’مجھے کہا گیا کچہری جانا ہے اور تم کو مسلمان کرنا ہے‘

انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں صائمہ نے بتایا کہ 24 فروری کو وہ اپنے گھر سے باہر دکان تک گئیں تو ملزم خالد ستی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گلی میں موجود تھا اور ان پر آوازیں کس رہا تھا۔

صائمہ دس روز بعد بازیاب کرائے جانے کے بعد اب اپنے شوہر کے ساتھ ہیں۔ تصویر: انڈپینڈنٹ اردو

گذشتہ ماہ اسلام آباد سے اغوا ہونے والی مسیحی خاتون صائمہ کے حوالے سے جوڈیشل انکوائری میں ان پر جسمانی تشدد، زیادتی اور زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ثابت ہوا ہے۔

25 فروری کو اغوا ہونے والی صائمہ دس روز بعد بازیاب ہو گئی ہیں اور اپنے گھر والوں کے پاس واپس اسلام آباد پہنچ بھی گئی ہیں تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ اب پہلے جیسی زندگی گزار پائیں گی یا نہیں۔

صائمہ کی شادی 2006 میں نوید اقبال کے ساتھ ہوئی جو ایک نجی کمپنی کے کال سینٹر میں رات کی شفٹ میں ملازمت کرتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں صائمہ نے بتایا کہ 24 فروری کو وہ اپنے گھر سے باہر دکان تک گئیں تو ملزم خالد ستی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گلی میں موجود تھا اور اُس نے آوازیں کسیں تو صائمہ نے اُسے برا بھلا کہا۔

’وہ ایک ہولناک شام تھی‘

صائمہ کہتی ہیں کہ ان کا اگلے دن بیٹا باہر گلی میں گیا تو اُس کو بلانے باہر تک آئی تو دیکھا خالد ستی تین آدمیوں کے ہمراہ دروازے کے باہر کھڑا تھا۔

’اس نے مجھے دھکا دیا اور میرے گھر کے پورچ میں مجھے تشدد کا نشانہ بنایا۔ مجھے کہا کہ چپ چاپ باہر کھڑی ٹیکسی میں بیٹھ جاؤ، شور کیا تو تمہارے بچوں کو مار دیں گے۔ وہ مجھے مارتے ہوئے بالوں سے گھسیٹ کر گاڑی تک لے کر گئے۔ گاڑی میں مجھے مکے مارے گئے اور پستول کے ساتھ مارتے رہے۔ مجھے خالد ستی نے کہا کہ تمہارے استقبال کے لیے اٹھارہ بندے اکٹھے کیے ہوئے ہیں۔‘

صائمہ بتاتی ہیں کہ وہ مسلسل فون پر کسی کے ساتھ بات کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا ’میں اُس کو لے کر آ رہا ہوں‘۔

’اس کے بعد گرجا گھر کے پاس واقع کسی گھر میں مجھے لے کر گئے جہاں تین مرد اور دو خواتین بھی موجود تھیں لیکن اُن خواتین نے مجھے بچانے یا مدد کرنے کی کوشش نہیں کی۔‘

صائمہ نے کہا: ’مجھے کمرے میں لے جایا گیا، مارا گیا اور نیند کی گولیاں کھلائی گیئں۔ مجھے ہوش نہیں رہا کہ جسم میں کہاں کہاں چوٹ لگی ہے۔ اگلی صبح خالد ستی نے مجھے کہا کہ کچہری جانا ہے اور تم کو مسلمان کرنا ہے میں نے جواب دیا کہ میں نے مسلمان نہیں ہونا۔ میری مزاحمت پر اُس نے میرے ساتھ زیادتی کی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ مجھے اُس کے بعد کچہری لے جایا گیا اور دھمکایا گیا کہ اگر وہاں زبان کھولی تو تمہارے شوہر اور بچوں کو مار دیں گے۔ ہمارے آدمی اُسی علاقے میں موجود ہیں۔‘

کیا صائمہ کی زندگی اب پہلے جیسی ہو سکے گی؟

وہ بہت سہمی ہوئی ہیں۔ میڈیا والوں سے نہیں ملنا چاہتیں۔ کھرنڈ لگے زخموں کو کھرچنا نہیں چاہتیں۔ بھولنا چاہتی ہیں، اپنے بچوں کے ساتھ نارمل زندگی گزارنا چاہتی ہیں، لیکن زخم بھرنے کے بعد بھی اُن زخموں کے نشان اُنھیں یہ سب کبھی بھولنے نہیں دیں گے۔

انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار سے صائمہ کی ملاقات اُن کے خیر خواہ عاشر کی مدد سے ہوئی، جنھوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ صائمہ شاید کیمرے کے سامنے نہ آئیں لیکن آپ پوچھ لیں اگر اُن کو کوئی مسئلہ نہ ہو۔

وہ ایک زیر تعمیر گھر تھا جس میں پینٹ بھی نہیں ہوا تھا اور نہ گھر کا کوئی باقاعدہ راستہ تھا۔

ہم ایک لکڑی کی سیڑھی پر چڑھ کر دروازے تک پہنچے اور اندر کمرے کی دوسری جانب اُترے۔ ماحول دیکھ کر اندازا ہوا کہ وہ یہاں کس مجبوری سے رہ رہی ہوں گی۔

کمرے میں ایک گدا اور دو کرسیاں رکھیں تھیں۔ خالی دیواریں اور سیمنٹ لگا فرش ساری کہانی سُنا رہا تھا۔

صائمہ کے شوہر نے ہمارے بیٹھنے کی جگہ بنائی۔ صائمہ کے تین بیٹے ہیں جن کی عمریں بلترتیب 13، 9 اور سات سال ہیں۔ تینوں بچوں نے آکر مصافحہ کیا۔ بچوں کو دیکھ کر اندازا ہو رہا تھا کہ وہ کس آرام دہ ماحول میں پروان چڑھے ہیں اور اب در در پھرنے پر مجبور ہیں۔

صائمہ کمرے میں آئیں تو صدمے کے باوجود کافی حوصلے میں لگ رہیں تھیں۔ ہم نے ویڈیو بنانے کی درخواست کی جسے اُنھوں نے نرمی سے منع کر دیا۔ بطور صحافی یہ میری زندگی کا مشکل انٹرویو تھا۔

جانتے ہوئے کہ جواب دینے والے کو کتنی تکلیف کے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے مجھے سوال پوچھنے پڑے۔ کچھ سوالوں کے جواب میں باوجود ضبط کے اُن کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ یقیناً اپنے اوپر بیتے ظلم کو دوہرانے سے بڑی تکلیف کیا ہو سکتی ہے۔

اب آپ حکومت سے کیا اپیل کرنا چاہتی ہیں؟ میرے سوال پر وہ شکستہ سی مسکرائیں اور گویا ہوئیں، ’میں کیا اپیل کر سکتی ہوں؟ صرف اپنی زندگی پہلے جیسی چاہتی ہوں، اپنے گھر میں اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ بغیر کسی خوف کے رہنا چاہتی ہوں اور یہ کوئی اتنی بڑی ڈیمانڈ نہیں ہے۔‘

صائمہ کے شوہر نوید نے کہا: ’ہم بھی اُتنے ہی پاکستانی ہیں اور ہمارا بھی اُتنا ہی حق ہے جتنا سب کا ہے۔ ہم ایک ہفتے سے زیادہ کسی ایک مقام پر رہ نہیں سکتے، ہمیں جگہ تبدیل کرنا پڑتی ہے کیونکہ مجرم ابھی تک آزاد گھوم رہا ہے۔‘ 

جوڈیشل انکوائری رپورٹ

صائمہ کے ابتدائی بیان سے انکاری ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے اسسٹنٹ کمشنر وسیم احمد خان کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری تشکیل دی جس نے صائمہ، ان کے شوہر نوید اقبال، ملزم خالد ستی، ٹیکسی ڈرائیور، دارالا امان کی لیڈی ڈاکٹر آمنہ، نکاح رجسٹرار، مولورہ پنڈی کچہری اور تھانہ کھنہ کے ملوث پولیس اہلکاروں کے بیانات لیے۔ دس افراد کے بیانات لینے کے بعد تقابلی جائزہ لیا گیا۔

لیڈی ڈاکٹر آمنہ کے مطابق: ’صائمہ کے طبی جائزے سے جنسی تشدد اور زیادتی ثابت ہے اور انھیں کافی اندورنی گہرے زخم دیے گیے ہیں‘۔ جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ کی روشنی میں تھانہ کھنہ کے ایس ایچ او سمیت تین اہلکاروں کو معطل کرنے اور انضباطی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسیحی خاتون کا اغوا اور مذہب کی جبری تبدیلی ثابت ہو چکی ہے اس لیے ملزم کے خلاف درج ایف آئی آر میں ’زنا بالجبر اور اغوا‘ کی دفعات بھی شامل کی جائیں گی۔ جبکہ نکاح خواں محمد علی کے بارے میں کمیشن نے کہا کہ انھوں نے قانونی ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نکاح پڑھایا جس کے باعث ان کا بطور نکاح خواں لائسنس منسوخ کردیا گیا ہے۔

نکاح باطل قرار

انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ صائمہ کو زبردستی مسلمان کرنے کی کوشش کی گئی اور اسلام جبر کی اجازت نہیں دیتا اور مذہب تبدیلی کا جو حلف نامہ جمع کرایا گیا ہے اُس پر کسی اوتھ کمشنر کے دستخط موجود نہیں ہیں لہذا نکاح باطل قرار دیا جاتا ہے۔

صائمہ اقبال کے شوہر نوید اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم اب دربدر پھر رہے ہیں کسی بھی ایک ٹھکانے پر زیادہ دن نہیں رہ سکتے۔ کبھی کسی رشتہ دار اور کبھی کسی دوست کے گھر میں پناہ لیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی ہے کہ ہمیں تخفظ فراہم کیا جائے لیکن پولیس اہلکاروں پر بھروسہ نہیں ہے۔‘

نوید نے کہا کہ پارلیمان میں مسیحی برادری کے نمائندے اتنے فعال نہیں ہیں شاید اسی لیے ہمارے لیے کوئی آواز نہیں اُٹھاتا۔

تاہم تین اپریل کو آئی جی اسلام آباد نے ایس پی صدر نعیم کی سربراہی میں چار رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جو جوڈیشل انکوائری رپورٹ کو بنیاد بنا کر کیس پر قانونی کارروائی آگے بڑھائے گی اور موجودہ ایف آئی آر میں مزید دفعات کو شامل کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین