مسافر کی بس ہوسٹس سے بدتمیزی، معاملے کی تحقیقات شروع

مسافر نے پانی کی دو بوتلیں دینے سے انکار پر خاتون میزبان سے غیر اخلاقی زبان استعمال کی اور انہیں ڈرایا، دھمکایا۔

لاہور سے اسلام آباد جانے والی ایک نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کی بس میں معمولی سی تکرار پر مسافر نے خاتون میزبان سے غیر اخلاقی زبان استعمال کرتے ہوئے انہیں ڈرایا اور دھمکایا۔

موٹر وے پولیس حکام کے مطابق، اتوار کی شام پیش آنے والے واقعہ کے بعد بس ہوسٹس نے 130 پر کال کر کے موٹر وے پولیس کو اپنی شکایت درج کرائی، جس پر موٹر وے پولیس نے شیخوپورہ کے قریب بس کو روکا اور موٹر وے پولیس کی ایک خاتون اہلکار نے مذکورہ مسافر کو بس سے اتار کر بس کو اسلام آباد کے لئے روانہ کر دیا۔

بس میں موجود مسافوں نے واقعہ کی ویڈیو بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس میں ہوسٹس کو روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ 

 موٹر وے پولیس نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے مکمل قانونی کارروائی نہ کرنے پر موٹر وے افسران اور خاتون اہلکار کو فوری معطل کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

موٹر وے پولیس کے ترجمان کے مطابق خاتون اہلکار نے کاغذی کارروائی کرنے کے بجائے مسافر اور ہوسٹس کی صلح صفائی کرانے کی کوشش کی، بعد ازاں مسافر کو بس سے اتار کر جانے دیا جبکہ انہیں مسافر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنی چاہیے تھی۔

 موٹر وے پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ خود کو سرکاری ملازم ظاہر کرنے والے مسافر اور ہوسٹس کا جھگڑا پانی کی بوتل پر ہوا۔ کمپنی پالیسی کے مطابق سفر کے دوران ایک مسافر کو ایک بوتل پانی مل سکتی تھی جبکہ مسافر نے دو بوتلیں پانی مانگا اور انکار پر غصہ میں آکر بس ہوسٹس کو ڈرایا دھمکایا۔

موٹر وے پولیس نے سارے معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش کے لئے ایک کمیٹی قائم کردی ہے جو تین روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ رپورٹ کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انڈیپنڈنٹ اردو نے نجی بس کمپنی کے انکوائری ڈیسک اور ان کے مینیجنگ ڈائریکٹر خواجہ بلال سے متعدد بار ٹیلی فون اور ایس ایم ایس کے ذریعے رابطہ کیا، جس پر انکوائری ڈیسک نے بتایا کہ وہ اس بارے میں بات کرنے کے مجاز نہیں جبکہ ایم ڈی نے واقعہ پر اپنا موقف نہیں دیا۔

ایک لوکل ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک نے کمپنی اور اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ہماری بہت سے خواتین میزبانوں کو اکثر ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن کمپنی کی طرف سے انہیں تحمل کی ہدایات دی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسافروں کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

بس ہوسٹس کو ہراساں کیے جانے کا یہ پہلا واقع نہیں۔ اس سے پہلے 15 جون 2018 کو فیصل آباد میں سکیورٹی گارڈ عمر دراز نے شادی کا پیغام مسترد کرنے پر 18 سالہ مہوش ارشد کو قتل کر دیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان