مجھے اپنے بچوں کے سکرین ٹائم پر نظر رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں

اگر میرے بچوں کو میری طرح سکرین ٹائم میں سکون ملتا ہے تو مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں، سائنس بھی یہی کہتی ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق سمارٹ فون، ٹیبلٹ یا ٹی وی  کے استعمال سے  بچوں کی صحت پر کسی برے اثرات  کا ثبوت نہیں ملا۔

اچھا ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق کے مطابق ٹین ایجرز کے لیے سمارٹ فون اور ٹیبلٹ کا استعمال یا ٹی وی دیکھنا درحقیقت ان کی صحت خصوصاً ذہنی صحت کے لیے برا نہیں ہے جبکہ اس کے برعکس ماضی میں محققین کا کہنا تھا کہ یہ عادات خراب امتحانی نتائج اور تجسس میں کمی کا سبب بن سکتی ہیں۔

اس نئی تحقیق نے امریکہ، برطانیہ اور آئرلینڈ میں پہلے سے موجود ڈیٹا کو استعمال کیا اور ان آلات کے استعمال سے صحت پر کسی برے اثر کا ثبوت نہیں ملا۔ رائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے میکس ڈیوی کہتے ہیں کہ ’سکرینز کے استعمال اور بچوں کی صحت کے بارے میں تنازع ڈیٹا سے متعلق بہت زیادہ رائے کی وجہ سے ہمیشہ رہا ہے۔‘

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ’تجزیہ مضبوط ہے، جو اس حوالے سے بھی سوال اٹھاتا ہے کہ سونے سے قبل سکرین کا استعمال خاص طور سے نقصان دہ ہے۔‘

یہ سب کچھ میرے لیے کافی اطمینان بخش ہے کیونکہ ہمارے گھر میں سکرینز کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہے – سونے سے پہلے یا کسی بھی وقت۔ ٹی وی بھی مختلف سرگرمیوں کے دوران دیکھا جاتا ہے کیونکہ میرے دو بہت متحرک بیٹے ہیں اور بعض اوقات بڑوں کو کپڑے دھونے، ڈنر تیار کرنے یا علی الصبح بڑی کافی کے پیچھے چھپنا ہوتا ہے یا پھر اپنے فون پر کسی سے بات کرنی ہوتی ہے۔

میں جب بھی دیگر والدین کے بارے میں سنتی ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو میرے مقابلے میں سکرین کا بہت کم استعمال کرنے دیتے ہیں تو مجھے برا محسوس ہوتا ہے، میں نے نجی طور پر سکرین کے برے ہونے کی دانش پر سوال اٹھائے ہیں، کیونکہ میں خود ایک اداس ٹین ایجر رہی ہوں اور سکرین ٹائم میرے لیے بہت مددگار ثابت ہوتا تھا۔

میرے نوعمری کے دن نقصان، دھونس اور اکیلے پن پر مبنی تھے اور بغیر یہ جانے، کہ میں ایک ذہنی و دماغی صحت کی بیماری جس کی تشخیص ابھی ہونا تھی، میں مبتلا ہوں، گھوم پھر رہی تھی۔ میں سمارٹ فونز اور ٹیبلٹ سے قبل کے زمانے کی پیداوار ہوں – اُس وقت میں فلموں میں کھو جایا کرتی تھی، ٹی وی کامیڈی شوز میرا موڈ بہتر کرتے تھے اور کمپوٹر گیم میری دماغی ورزش میں مدد دیتے تھے، جو میں کہیں اور نہیں کرسکتی تھی۔ یہ سب میری زندگی بچانے والی چیزیں تھیں۔ کتابوں اور موسیقی کے برعکس (جو مجھے پسند تھیں) مجھے گھومتے پھرتے توجہ ایک جگہ مرکوز کرنے کی ضرورت نہیں تھی اور ان کی بدولت میں اپنی مسائل والی دنیا سے دور کہیں کھو جاتی تھی۔

سکرینوں نے مجھے بلوغت میں بھی مدد دی۔ میں سماجی دباؤ سے متاثرہ اپنے آپ میں مگن ایک شخصیت تھی اور کسی سے ملنے کی بجائے سکرین کے پیچھے سے محفوظ طریقے سے بات کرنا پسند کرتی تھی۔ پھر ماں بنے کے فوری بعد کے دنوں میں جہاں میں ایک بچے کے ساتھ مصروف تھی اور میرا زچگی کے بعد کی ڈپریشن سے سامنا تھا، یہ سوشل میڈیا ہی تھا، جس کے ذریعے میں ایسے افراد سے آمنے سامنے ملی جو اب زندگی بھر کے لیے میرے دوست ہیں۔

لہذا اگر میرے بچے بھی میری طرح ہیں اور سکرین میں (اپنی وسیع تر زندگی میں) سکون پاتے ہیں تو مجھے اس میں کوئی مسئلہ دکھائی نہیں دیتا۔ میری مراد زیادہ پیچیدہ تشویش سے نہیں جو خطرناک آن لائن مواد کو دیکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

ہاں میں نہیں چاہتی کہ میرے بچے یو ٹیوب زومبی بن جائیں لیکن ہمارے گھر میں سکرین ٹائم اکیلی سرگرمی ہے۔ اگر ٹی وی چل رہا ہے تو بچے اس کے سامنے کھیل رہے ہوتے ہیں اور ہم اس پر بات کرتے ہیں کہ سکرین پر کیا ہو رہا ہے۔ یہ سکرینیں میرے بچوں کی زندگی کا باقاعدہ حصہ رہیں گی لہذا میں ان کے استعمال کو، جس حد تک ہوسکا معمول کا حصہ بنانے کی خواہش مند ہوں۔

میرے بڑے بیٹے کی ادبی اور نمبروں کے ساتھ مہارت، انسائکلوپیڈیا اور قبل از تاریخ کے بڑے جانوروں سے متعلق معلومات سے اس کی نرسری کے اساتذہ کافی متاثر ہیں۔ میں انہیں نہیں بتاتی کہ اس نے یہ سب معلومات یو ٹیوب کے بچوں کے چینل سے سیکھی ہیں۔

میں بہت خوش ہوں کہ سکرین ٹین ایجرز کی صحت کے لیے مضر نہیں کیونکہ میرے بچے اس وقت ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہیں اور ان میں سے ایک کے پاس آئی پیڈ ہے۔

ان دونوں میں سے کوئی بھی ابھی ٹین ایجر نہیں ہے – ایک چار سال کا جبکہ دوسرا اٹھارہ ماہ کا ہے – لیکن میں ابھی اپنا ڈش واشر بھرنے لگی ہوں جس میں عموماً کافی وقت لگتا ہے، تو کسے معلوم جب تک میں فارغ ہوتی ہوں، وہ کس عمر کے ہوچکے ہوں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ