شہباز- زرداری 'تاریخی' ملاقات، مقصد عمران خان سے جان چھڑانا؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ن لیگ کے صدر نے کراچی کا دورہ بارشوں کے بعد شہر کی حالت زار پر ہمدردی کرنے کے لیے کیا تھا لیکن موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے بھی ملاقات کرلی۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف بلاول ہاؤس میں  پیپلز پارٹی  کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کے موقعے پر (تصویر: بشکریہ پیپلز پارٹی میڈیا سیل)

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے آج (بدھ کو) اپنے وفد کے ہمراہ کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔

ن لیگ کے وفد میں شہباز شریف کے علاوہ مریم اورنگزیب، احسن اقبال، محمد زبیر، رانا مشہود اور شاہ محمود شاہ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے علاوہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، نثار کھوڑو، فرحت اللہ بابر، نوید قمر، وقار مہدی اور عاجز دھامرا شامل تھے۔

ملاقات سے قبل شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو میں کراچی اور اس کے شہریوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہر کے تمام انفراسٹرکچر کا کریڈٹ ن لیگ کو دے دیا۔

ان کا کہنا تھا: 'ہم اہل کراچی اور اندرون سندھ کے لوگوں سے اظہار ہمدردی کرنے آئے ہیں۔ اس وقت کراچی پانی میں ڈوبا ہوا ہے، اس وقت سیاست نہیں کرنی ہے، یہ وقت مخالفت برائے مخالفت کا نہیں ہے۔'

شہباز شریف نے مزید کہا کہ 'وفاق نے کراچی کے لیے اربوں روپے کے فنڈز مہیا کرنے کا وعدہ کیا تھا، وہ فنڈز کہاں ہیں؟ اگر وہ فنڈز مہیا کیے گئے ہوتے اور سیاست نہ کی گئی ہوتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ میری اپیل ہے کہ وفاق فوری طور پر سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے۔'

مسلم لیگ ن کے صدر کا کہنا تھا کہ 'کراچی کے تمام میگا پروجیکٹس ن لیگ کی جانب سے ہی شروع کیے گیے، نواز شریف نے کراچی کو جو فںڈز دیے، اس کے بعد اس شہر کے لیے کوئی فنڈز جاری نہیں ہوئے۔'

تاریخی ملاقات؟

دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی آج ہونے والی اس ملاقات کو کئی حلقوں کی جانب سے 'تاریخی' قرار دیا گیا کیوں کہ ماضی میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے تعلقات سرد و گرم ہی رہے ہیں۔

تجزیہ کار چوہدری غلام حسین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ 'اس ملاقات کا اصل مقصد عمران خان حکومت سے جان چھڑانا اور کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) کا انعقاد ہے۔ دراصل ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ اگر عمران خان کی حکومت کچھ اور وقت تک قائم رہی تو یہ سنبھل جائے گی۔ اگر یہ اس وقت عمران خان کو نہ نکال سکے تو وہ اگلے الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم عمران خان آئندہ جمعے کو کراچی کا دورہ کریں گے، لیکن اس سے قبل ہی شہباز شریف کراچی پہنچ گئے۔ اس حوالے سے چوہدری غلام حسین نے کہا: 'عمران خان کی ٹائمنگ ہمیشہ ہی آف ہی ہوتی ہے۔ جب پچھلے ہفتے کراچی میں بارش شروع ہوئی تو وزیراعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو بھیج دیا، خود کہاں تھے؟ شہباز شریف وزیر اعظم سے پہلے کراچی آگئے لیکن یہ ان کا کام نہیں ہے، جو حکومت میں بیٹھے ہیں، یہ ان کا کام ہے۔'  

مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کی اہمیت کے حوالے سے تجزیہ کار سلیم بخاری نے بتایا کہ 'اس ملاقات میں زیادہ تر اے پی سی کے حوالے گفتگو ہوئی۔ شہبار شریف نے یہ دورہ کراچی کی حالت زار پر ہمدردی کرنے کے لیے کیا تھا لیکن موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آصف علی ذرداری اور بلاول بھٹو سے بھی ملاقات کرلی۔'

سلیم بخاری کا مزید کہنا تھا کہ 'پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ اس بار اگر وہ متحد نہ ہوئے تو حکومت کو گرانے کا موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔ مگر دوسری جانب پیپلز پارٹی کو یہ احساس بھی ہوگیا ہے کہ اگر ہم اپنے موقف پر اڑے رہے تو وفاق سندھ اور بالخصوص کراچی میں مداخلت کے لیے اپنے پاس موجود اختیارات کو استعمال کرے گا اور پیپلزپارٹی یہ نہیں چاہتی کہ ایسا ہو، اسی لیے تیسری اے پی سی کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست