زیادہ اور کم بارشوں کی پیش گوئی کیسے کی جاتی ہے؟

محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان کو موسم کی شدت کو برداشت کرنے کے لیے اب ہر وقت تیار رہنا ہونا ہوگا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان کو موسم کی شدت برداشت کرنے کے لیے اب ہر وقت تیار رہنا ہونا ہوگا۔

ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات ڈاکٹر حنیف نے انڈپینڈنٹ اردو کو اس حوالے سے بتایا کہ پاکستان میں موسموں کی شدت نئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر سال پاکستان میں ایک نیا ریکارڈ بنتا ہے جو گذشتہ آٹھ دہائیوں میں نظر نہیں آتا۔

خیال رہے کہ رواں سال پاکستان میں مون سون کی بارشیں معمول سے دس فیصد زیادہ ہونے کی پیش گوئی کے ساتھ ساتھ شہروں علاقوں میں سیلاب کے خطرے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

معمول سے زیادہ مون سون کی بارشوں کی وجہ سے زراعت پر سیلاب منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر حنیف کہتے ہیں کہ پاکستان کو ہر قسم کے موسم کی سخت شدت کو برداشت کرنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

’دریا کنارے بسنے والے علاقوں میں تو سیلاب آتے ہی ہیں لیکن اب شہری علاقے بھی سیلاب سے مخفوظ نہیں رہیں گے۔‘

 تاہم کم یا زیادہ بارشوں کی پیشن گوئی کیسے کی جاتی ہے اس حوالے سے تفصیلات اس ویڈیو میں دیکھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان