جاپانی صوبے اکیتا کے لوگوں میں جینے کی خواہش کیسے پیدا ہوئی؟

جب 2003 میں اکیتا میں خود کشی کرنے والوں کی تعداد 34 ہزار 427 تک جا پہنچی تو پالیسی ساز پریشان ہوگئے، حتیٰ کہ عالمی توجہ بھی جاپان کی جانب مرکوز ہوگئی۔

تائیکو وتانابے کے  29 سالہ بیٹے نے 2008 میں خودکشی کرلی تھی۔ تصویر: روئٹرز

تائیکو  وتانابے مارچ کی سرد رات کو بیدار ہوئیں تو انہیں ہال کی طرف جانے والے راستے پر خون کی ایک لکیر نظر آئی۔ خون سے بھرا بغدا ان کے بیٹے یوکی کے بستر پر پڑا تھا جبکہ بیٹا غائب تھا۔ اس کے بعد پولیس کو اس کی خواب گاہ میں خود کشی کی تحریر ملی۔

اپنے بیٹے یوکی کی تصویر کے ساتھ بدھ متوں کی قربان گاہ کے قریب بیٹھی تائیکووتانابے نے نم آنکھوں کے ساتھ خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’وہ انہیں عبادت گاہ کے قریب نہر سے ملا، جسے انھوں نے کمبل میں لپیٹ دیا۔ پوسٹمارٹم کے بعد وہ تابوت میں گھر آیا۔ میں ٹوٹ کر رہ گئی تھی۔‘

2008 میں موت کے وقت یوکی کی عمر 29 برس تھی ۔ وہ ان بہت سے لوگوں میں سے ایک تھا جنہوں نے اُس سال جاپانی دارالحکومت ٹوکیو کے شمال میں ساڑھے چار سو کلومیٹر دور واقع صوبے اکیتا میں خود کشی کی۔

تقریباً دو دہائیوں سے صوبہ اکیتا میں خود کشی کرنے والوں کی شرح جاپان میں سب سے زیادہ تھی جبکہ جی سیون ممالک میں جاپان میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

وتانابے کے مطابق: ’اب صورت حال تبدیل ہوگئی ہے۔ اگر اس کے بیٹے کو اس صورت حال کا اُس وقت سامنا ہوتا تو وہ کبھی نہ مرتا۔ ایسے لوگ موجود ہیں جوصورت حال کو بگڑنے سے روک سکتے ہیں۔‘

بیٹے یوکی کی موت کے بعد خود وتانابے نے بھی خود کشی کا سوچا تھا، لیکن اب وہ اُس گروپ کی سربراہ ہیں جس کے ارکان لوگوں کو خود کشی سے باز رکھنے کے حوالے سے کوششیں کرتے ہیں۔ یہ گروپ قومی سطح پر اُن کوششوں کا حصہ ہے جن کی بدولت 15 برس میں خودکشیوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ یہ تعداد حکومتی ہدف سے زیادہ ہے۔

ایک جامع منصوبے کے ساتھ خودکشی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے قومی سطح کی کوششوں کا آغاز 2007  میں اس وقت ہوا جب ماہرینِ تعلیم اور حکومتی اداروں نے خطرے سے دوچار گروپوں کی نشاندہی کی۔ 2016 میں علاقوں کو مقامی سوچ سے مطابقت رکھنے والے منصوبوں کی تیاری کے لیے مزید آزادی دی گئی۔  کام کی وجہ سےخود کشی کرنے والے ملازمین کے خاندانوں نے کارپوریشنز کے خلاف مقدمات دائر کیے جس کے بعد چھٹی لینے کا عمل آسان بنایا گیا، نفسیاتی مدد زیادہ کی گئی اور اوورٹائم کو محدود کیا گیا۔ حکومت نے ایسی کمپنیوں کے لیے جہاں ملازمین کی تعداد 50 سے زائد ہے، دباؤ کا سالانہ ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا۔

جاپان میں خودکشیوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ شرمندگی اور بے عزتی سے بچنے کے لیے خود کشی کرلی جاتی تھی جبکہ نفسیاتی مدد لینا بدنامی کا سبب سمجھا جاتا تھا۔

جب 2003 میں خود کشی کرنے والوں کی تعداد 34 ہزار 427 تک جا پہنچی تو پالیسی ساز پریشان ہوگئے۔ دوسرے ملکوں کی توجہ بھی جاپان میں اس مسئلے کی طرف ہوگئی۔ غیرملکی توجہ جاپان میں اکثر اوقات صورت حال کو تیزی سے تبدیل کرتی ہے۔

اکیتا کے علاقے میں خودکشیوں پر قابو پانے کے پروگرام کے انچارج سرکاری ملازم ہیروکی کوسیکی کہتے ہیں کہ کافی عرصے تک یہی سمجھا جاتا رہا کہ خود کشی ایک ذاتی مسئلہ ہے۔ اس لیے حکومت نے اس کے حل کے لیے کچھ نہیں کیا۔

غریب، معمر اور تنہا

خود کشی کی متعدد وجوہات ہیں لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اکیتا کے لیے بہت ساری وجوہات ہے۔ ایک تو یہ علاقہ دورافتادہ ہے۔ یہاں ملازمین کی کمی ہے۔ سردیاں طویل ہیں۔ بڑی تعداد میں معاشرے سے کٹے ہوئے اور معمرافراد کی کثرت سمیت بڑھتا ہوا قرضہ بھی خودکشیوں کی وجوہات میں شامل ہیں۔

1999 میں خودکشیوں کے خاتمے کے لیے بجٹ مختص کرنے والے اکیتا کے گورنرجاپان میں پہلے گورنر بن گئے۔ ذرائع ابلاغ کی مثبت کوریج کی بدولت خود کشی کے خلاف کام کرنے والے شہریوں اور رضا کاروں کے گروپ تیزی سے ابھرے۔ اکیتا کی آبادی نو لاکھ 81 ہزارہے اور یہاں خود کشی کے خلاف مدد کے لیے شہریوں کا سب سے بڑا نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔

جاپان کے امدادی مرکز برائے انسداد خودکشی کے ڈائریکٹر یوکاتا موتوہاشی کہتے ہیں کہ خود کشی چونکہ ذاتی مسئلہ ہے، اس لیے حکومتوں کا موقف تھا کہ اسے روکنے کے لیے ٹیکس کا پیسہ استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے نمایاں تبدیلی اکیتا میں آئی اور باقی جاپان نے اس کی تقلید کی، مایوسی کا شکار لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے اور صحت کے کارکنوں نے خطرے سے دوچار گروپوں پر نظر رکھی۔

ہیساوساتو جیسے رضا کاروں نے انسداد خودکشی پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ہیسا وساتونے سن 2000 میں کاروبار کی ناکامی کے بعد کئی سال تک مایوسی کا مقابلہ کیا تھا۔

75 سالہ ہیساو ساتو، جن کے اپنے والد نے شاید خود کشی کی تھی، کہتے ہیں کہ اس دوران ان کے ایک دوست نے پُل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کرلی تھی جبکہ دوسروں کی کمپنیاں ناکام ہوگئی تھیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں غصے میں تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ انھیں خود کشی کا راستہ چننے پر مجبورکیا جائے۔‘ انہوں نے 2002 میں کومونائتواور سپائیڈر ویب کے نام سے وکلا اورمالیاتی ماہرین کے دو نیٹ ورک قائم کیے، جن کا کام لوگوں کی عملی طور پر مدد کرنا تھا۔

ہیساوساتو کو 60 فیصد فنڈز اکیتا حکومت فراہم کرتی ہے جبکہ باقی عطیات ہیں۔ پارلیمنٹ ان کے نیٹ ورک کی طرح کا قومی ادارہ بنانے کے لیے قانون تیار کر رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کاروبار کی ناکامی محض ایک مالی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ بھی ہے۔

نظر رکھنے والے

اکیتا کے علاقے میں نظر رکھنے والوں کا ایک پھیلتا ہوا نیٹ ورک قائم ہے۔ اس نیٹ ورک میں شامل تربیت یافتہ افراد اُن لوگوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو خودکشی کے بارے میں سوچ رہے ہوں اور اگر ضروری ہو تو ایسے لوگوں کے ساتھ رابطہ کرکے انھیں مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔

کوئی بھی شخص انسداد خودکشی نیٹ ورک کا حصہ بننے کے لیے اکیتا کے صحت عامہ کے شعبے کی جانب سے کئی گھنٹے کی تربیت لے سکتا ہے۔

امدادی مرکزبرائے انسداد خودکشی کے ڈائریکٹر یوکاتا موتوہاشی کے مطابق یہ ہرکسی کا مسئلہ ہے۔

جاپان کے حجاموں کی ایک تنظیم نے اپنے ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ انسداد خود کشی کی تربیت حاصل کریں تاہم ابھی محض چند لوگ ہی ایسا کرپائے ہیں۔ اکیتا میں 2017 میں سے 300 لوگوں کو تربیت دی جاچکی ہے جبکہ ہدف کے مطابق 2022 تک دس ہزار یا ہر سو میں ایک شخص کو تربیت دی جائے گی۔

اکیتا میں رضاکارکام کرتے ہیں جو دوسروں کی بات سنتے ہیں۔ 79 سالہ اومے ایتو خودکشی کے خطرے سے دوچار افراد، جن میں سے کئی عمر رسیدہ ہیں کی ایک وقت میں کئی گھنٹے تک باتیں  سنتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جن لوگوں ان کا واسطہ پڑتا ہے ان میں 70 سے 80 فیصد کہتے ہیں کہ وہ مرنا چاہتے ہیں لیکن جب وہ باتیں کرتے ہیں تو وہ خود کشی کے بارے میں سوچنا بند کردیتے ہیں اوربالآخر کہتے ہیں کہ مجھے امید کہ آپ مجھ سے ملاقات کرتی رہیں گی۔‘

وہ جن افراد سے ملتی ہیں ان میں سے ایک 73 سالہ سومیکو ہیں جو بیماری کے باعث بستر پر ہیں۔ وہ کافی عرصے سے دن میں تنہا ہوتی ہیں جبکہ ان کے بیٹے کا خاندان رات کو گھر واپس لوٹتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے سوچا کہ کیا میں اپنی باقی زندگی بستر پر ہی گزاروں گی۔ کیا میرے لیے یہی سب ہے؟ میرا خیال تھا کہ میں پاگل ہوجاؤں گی۔‘

سومیکونے مسکراتے ہوئے اومے ایتوسے کہا کہ اگر وہ نہ آتیں تو ان کے لیے بڑی مشکل ہوتی کیونکہ ان کے دل میں جو کچھ ہے وہ سب کچھ وہ اپنے خاندان سے نہیں کہہ سکتیں۔ اس طرح تاریکی موجود رہتی ہے۔ ’میں اپنے بیٹے سے کہتی ہوں کہ میری بات سنی گئی اس لیے میں زندہ ہوں۔‘

ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق اکیتا میں خود کشی کرنے والوں کی شرح میں خاصی کمی آئی ہے۔ 2003 میں یہ شرح ایک لاکھ میں 44.6 فیصد تھی جو کم ہو کر 2018 میں 22.7 فیصد ہوگئی۔ یہ نمایاں بہتری ہے لیکن اس کے باوجود قومی سطح پرخودکشی کی شرح میں اکیتا چھٹے نمبر پر ہے۔

جاپان میں خود کشیوں کی شرح اب کم ہو کر 20 ہزار 598 ہوگئی ہے جبکہ ایک لاکھ افراد میں سے27 فیصد خودکشیوں کا تناسب کم ہو کر 16.3 ہوگیا ہے۔ حکومت نے 2027 تک یہ ہدف تیرہ فیصد مقرر کیا ہے۔

کامیابی کے سائے

2018 میں 19 برس اوراس سے کم عمر کے 543 جاپانیوں نے خودکشی کی۔  یہ تعداد گذشتہ 30 برس میں سب سے زیادہ ہے۔ 2017 کے انسداد خود کشی منصوبے میں نوجوانوں کی خود کشی کو وہ اہمیت دی گئی جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

وزارت صحت میں انسداد خود کشی پر کام کرنے والے ریوسوکے ہاگی وارا کے مطابق کئی سکولوں اور اکثر پرائمری سطح پر رہنمائی کرنے والوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

اکثرجونیئر ہائی سکول تک کے جاپانی نوجوان سماجی سرگرمیاں ترک کرکے توجہ سکول کے معاملات پر مرکوز کرلیتے ہیں، اس طرح رہنمائی کرنے والوں کی ان تک رسائی محدود ہوجاتی ہے۔

ناکاسن امن انسٹی ٹیوٹ میں خود کشی پرتحقیق کرنے والے یوشیاکی تاکاہاشی کہتے ہیں کہ عین اُس وقت جب نوجوانوں پردباؤ بڑھتا ہے اوران کی دنیا تنگ ہونے لگتی ہے تو رہنمائی کرنے والوں کی رسائی بھی محدود ہوجاتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں اس مسئلے سے نمٹنا ہوگا۔

دوسری جانب وزارت تعلیم نے سکول کے بچوں کے لیے پمفلٹ تیارکیے ہیں جن میں بنائے گئے کارٹونوں کی مدد سے وہ اپنی کیفیت کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ دباؤ میں کمی کے طریقوں جیسا کہ گہراسانس لینا اورمدد کی حوصلہ افزائی بھی ان پمفلٹس کا حصہ ہے۔ اکیتا کے نیشنل رجسٹریشن آفس کا کہنا ہے کہ اگر ہم بچوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ مدد لینا درست ہے اور مستقبل میں بھی انھیں اس کی ضرورت ہوگی تو یہ بہترہوگا۔ بالغوں کی اس طرح تربیت کرکے مستقبل میں خودکشیوں میں کم کی لائی جا سکتی ہے۔


 

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین