'اگر کرونا ختم نہ ہوا تو روایتی کرکٹ ضرور ختم ہو جائے گی'

پاکستان کرکٹ ٹیم تو انگلینڈ سریریز کے لیے پہنچ گئی لیکن اس مرتبہ کے میچ کتنے مختلف، کتنے خاموش اور کتنے سماجی فاصلے سے متاثر ہوں گے؟

انگلینڈ کے لیے روانگی کے وقت سابق کپتان سرفراز احمد۔ اب تو ماسک پہنے کھلاڑی بھی پہچاننا مشکل ہو جائے گا (اے ایف پی)

پاکستان ٹیم دو ماہ کے طویل دورے پر انگلینڈ پہنچ چکی ہے جہاں وہ 14 روز قرنطینہ میں گزارے گی۔ اس دوران تمام کھلاڑیوں اور سپورٹنگ سٹاف کے کووڈ 19 ٹیسٹ دوبارہ ہوں گے۔ اگر تمام کے ٹیسٹ منفی آئے تو قرنطینہ کا دورانیہ گزارنے کے بعد ٹیم ڈربی شائر منتقل ہو جائے گی اور ٹیسٹ سیریز سے قبل تربیت کرے گی۔

 جولائی کے آخری ہفتے میں پاکستان ٹیم مانچسٹر پہنچے گی جہاں 5 اگست سے اولڈ ٹریفرڈ میں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلے گی۔ تین ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز جس کا روایتی طور پر آغاز لارڈز سے ہونا تھا لیکن کرونا (کورونا) کے باعث کرکٹ معطل ہونے کے بعد اس شرط پر بحال ہوئی ہے کہ تمام میچز ایسے گراؤنڈز میں کھیلے جائیں جہاں ٹیموں کے قیام کے لیے ہوٹل بھی گراؤنڈ میں ہی موجود ہوں تاکہ کھلاڑیوں اور عام افراد میں رابطہ کم سے کم ہو۔

انگلینڈ کے صرف دو ہی ایسے گراؤنڈز ہیں جہاں ٹیموں کے قیام کے لیے ہوٹل وہیں موجود ہیں۔ مانچسٹر اور ساؤتھ ہیمپٹن کےگراؤنڈز ہی ایسی سہولت فراہم کرتے ہیں اس لیے ان دو ٹیسٹ مراکز کا انتخاب کیا گیا ہے۔

اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھی اپنے طے شدہ دورے کے مطابق انگلینڈ پہنچی ہے اور 15 روز کے قرنطینہ کے بعد اب پریکٹس میں مصروف ہے۔ آٹھ جولائی سے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے درمیان ساؤتھ ہیمپٹن میں پہلا ٹیسٹ شروع ہوگا۔

انگلینڈ کی 30 ارکان پر مشتمل ٹیم بھی قرنطینہ میں وقت گزار کر ٹریننگ میں مصروف ہے۔

بند دروازوں میں کرکٹ

کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کے بعد انگلینڈ ابھی تک مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے اور عام روزمرہ زندگی میں بہت زیادہ پابندیاں اور احتیاط کرنے پڑتی ہے۔

انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو کرکٹ کی بحالی کی اجازت اس شرط پر دی گئی ہے کہ کھلاڑیوں اور انتہائی ضروری عملے کے علاوہ کسی کو سٹیڈیم میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تماشائیوں کے بغیر کرکٹ کا تصور ہی محال تھا لیکن اب عملی طور پر ایسا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس محدود پیمانے کی کرکٹ کے پیچھے آمدن کا حصول ہے جو ٹی وی پر لائیو نشر کر کے بورڈ پیسے اکٹھا کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ آمدنی تو ماضی میں بھی زیادہ تر ٹی وی رائٹس سے ہی ہوتی تھی لیکن تماشائیوں کا جوش وخروش ہی ٹی وی نشریات میں زندگی ڈالتا تھا جو اب مفقود ہوگا۔

کسی اچھے شاٹ پر تالیاں بجیں گی نہ گرتی ہوئی وکٹوں پر جشن کا سماں ہوگا۔

میچ پر رواں تبصرہ نشر کرنے والے کمنٹیٹرز کی آوازیں بھی شاید کنویں سے آتی ہوئی محسوس ہوں گی۔

خالی سٹیڈیم میں شور شرابا نہ ہونے سے شاید کھلاڑیوں میں بھی زبردستی کا جوش ہوگا کیونکہ جب جوہری ہی سامنے نہ ہو تو ہیرا بھی پتھر ہی لگتا ہے۔

کھلاڑی کیا کریں گے

کھلاڑیوں پر سب سے زیادہ دباؤ ہے پہلے ہی تنہائی میں ایک ایک پل گن گن کر گزارنے والے جب گراؤنڈ میں بھی بن بلائے مہمان کی مانند ایک دوسرے سے لاتعلق کھڑے ہوں گے تو بیٹنگ اور بولنگ میں جان کہاں سے آئے گی۔

کھلاڑیوں پر پابندی ہے کہ نہ تو آؤٹ کر کے جشن ہوگا اور نہ ایک دوسرے سے بغل گیر ہونے کی اجازت! حتی کہ ہاتھ پر ہاتھ مارنےکی اجازت نہیں ہے۔

دور ایسے رہنا ہے جیسے جانتے ہی نہیں

بیٹنگ کی حد تک تو شاید برداشت ہو جائے گا لیکن فیلڈنگ میں کرکٹ کے نصاب کے برخلاف کھڑا ہونا پڑے گا۔ عام حالات میں سلپ میں اس قدر قریب ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے میں پنہاں ہو جائیں لیکن اب دو میٹر کا فاصلہ قربتیں تو ختم کرے گا لیکن بلے بازوں کوفائدہ بھی دے جائے گا۔ کئی کیچ تو بس فیلڈر کا منہ چراتے ہوئے چلے جائیں گے۔

وکٹ کیپر سپنرز کی بولنگ پر وکٹ کے پیچھے اور بلے باز سے بہت قریب کھڑے ہوتے ہیں۔ کیا اب بھی وہ وہیں کھڑے ہوں گے؟ اور پھر بلے باز اپنی کریز میں کہاں ہوگا کیونکہ اس کے پاس صرف سوا میٹر کی گنجائش ہوتی ہے اگر وہ آگے گیا تو سٹمپ ہو جائے گا اور وکٹ کیپر اگر پیچھے رہا تو سٹمپ کا موقع ضائع ہو جائے گا۔

بولرز کے لیے بھی مشکل لمحات ہیں۔ گیند کو چمکانے کے لیے لعاب دہن کے استعمال پر پابندی لگ چکی ہے۔ ریورس سوئنگ کرنے کے لیے ایک طرف سے گیند کی چمک ضروری ہے جو اب تھوک سے صاف کرنے کی اجازت نہ ملنے پر شاید ریورس سوئنگ معدوم ہو جائے گی۔ ماضی میں پاکستانی فاسٹ بولرز ریورس سوئنگ کی بدولت انگلش پلیئرز کو پریشان کرتے رہے ہیں جو اب گئے وقت کی بات لگنے لگی ہے۔

ایک گھسی ہوئی گیند سے 80 اوورز بولنگ بھی ایک بڑا امتحان ہوگا۔

کھلاڑی ڈپریشن کا شکار ہوسکتے ہیں

تنہائی اور خاموشی کی شامیں اکیلے کمرے میں گزار کر کھلاڑی یاسیت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ دن بھر میچ یا ٹریننگ کے بعد کھلاڑیوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ باہر ج اکر ریلیکس ہوں سکیں لیکن کرونا کے سائے میں ہونے والی کرکٹ نے ان کو کمروں تک محدود کر دیا ہے۔ پہلے سٹہ بازوں سے دور رکھنے کے لیے ان پر کرفیو لگتا تھا اب کرونا کی خاطر ایسا کرنا پڑے گا۔ جس کا یقینی طور پر اثر پڑے گا۔

انگلینڈ کے بولر سٹیورٹ براڈ تو ماہر نفسیات سے مدد لے رہے ہیں۔ براڈ مسلسل تنہائی سے اپنے آپ میں مایوسی محسوس کرنے لگے تھے اور ضروری ہوگیا تھا کہ ان کی ذہنی مدد کی جائے۔ اس لیے انگلینڈ کی ٹیم کے ماہر نفسیات ان کی کوچنگ کر رہے ہیں۔

سماجی فاصلوں کے ساتھ شروع ہونے والی کرکٹ کے لیے سارا زمانہ بےچین ہے لیکن ان لاکھوں شائقین کرکٹ کے لیے بنا چکا چوند، شور شرابے اور ہلا گلا کے بغیر کیا یہ غیر روایتی کرکٹ کچھ حسن پیدا کرسکے گی؟

ٹیسٹ کرکٹ تو چونکہ سست روی سے کھیلی جاتی ہے اور اس کے چاہنے والے تو اس کی باریکیوں کو دیکھتے ہیں اور لطف لیتے ہیں ان کے لیے تو یہ خاموش کرکٹ اتنی تکلیف دہ نہیں ہوگی۔

لیکن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ جس کے فینز زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو کرکٹ کی باریکیوں پر نہیں بلکہ شور شرابے کے لیے دیکھتے ہیں ان کےلیے یہ کرکٹ کسی قبرستان میں رکھے ہوئے پھولوں سے کم نہ ہوگی جن کے رنگ تو پھیکے ہوتے ہی ہیں لیکن خوشبو بھی کافور میں بدل جاتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آمدنی کے لحاظ سے اطمینان بخش لیکن پابندیوں میں مقید یہ کرکٹ خزانے کا منہ تو بھر دے گی لیکن کرکٹ کے دیوانوں میں حنا کےرنگ نہیں بکھیر سکے گی۔

اس بار گھروں میں رکھے ہوئے سبز جھنڈے اور پاکستانی ثقافت پر مبنی کاسٹیوم الماریوں سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔ نہ چاچا کرکٹ کا ڈانس ہوگا اور نہ مانچسٹر کی سڑکوں پر پاکستانی ٹرک اور بس جس پر چڑھ کر منچلے برطانوی نژاد پاکستانی فاتح میچ کے خاتمہ پر جشن اس لیے مناتے تھے کہ گوروں کا منہ چڑا سکیں۔ جن سے کسی اور چیز میں نہیں تو کم ازکم کرکٹ میں تو جیت گئے۔

نہ پاکستان زندہ باد کے نعرے ہوں گے اور نہ سٹیڈیم کے عقب میں کراچی کی بریانی اور لاہور کے پایوں کے سٹال ہوں گے۔

خواتین کے سبز سفید ملبوسات ہوں گے اور نہ مغل شہنشاہ کے روپ میں پاکستانی نوجوان۔

بس ایک کرکٹ کی سرخ یا سفید گیند اور اس کی تگ ودو میں گیارہ فیلڈرز اور دو بیٹسمین اور ان کے ساتھ سر سے پیر تک حفاظتی لباس میں چھپے ہوئے ایمپائرز!!

کرکٹ کی لمحے لمحے بدلتی ہوئی صورت حال کو اپنے الفاظ اور آواز سے آپ تک پہنچانے والے ہم صحافی بھی اس دفعہ سٹیڈیم نہیں جاسکیں گے۔

انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے صرف 12 مقامی صحافیوں کو ایکریڈیشن دی ہے کیونکہ سماجی فاصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے اس سے زیادہ صحافیوں کی گنجائش نہیں ہے۔  کرونا کی پابندیوں سے صحافی بھی محفوظ نہیں رہ سکے

جان لیجیے!

اگر کرونا ختم نہ ہوا تو روایتی کرکٹ ضرور ختم ہو جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ