملے گی۔

کیونکہ اب کی بار داد صرف سوشل میڈیا پر ہی ملے گی اور ہاں یقین جانیں میدان میں کسی کھلاڑی کے اترنے پر ’پرچی‘ کی آوازیں بھی نہیں آئیں گی۔

مگر کچھ چیزیں ایسی بھی نہیں ہوں گی جن کے بغیر کرکٹ کیسی ہوگی یہ کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔

ٹیسٹ کرکٹ میں ایک چیز جو سب سے ضروری ہے اور ہر ملک کا ہر کھلاڑی اس میں مہارت رکھتا ہے وہ ہے تھوک لگانا۔

اس سے پہلے کہ آپ اس کا کوئی اور مطلب نکالیں، بتاتا چلوں کے یہاں گیند کو تھوک لگانے کی بات ہو رہی ہے، جو ریورس سوئنگ کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے اور ہر بولر اور ہر فیلڈر کو یہ کرنا پڑتا ہے۔

اب ذرا سوچیں کہ بولرز سمیت فیلڈرز کو میچ پر اپنی مکمل توجہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ غلطی سے بھی تھوک نہیں لگانا۔

جس شخص نے تھوڑی سی بھی کرکٹ کھیلی ہو وہ اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ فیلڈنگ کرتے ہوئے میدان میں موجود ہر فیلڈر کو یہی لگتا ہے کہ اب کی بار گیند اسی کی طرف ہی آئے گی اور وہ پہلے سے ہی خود کو تیار رکھتا ہے، مگر کرونا کے بعد فیلڈرز کو خود کو یہ بھی بار بار کہنا ہوگا کہ گیند تو آ رہی ہے مگر تھوک نہیں لگانا۔

کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ کوچز کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ جہاں وہ بلے بازوں کو سمجھا رہے ہوں گے کہ گیند کی لائن میں آ کر  کھیلنا، باہر جاتی گیند کو نہیں چھیڑنا۔ بولرز کو بتا رہے ہوں گے کہ گیند آگے کرنی ہے، شارٹ بال کا استعمال کرنا ہے وغیرہ وغیرہ، وہیں فیلڈرز کو بتا رہے ہوں گے کہ بس تھوک نہیں لگانا۔

سٹیڈیم میں چاروں طرف لگے کیمرے جو پہلے خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ میں اس بات کی نگرانی کرتے تھے کہ میدان میں موجود کوئی بھی کھلاڑی گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ تو نہیں کر رہا۔ اب یقیناً وہ کیمرے بھی یہ دیکھیں گے کہ کوئی کھلاڑی کہیں تھوک تو نہیں لگا رہا۔

آپ مانیں یا نہ مانیں مگر یہ سب چیزیں کھلاڑیوں کو اضافی دباؤ میں ضرور ڈالیں گی، کیونکہ جن عادات کے ساتھ آپ نے ساری زندگی کرکٹ کھیلی ہو اسے اچانک سے ترک کرنے کے لیے آپ کو اپنی تمام تر توجہ انہی عادات کو روکنے پر مرکوز کرنا ہوگی، جو کہ دونوں ہی ٹیموں کے لیے انتہائی مشکل کام ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خاص کر اس وقت جب بعض کھلاڑیوں کو گیند پر تھوک لگانے کے ساتھ ساتھ اسے چبانے کی بھی عادت ہو۔

بے شک کئی بولرز یہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ گیند کو تھوک لگانا ضروری نہیں پسینے سے بھی کام چل جائے گا مگر عادت تو عادت ہے اس کا کیا کریں گے؟

یہ بات درست ہے کہ کہ میدان میں اترنے والے تمام کھلاڑیوں کے کرونا ٹیسٹ ہو چکے ہیں اور وہ تمام کرونا سے پاک بھی قرار دیے جا چکے ہیں مگر پھر بھی یہ وہ ایس او پیز ہیں جن پر آپ کو عمل کرنا ہی ہوگا۔

بولر ایک اچھی گیند کروانے کے بعد اپنے فالو تھرو کے دوران بلے باز کے قریب آ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سلیجنگ نہیں کر سکتا، وکٹ لینے کے بعد بولر بیچارہ جشن منانے کے لیے کس کی طرف بھاگتا ہوا جائے گا؟ ہاتھ تو ملا نہیں سکتے گلے ملنا تو دور کی بات۔

ذرا تصور کریں کہ نسیم شاہ انگلینڈ کے خلاف ہیٹ ٹرک کر لیتے ہیں تو کیا اس کا مزہ آئے گا؟ ہر بار وکٹ لینے کے بعد انہیں کچھ فاصلے پر بس کھڑے ہو کر خوشی کا اظہار کرنا ہوگا۔

بابر اعظم ڈبل سینچری سکور کرتے ہیں تو کیا انہیں اس کی داد ملے گی؟ نہیں بالکل نہیں، بس وہ بلا اٹھا کر ڈریسنگ روم کی طرف اشارہ کریں گے اور ڈریسنگ روم والے تالیاں بجا دیں گے۔

بھلا یہ بھی کوئی کرکٹ ہوئی؟

ویسے پاکستان سے قبل انگلینڈ کا مقابلہ ویسٹ انڈیز سے ہونے والا ہے جس میں کافی حد تک چیزیں واضح ہو جائیں گی کہ اب ہمیں کس طرح کی کرکٹ پر گزارا کرنا پڑے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ