موجودہ حکومت کے کریڈٹ پر یوٹرن ہے یا سونامی : قمرالزمان کائرہ

انڈپینڈںٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں رہنما پیپلز پارٹی نے اس امر پہ زور دیا کہ موجودہ حکومت کے کریڈٹ پر کوئی کامیابی نہیں نیز اس حکومت کا جلد از جلد جانا ضروری ہے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان عدم اعتماد ختم ہوگیا ہے اور اس لیے 20 ستمبر کو کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) ہونے جا رہی ہے جس میں اپوزیشن جماعتیں حکومت سے نجات کا طریقہ طے کریں گی۔

انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو خواب دکھائے تھے وہ پورے نہیں کیے۔ 'اس نے اپنے منشور پر عمل درآمد کیا نہ ہی عوام کو ریلیف دیا۔عوام کا مشترکہ فیصلہ حکومت کو ہٹانا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ اب پوری اپوزیشن متحد ہے کہ حکومت کو مزید وقت نہیں دینا چاہیے۔

ان سے پوچھا گیا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتیں حکومت کا ساتھ جبکہ باہر تنقید کرتی ہیں تو ایسا کیوں ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ 'ایف اے ٹی ایف جیسے ملکی مفادات کی قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دینا ملکی مفاد کے لیے ہے۔ اگر اس بارے میں قانون سازی پر مخالفت کرتے اور ملک بلیک لسٹ ہو جاتا تو ہم سے قانون سازی کی مخالفت سے ملک کو نقصان کا سوال ہوتا۔'

قمر الزمان کائرہ کا دعویٰ تھا کہ سندھ میں وفاقی حکومت نے جس ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا اس میں سے آٹھ سو ارب کے منصوبے صوبائی حکومت کے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول: 'ہم کہتے ہیں چلیں جو بھی عوام کے لیے فنڈ دینا ہے دیں تو۔ سہی صرف اعلانات نہ ہوں۔'

ان سے پوچھا گیا کہ جب فوج سمیت ادارے حکومت کے ساتھ ہیں تو اپوزیشن کیسے حکومت ہٹائے گی؟ تو انہوں نے انہوں نے کہا 'اس سوال کے اندر سوال یہ ہے کہ فوج اس حکومت کے ساتھ ہے تو کیا اس کا مطلب ماضی کی حکومتوں کے ساتھ نہیں تھی۔؟'

قمر الزمان کا کہنا تھا پاکستانی فوج سمیت تمام اداروں کو ہر دور میں حکومت کے ساتھ اپنے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے تعاون کرنا چاہیے۔

ان سے پوچھا گیا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں عوامی پزیرائی کیوں حاصل نہیں کر پارہی؟ تو انہوں نے کہا: 'جن کو عوام پر مسلط کیا گیا ہے ان کے دو سال پہلے کیے گئے جھانسوں سے لوگ اب نکل رہے ہیں۔ اور یہ سمجھ گئے ہیں کہ ہم انہیں پہلے جو کہتے تھے وہ سچ تھا۔'

مکمل انٹرویو دیکھیے:

 

انہوں نے مزید کہا: 'اب صورت حال تبدیل ہورہی ہے۔ لوگ دھوکے سے نکل کر حقیقت کی جانب آرہے ہیں اور ہماری بات سن رہے ہیں۔'

ان کا دعویٰ تھا کہ اگر پنجاب اور سندھ حکومت کا موازنہ کیا جائے تو پنجاب میں وزیر اعلیٰ مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہیں۔

ان کے بقول: 'صورت حال یہ ہے کہ پولیس سمیت ہر ادارے کے اندر افسران کے جھگڑے جاری ہیں۔ افسران سے کام لینے میں پنجاب حکومت ناکام ہے جبکہ سندھ کے وزیر اعلیٰ ہر قسم کی مشکلات کے باوجود بھر پور بہتری کی کوشش کر رہے ہیں۔'

پی پی پی رہنما کا مزید کہنا تھا: 'حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ لنگر خانوں سے بھلا کبھی مسائل حل ہوئے ہیں؟ سیلانی سمیت لنگر خانے تو پہلے ہی چل رہے تھے ملک میں، لیکن اس طرح کے کاموں سے کیا لوگوں کی مشکلات دور ہوجائیں گی؟'

 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست