پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے لیے روانہ

قومی ٹیم کو اگست اور ستمبر میں میزبان انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنی ہے۔

ایئرپورٹ روانہ ہونے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کا قافلہ (تصویر: اے ایف پی)

پاکستان کرکٹ ٹیم کے 20 کھلاڑیوں اور 11 سپورٹ سٹاف پر مشتمل دستہ اتوار کی صبح خصوصی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے مانچسٹر روانہ ہوگیا۔ ٹیم میں وہ 10 کھلاڑی شامل نہیں جن کا کرونا (کورونا) وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

قومی ٹیم کو اگست اور ستمبر میں میزبان انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنی ہے۔

مانچسٹر پہنچنے کے بعد قومی سکواڈ وورسٹرشائر روانہ ہوگا جہاں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام کھلاڑیوں کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ اس دوران قومی سکواڈ 14 روز تک قرنطینہ میں گزارے گا، تاہم یہاں انہیں پریکٹس اور ٹریننگ کی اجازت ہوگی، جس کے بعد قومی ٹیم 13 جولائی کو ڈربی شائر روانہ ہو جائے گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹیسٹ کپتان اظہر علی کا کہنا تھا کہ پاکستانی کھلاڑی کرونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں ہونے والا لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد کھیلنے کے انتظار میں تھے۔ لاک ڈاؤن کی بعد یہ ایک طرح سے پہلی ٹیسٹ سیریز ہو گی۔

انگلینڈ روانگی کے موقعے پر انہوں نے کہا: 'ایک مشکل وقت کے بعد تمام کھلاڑی پرجوش ہیں۔ اگرچہ دورہ انگلینڈ ہمیشہ سے اہم رہا ہے وہاں 2016 اور 2018 میں ہماری کارکردگی حوصلہ افزا رہی ہے۔ ہم دوبارہ ایسی ہی کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گے۔'

پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے روانگی کے موقعے کی تصاویر میں کھلاڑیوں اور عملے کے تمام ارکان نے ماسک پہن رکھے تھے جبکہ لاہور ایئرپورٹ پر سماجی دوری کے ضابطے کی پابندی کی گئی۔ 

پی سی بی کے ایک بیان کے مطابق خوش آئند بات یہ ہے کہ کووڈ 19 ٹیسٹنگ کے پہلے مرحلے میں 18 کھلاڑیوں اور 11 رکنی سپورٹ سٹاف کے ٹیسٹ منفی آئے تھے اور اب ان سب کی جمعرات کو ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کی رپورٹ بھی منفی آئی ہے۔

دیگر تین ریزرو کھلاڑیوں کے علاوہ پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کپتان اور وکٹ کیپر روحیل نذیر اور فاسٹ بالر موسیٰ خان کے کووڈ 19 ٹیسٹ بالترتیب جمعرات اور بدھ کو لیے گئے تھے جن کے نتائج منفی آئے ہیں۔ لہٰذا ان دونوں کھلاڑیوں کو انگلینڈ روانہ ہونے والے پہلے گروپ میں شامل کر لیا گیا ہے۔

انگلینڈ روانہ ہونے والا پاکستان کا پہلا گروپ ان کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف پر مشتمل ہے:

کرکٹرز:

اظہر علی (کپتان)، بابراعظم (نائب کپتان)، عابدعلی، اسد شفیق، فہیم اشرف، فواد عالم، افتخار احمد، عماد وسیم، امام الحق، خوشدل شاہ، محمد عباس، موسیٰ خان، نسیم شاہ، روحیل نذیر، سرفراز احمد، شاہین شاہ آفریدی، شان مسعود، سہیل خان، عثمان شنواری اور یاسر شاہ۔

بائیں ہاتھ کے سپنر ظفر گوہر، جنہوں نے 2015 میں ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلا، وہ انگلینڈ میں ٹیم کو جوائن کریں گے۔ انہیں صرف پری میچ تیاریوں کے لیے سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

سپورٹ اسٹاف:

منصور رانا (مینیجر)، مصباح الحق (ہیڈکوچ)، یونس خان (بیٹنگ کوچ)، مشتاق احمد (سپن باؤلنگ کوچ)، شاہد اسلم (اسسٹنٹ کوچ)، عبدالمجید (فیلڈنگ کوچ)، طلحہٰ بٹ (ٹیم اینالسٹ)، یاسر ملک (سٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ)، ڈاکٹر سہیل سلیم (ٹیم ڈاکٹر)، لیفٹنٹ کرنل ریٹائرڈ عثمان انوری (سکیورٹی مینیجر) اور رضاکیچلو (میڈیا اینڈ ڈیجیٹل کونٹینٹ مینیجر)۔

کلف ڈیکن اور وقار یونس بالترتیب جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا سے ٹیم کو انگلینڈ میں جوائن کریں گے جبکہ شعیب ملک کی 24 جولائی کو روانگی متوقع ہے۔

سپورٹس سائنسز کے ماہرین اور برطانوی حکومت کے قوانین  کے مطابق پی سی بی کے ٹیسٹنگ کے عمل کے دوران سکواڈ میں شامل جن اراکین کے ٹیسٹ مثبت آئے وہ اتوار کو سفر نہیں کرسکیں گے تاہم جونہی ان کے دو منفی ٹیسٹ آئیں گے تو انہیں انگلینڈ بھیج دیا جائے گا۔

چار ریزرو کھلاڑیوں کے کووڈ 19 ٹیسٹ بدھ کو ہوئے تھے۔ ان میں سے عمران بٹ کا ٹیسٹ مثبت جبکہ بلال آصف، محمد نواز اور موسیٰ خان کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔

پی سی بی کے ٹیسٹنگ پروگرام کے پہلے مرحلے میں مثبت آنے والے 10 کھلاڑی اور ایک ٹیم آفیشل کی ری ٹیسٹنگ کے دوران فخر زمان، محمد حسنین، محمد حفیظ، محمد رضوان، شاداب خان اور وہاب ریاض کے ٹیسٹ کے نتائج منفی آئے ہیں۔

اب انہیں ٹیسٹنگ کے تیسرے مرحلے سے گزرنا پڑے گا جو کہ آئندہ ہفتے کسی وقت ہوگا۔ دوسرا ٹیسٹ منفی آنے پر دونوں کھلاڑیوں کی انگلینڈ روانگی کے لیے انتظامات کیے جائیں گے۔

ری ٹیسٹ میں  بھی جن کھلاڑیوں کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں ان میں حیدر علی، حارث رؤف، کاشف بھٹی اور عمران خان شامل ہیں۔ ان چار کھلاڑیوں کے علاوہ واحد ٹیم آفیشل مساجر ملنگ علی کا ٹیسٹ بھی ایک مرتبہ پھر مثبت آیا ہے۔

پی سی بی میڈیکل پینل کی جانب سے ان چار کھلاڑیوں، مساجر ملنگ علی اور بیٹسمین عمران بٹ کو فوری طور پر سخت قرنطینہ میں جانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ ماضی کی طرح، پی سی بی کا میڈیکل پینل ان کی مکمل رہنمائی اور مدد کرتا رہے گا۔

ان کھلاڑیوں کے ٹیسٹ اب قرنطینہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد لیے جائیں گے۔ دو مرتبہ ٹیسٹ کے نتائج منفی آنے کی صورت میں انہیں انگلینڈ روانہ کیا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا ہے کہ انہیں خوشی ہے کہ ایک چیلنجنگ اور غیرمعمولی عمل کے بعد 20 کھلاڑیوں اور ٹیم منیجمنٹ کے 11 اراکین اتوار کو مانچسٹر روانگی کے لیے دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیسز کی تعداد میں اضافے اور کچھ کھلاڑیوں کے علاقوں میں ٹیسٹ لیب کی عدم دستیابی کے باوجود پی سی بی کے میڈیکل پینل نے اس عمل کو مکمل انجام تک پہنچانے کے لیے ایک اچھا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاجسٹک چیلنجز کے سبب انہیں ان غیرمعمولی حالات میں مشکلات کا سامنا تھا مگر ہم نے اس سارے عمل میں بہت کچھ سیکھا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا تھا کہ ان کی مصباح الحق سے بات ہوئی اور وہ اتوار کو مانچسٹر روانہ ہونے والے پہلے گروپ سے مطمئن ہیں۔ اس گروپ میں زیادہ تر طویل طرز کے کرکٹرز شامل ہیں اور سیریز میں پاکستان کی پہلی اسائنمنٹ بھی ریڈ بال کرکٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصباح الحق کو صورت حال کا مکمل اندازہ ہے کہ انہیں کھلاڑیوں کی بہترین تیاری کے لیے اپنے پریکٹس کے شیڈول کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ پیچھے رہ جانے والے کھلاڑیوں کو مکمل یقین دلاتے ہیں کہ پی سی بی ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا اور اس قرنطینہ کے وقت میں پی سی بی ان کی مکمل نگرانی جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ ان تمام کھلاڑیوں میں کوئی علامات نہیں تھیں جس کا مطلب ہے کہ ان کی جلد مکمل تندرستی کے چانسز بہت زیادہ ہیں۔ جیسے ہی ان کھلاڑیوں کے ٹیسٹ کے نتائج دو مرتبہ منفی آئیں گے ویسے ہی یہ انگلینڈ میں دوبارہ سکواڈ کو جوائن کرلیں گے۔

وسیم خان نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ محمد حفیظ اور وہاب ریاض نے پی سی بی کی دوسری ٹیسٹنگ سے قبل ذاتی طور پر اپنی ٹیسٹنگ کروائی اور اس کے باوجود ان کے ٹیسٹ منفی ہیں تاہم پی سی بی ٹیسٹنگ پروگرام کے تحت ان کا ایک مثبت اور ایک منفی ٹیسٹ آیا ہے لہٰذا انگلینڈ روانگی کے لیے انتظامات سے قبل انہیں پی سی بی ٹیسٹنگ پروگرام کے تحت مزید ایک مرتبہ منفی ٹیسٹ دینا ہوگا۔

چیف ایگزیکٹو پی سی بی نے کہا کہ آخر میں وہ ایک مرتبہ پھر کرکٹ کے تمام مداحوں اور پیروکاروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب متحد ہوکر اس وائرس کو جڑ سے اکھاڑ سکتے ہیں اور جتنا جلدی ہم اس وبا کو ختم کرلیں گے، اتنی ہی جلدی ہماری زندگی واپس معمول پر آجائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ