پی آئی اے کے پائلٹوں کے امتحان میں ہیرا پھیری ہوئی تھی: غلام سرور

وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ 2012 میں پی آئی اے کے پائلٹوں کے امتحان کو ’مینیج‘ کیا گیا تھا، تاہم پی آئی اے کی نجکاری کا ارادہ نہیں۔

وفاقی وزیر غلام سرور نے کہا کہ سال 2012 میں پائلٹس کے امتحانات میں ہیرا پھیری کی مکمل تحقیقات ہوں گی، اس میں ملوث افراد اور سہولت کاروں سب کے خلاف کارروائی ہوگی اور مقدمات درج کیے جائیں گے۔ (اے ایف پی فائل)

 

وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے سینٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2012 میں پی آئی اے کے پائلٹوں کے امتحان میں ہیرا پھیری ہوئی اور انہیں پاس ورڈ دیے گئے تھے۔ 

انہوں نے جمعے کو اسلام آباد میں کہا کہ یہ امتحان ’مینیج‘ ہوا تھا، جس کی مکمل تحقیقات ہوں گی، اس میں ملوث افراد اور سہولت کاروں سب کے خلاف کارروائی ہوگی اور مقدمات درج کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’28 پائلٹس کے لائسنس کو ان کو سننے اور اعتراف جرم کے بعد منسوخ کیا گیا ہے۔ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں برابر کے مجرم ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کریں گے اور ماضی کی حکومتوں پر اس کی ذمہ داری نہیں ڈالیں گے۔

یاد رہے کہ گذشتہ غلام سرور نے کہا تھا کہ قومی ایئر لائن میں پائلٹ جعلی لائسنسوں پر کام کر رہے ہیں۔ اس بیان کے بعد دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں کے تحفظ اور سروسز کے معیار کو جانچنے والے ادارے ایئرلائن ریٹنگ نے پی آئی اے کی ریٹنگ کم کر کے اسے ون سٹار کر دیا تھا۔

اس کے مقابلے میں دنیا کی بہترین ایئر لائنز جیسے ایمریٹس اور اتحاد وغیرہ کی ریٹنگ سیون سٹار ہے۔

تاہم غلام سرور خان نے جمعے کو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ حکومت کا قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نج کاری کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ اسے ماضی کے ’سنہرے‘ دور میں تنظیم نو کے ذریعے لائیں گے۔

یہ بات انہوں نے آج مسلم لیگ ن کے سینٹر جاوید عباسی، پیپلز پارٹی کے رضا ربانی اور نیشنل پارٹی کے میر کبیر احمد شاہی کے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں کی۔

نوٹس میں حکومت سے یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کی جانب سے پی آئی اے کی پروازیں بند کرنے سے متعلق سرکاری حکمت عملی کی وضاحت مانگی گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے انسانی جانیں محفوظ بنانی ہیں اور قومی ایئرلائن کو ماضی کے سنہرے دور میں لے جانا ہے۔ ’اسے ہم ری سٹرکچر کریں گے۔‘

اس سے قبل مسلم لیگ ن کے سینیٹر جاوید عباسی نے حکومتی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوکری یا تبادلہ تو سفارش سے ہوسکتا ہے لیکن لائسنس ایسے نہیں دیے جاتے۔

انہوں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے یہ لائسنس اس وقت جاری کیے۔

اپنی ویب سائٹ پر ایئرلائن ریٹنگ نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی ریٹنگ میں کمی اس کے 150 پائلٹس کے پاس جعلی لائسنس ہونے کے انکشاف کے بعد کی گئی ہے۔

جاوید عباسی نے ’دنیا بھر میں ملک کا تماشہ‘ بنانے پر حکومت پر کڑی تنقید کی۔ ’باقی دنیا میں 164 پاکستانی پائلٹس کے لیے ہم نے خراب صورت حال بنا دی ہے۔‘

انہوں نے پوچھا کیا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تو اپنے بیان میں کہا ہے کہ پائلٹس کے لائسنس جعلی نہیں ہیں تو پھر حکومت ایسا کیوں کہہ رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت