حج کرنے والے گنے چنے خوش نصیبوں کے جذبات

گنتی کے وہ افراد جن کی حج درخواست منظورہوچکی ہے ان کی آنکھوں میں خوشی اور تشکر کے آنسو ہیں۔

اس سال کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کی وجہ سے فریضہ حج انتہائی محدود اور سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔

سعودی حکومت نے صرف ایک ہزار کے قریب لوگوں کو حج کرنے  اجازت دی ہے۔

ان حالات میں مذہبی فریضہ ادا کرنے کا موقع جنہیں ملا ہے ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔

جنہیں حج کی اجازت نہیں ملی انہیں مایوسی کا سامنا ہے۔
 صرف 30 فیصد شہری اور سعودی عرب میں مقیم 70 فیصد غیرملکی حج کر سکیں گے۔

ان حالات میں کسی کی حج درخواست کی منظوری بہت بڑی سعادت ہے۔

گنتی کے وہ افراد جن کی حج درخواست منظورہوچکی ہے ان کی آنکھوں میں خوشی اور تشکر کے آنسو ہیں۔

ایسے ہی خوش نصیبوں میں سعودی دارالحکومت ریاض میں مقیم نائجیریا کے شہری نصریونس سولبرمو بھی شامل ہیں۔

خبررساں ادارے ایف پی کو ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ جس لمحے انہوں نے دیکھا کہ ان کا نام حج کے لیے منظور کر لیا گیا تو وہ سجدہ شکر میں گر گئے۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ لمحہ بالکل نہیں بھول سکتے۔

اس سال حج حفظان صحت کے سخت اصولوں کے تحت ادا کیا جائے گا۔

صرف ایسے عازمین کو حج کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن کی عمریں 65 برس سے کم ہیں اور انہیں کسی قسم کی بیماری لاحق نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نصر  کرونا کی وبا کو اپنے لیے خوش قسمتی قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 'وبا نہ ہوتی تو شاید میں حج کرنے والوں میں شامل نہ ہوتا۔ خدا کرے گا یہ مرض جلد ختم ہو جائے گا۔'

دوسری طرف ایسے عازمین حج جن کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں وہ اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔

ریاض میں رہنے والے فلسطینی شہری شاکر الجیوسی پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب سعودی حکام نے اعلان کیا کہ ہیلتھ ورکرز کو حج کی اجازت ہو گی انہوں نے سوچا کہ وہ کسی اور موقعے کے مقابلے میں زیادہ خوش قسمت ہیں لیکن افسوس کہ ان کا ہیلتھ ورکر ہونا ان کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہو سکا اور ان کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔

اس بار عازمین حج مکہ میں خانہ کعبہ کو نہیں چھو سکیں گے۔

کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حجر اسود کو بوسہ دینے پر بھی پابندی ہے۔

پانی پینے لیے بھی قواعد و ضوابط کو مد نظر رکھنا ہوگا۔

حج کی درخواست مسترد ہونے پر فلسطینی شہری فرح ابوشناب کے جذبات بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں وہ نو برس سے حج کے لیے کوشش کررہی ہیں لیکن کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اس بار انہوں نے حج کے لیے بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے سفر کا ارادہ ترک کر دیا اور حج کی درخواست دے جو منظور نہیں ہوئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا