انقلاب کے بعد ایران باقی عرب ملکوں سے الگ تھلگ کیسے ہوا؟

ایران میں 'اسلامی انقلاب' کی فتح کے بعد جب عرب دنیا میں 'سیاسی اسلام' کے پیروکاروں نے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو اقتدار میں دیکھا تو وہ ایسی ہی طاقت حاصل کرنے کی لالچ میں آ گئے اور انہوں نے ایرانی انقلاب کو ایک مثال بنا کر اس کی پیروی کرنا چاہی۔

انقلاب سے قبل پہلوی خاندان کی حکومت کا دوسرا دور عین وہی وقت تھا، جب برطانوی سلطنت سے خلیج فارس پر واقع چند عرب ریاستوں کو آزادی ملی تھی۔(فائل تصویر: اے ایف پی)

ایران کے پڑوسی عرب ممالک پر ایرانی انقلاب کے اثرات سمجھنے کے لیے ماضی میں پہلوی دور حکومت کے دوران عرب پڑوسیوں کے ساتھ ایرانی تعلقات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

انقلاب سے قبل پہلوی خاندان کی حکومت کا دوسرا دور عین وہی وقت تھا، جب برطانوی سلطنت سے خلیج فارس پر واقع چند عرب ریاستوں کو آزادی ملی تھی۔

اگرچہ ان ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات اس وقت کسی مثالی سطح پر نہیں تھے لیکن اس قدر تناؤ بھی موجود نہیں تھا، جو اب ہے۔

سیاسی اور نسلی تنازعات کے باوجود بحرین، متحدہ عرب امارات یا اسرائیل کے ساتھ اگر کوئی اختلاف ہوتا تو اسے ایران ہمیشہ سیاسی رابطوں اور سفارت کاری کے ذریعے نمٹاتا۔

حالانکہ اسرائیل عرب جنگ بھی جاری تھی لیکن ایران کے تمام تر معاملات سیاسی فریم ورک کے اندر رہتے تھے اور انہیں ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھایا جاتا تھا۔

ایران میں انقلاب کی فتح اور مذہبی علما کے اقتدار کے بعد عرب ایک نئے نظام اور ایران سے خوشگوار تعلقات کے بارے میں پر امید تھے۔

ان کے خیال میں یہ ایک ایسی حکومت تھی جو اسلامی بنیادوں پر عرب-ایران تعلقات کو مستحکم کرسکتی تھی۔ خاص طور پر چونکہ یہ طبقہ ہمیشہ اسلامی بھائی چارے کا نعرہ دہراتا تھا، اس لیے بھی عرب دنیا کو ایسا گمان تھا۔

لیکن دو سال سے بھی کم عرصے میں عربوں کو یہ احساس ہو گیا کہ ان کی یہ امید باطل ہے اور عرب قومی سلامتی کے لیے ایران میں نئی ​​حکومت کا قیام پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ نئی ایرانی حکومت نے نسلی عوامل کے علاوہ سیاسی کھیل میں ایک اور نیا عنصر متعارف کروا دیا جو مذہبی فرقہ واریت کا تھا۔

ایرانی انقلاب سے قبل مذہب کے عنصر یا اس حوالے سے کسی تنازعے کا خلیجی کثیر المذہبی برادریوں کے سماجی تعلقات پر کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا تھا۔ جس طرح تاریخی طور پہ اس وقت سرحد پار مذہبی تعلقات کے حوالے سے  بھی کوئی بات سنائی نہیں دیتی۔

لیکن انقلاب کے بعد ان فرقوں کے بیج ایرانی حکومت نے بونا شروع کر دیے۔ اسی وجہ سے آج ہم کثیر المذہبی عرب معاشروں خصوصاً عراق اور شام جیسے ممالک میں عدم تحفظ اور عدم استحکام کا راج دیکھتے ہیں اور یہاں موجود مذہبی تنازعات اور فرقہ وارانہ منافرت کا عام مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

ایک اور نیا معاملہ جو ایرانی انقلاب کے بعد خطے کے سیاسی منظر نامے میں ابھرا، وہ نام نہاد سیاسی اسلامی تحریکوں کا عروج اور سیاسی مقاصد یا منصوبوں کے حصول کے لیے مذہب کو بطور آلہ استعمال کرنا تھا۔

چونکہ انقلاب کے بعد ایران میں نیا حکمران طبقہ، خاص طور پر اس کے قائدین مصریوں کی اخوان المسلمون تحریک سے متاثر تھے، لہذا انہوں نے کئی دہائیوں تک اس تحریک کے ساتھ قریبی تعلقات کو فروغ دیا اور ترجموں کے ذریعے ایران میں اخوان المسلمون کے نظریات کو فروغ دینا شروع کیا۔

انہوں نے اخوان المسلمون کے سیاسی نعرے بھی ایران میں رائج کیے۔

اس طرح ایران میں 'اسلامی انقلاب' کی فتح کے بعد جب عرب دنیا میں 'سیاسی اسلام' کے پیروکاروں نے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو اقتدار میں دیکھا تو وہ ایسی ہی طاقت حاصل کرنے کی لالچ میں آ گئے اور انہوں نے ایرانی انقلاب کو ایک مثال بنا کر اس کی پیروی کرنا چاہی۔

وہ عرب ممالک میں سیاسی نظام کو تبدیل کرنا اور ایرانی تجربے کی بنیاد پر ایک نیا نظام قائم کرنا چاہتے تھے۔

ایرانی انقلاب کی تقلید اور انقلابی سیاست کے ذریعے اقتدار کی پیاس عرب معاشرے میں مختلف شکلوں میں نمودار ہوئی۔

پہلا ایک شدت پسند گروہ تھا جس کے کئی سیاسی محرکات اور مذہبی تضادات تھے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ مہدی آرمی آخری حق پرست جماعت ہے۔ اس گروہ کی سربراہی کرنے والے جهیمان العتیبی نے 1979 میں دو ہفتے تک خانہ کعبہ پر قبضہ جاری رکھا۔

کعبہ کا محاصرہ اور ایران کے انقلاب میں جو کچھ ہوا اس کے مابین مشترکہ نکتہ سیاسی مقاصد کے لیے مذہبی جذبات کو بطور آلہ استعمال کرنا تھا۔ یہ ایک قسم کا سیاسی نظریہ ہے جسے 'سیاسی اسلام' کہا جاسکتا ہے۔

ایرانی انقلاب کے بعد اس خطے میں جو تیسرا واقعہ سامنے آیا وہ شدت پسند گروہوں کی تشکیل کا رجحان تھا، ایسے گروہ جن کے پیچھے بظاہر کوئی ریاست نہیں تھی۔

1980 کی دہائی کے آغاز سے ہی ایرانی حکومت نے شدت پسند ملیشیا تشکیل دے دیا۔ لبنان اور حجاز میں حزب اللہ، بحرین میں حزب اللہ، زینبیون، فاطمیون، عراق میں حشد الشعبی اور ایسے ہی دوسرے گروہ سامنے آنا شروع ہو گئے۔

چند سال قبل الشرق الاوسط اخبار نے 1979 میں سی آئی اے کی جاری کردہ رپورٹ کا ایک حصہ شائع کیا جس کے مطابق، سی آئی اے کے تجزیہ کاروں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے کئی عرب ممالک کی سلامتی اور استحکام میں خلل ڈالنے کے لیے ان ممالک میں موجود شیعہ اقلیتوں کو اپنے توسیع پسندانہ عزائم میں استعمال کیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ایران نے ابتدائی طور پر بحرین اور کویت میں مذکورہ اقلیت کے ذریعے دونوں ممالک کی حکومتوں کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب مسلح گروہوں کی تشکیل کے رجحان نے عرب ممالک کے کچھ نوجوانوں پر بہت اثر ڈالا ، جس کے نتیجے میں وہ 'صحوہ' یا 'بیداری' کے نام سے قائم مختلف تنظیموں کی طرف راغب ہوگئے اور ایران انہیں 'اسلامی بیداری' کے طور پر شہہ دیتا رہا۔

یقینا افغانستان کی جنگ نے بھی اس رجحان کے ظہور میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اس کی جڑیں بھی بے لگام مذہبی جوش و خروش میں ایرانی انقلاب اور اخوان المسلمون کے ساتھ پیوست تھیں اور یہ سب 'سیاسی اسلام' کی چھتری تلے ہو رہا تھا۔

اب تک ، ایرانی حکومت انقلاب کو برآمد کرنے اور اپنے توسیع پسندانہ منصوبوں کے لیے مختلف گروہوں کا استعمال کرتی رہی ہے لیکن عربوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کا ہتھیار نسل پرستی ہے۔

اپنے ان منصوبوں سے ایران میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے ایرانی حکومت فارسی سلطنتوں کے ماضی کی تکرار کرتی ہے اور اپنے مسلسل منفی پروپیگنڈے کے ذریعے ایرانی عوام کی نظر میں عرب ماضی و حال کی منفی تصویر پیش کرتی ہے۔

یقیناً اس حکمت عملی میں ایرانی حکومت نسبتازیادہ کامیاب رہی ہے۔


(اس مضمون کے مندرجات مصنف کی اپنی آرا ہیں، ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ )

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ