’اپنے ملک کے بارے میں گوروں سے رائے لینا بند کردیں‘

وزیر سیاحت خیبرپختونخوا عاطف خان کی جانب سے منعقد کرائے گئے ٹورزم سمٹ میں صرف غیرملکی وی لاگرز کو مدعو کیے جانے پر سوشل میڈیا پر صارفین نے کافی تنقید کی۔

غیر ملکی وی لاگرز  کی وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات ہوئی۔ تصویر: بشکریہ عاطف خان انسٹاگرام اکاؤنٹ

خیبرپختونخوا کی حکومت صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے کوشاں ہے، جس کے لیے اکثر وبیشتر مختلف منصوبوں اور پروگرامز کا انعقاد بھی کیا جاتا رہتا ہے۔ حال ہی میں صوبائی وزیر سیاحت عاطف خان کی جانب سے ایک دو روزہ ٹورزم سمٹ منعقد کیا گیا، جس میں سوشل میڈیا پر متحرک بلاگرز اور وی لاگرز کو مدعو کیا گیا تھا۔

اسلام آباد کنونشن سینٹر میں دو اور تین اپریل کو ہونے والا یہ سمٹ اگرچہ پاکستان کی مثبت ساکھ اجاگر کرنے کے لیے بہترین تھا لیکن اس میں جن بلاگرز اور وی لاگرز کو بلایا گیا، وہ سب کے سب غیرملکی تھے، یعنی ملکی ثقافت کی نمائندگی کے لیے کسی پاکستانی سوشل میڈیا بلاگر کو بلانے کی زحمت نہیں کی گئی۔

سمٹ میں شرکت کرنے والے غیر ملکی وی لاگرز میں ٹریور جیمز، روزی گبریال، ایوا زو بیک، الیکس، امل لیم لوم اور مارک وینز شامل تھے، جن کی وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات ہوئی۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Highlights of Social Media Influencers meeting with Prime Minister Imran Khan

A post shared by Atif Khan Official (@atifkhan_pti) on

تاہم سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کافی لے دے ہوئی کہ پاکستان میں ہونے والے ایک ٹورزم سمٹ میں ان مقامی بلاگرز اور وی لاگرز کو کیوں نہیں بلایا گیا، جو پہلے ہی ملک کی خوبصورتی اور مثبت پہلو اجاگر کرنے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔

نادیہ نامی خاتون کا کہنا تھا: ’پاکستان کا امیج پاکستانی لوگ زیادہ بہتر انداز میں اجاگر کرسکتے ہیں، آپ ایک ملک کی تشہیر اس کے لوگوں کی شمولیت کے بغیر نہیں کرسکتے۔‘

زین راجپوت نامی انسٹاگرام صارف نے وزیر سیاحت کو مخاطب کرکے سوال کیا: ’وی لاگرز کی فہرست میں مورو اور یو خانو کا نام کہاں ہے؟ ایک وزیر کی حیثیت سے یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ ان لوگوں کو بھی لسٹ میں شامل کریں۔‘

انسٹاگرام پر اپنے تبصرے میں لینا بٹ نے لکھا، ’اس طرح کے سمٹ میں مقامی آوازوں کو بھی شامل کرنا ضروری تھا۔ اپنے ملک کے بارے میں گوروں سے رائے لینا بند کردیں۔‘

ضرار نامی ایک انسٹاگرام صارف نے لکھا، ’کاش میں بھی گورا (سفید فام) ہوتا۔ میں کئی سالوں سے پاکستان کی تشہیر کر رہا ہوں لیکن میری کبھی وزیراعظم سے ملاقات نہیں ہوئی۔‘

ایسے میں مورو کے نام سے مشہور پاکستانی بلاگرز تیمور صلاح الدین  سامنے آئے اور انہوں نے اس حوالے سے اپنے موقف کی وضاحت کی۔

مورو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا، ’غیر ملکی وی لاگرز ہی درست انداز میں بین الاقوامی سیاحت کی تشہیر کرسکتے ہیں۔ مقامی وی لاگرز کو اپنے ملک سے محبت ہے اور ہمیں سپورٹ کی ضرورت نہیں۔ دوسروں کو پاکستان کی تشہیر کرنے دیں، یہ ہمارے مفاد میں ہے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ