چترال کے لوگ بروغل میلے سے خوش یا نالاں؟

ایک طرف جہاں مقامی افراد اس میلے کی تعریف کر رہے ہیں وہیں کچھ کو لگتا ہے کہ اس میلے کا کوئی فائدہ نہیں۔

میلے میں مقامی روایتی کھانوں اور موسیقی سمیت قدیم واخی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے متعدد سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا(تصویرعمر رافعی)

خیبر پختونخوا کی ضلعی حکومت کے زیر اہتمام چترال کے علاقے بروغل نیشنل پارک میں 12 ستمبر، 2020 کو دو روزہ جشن بروغل کا آغاز ہوا۔

میلے میں مقامی روایتی کھیلوں ہارس پولو، یاک پولو، ڈونکی پولو، بزکشی، رسہ کشی،  کشتی اور آتش بازی کے علاوہ فٹبال، کرکٹ اور میراتھن ریس کے مقابلے منعقد ہوئے۔ اس کے علاوہ مقامی روایتی کھانوں اور موسیقی سمیت قدیم واخی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے متعدد سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔

سیاحوں کی سہولت کے لیے فیسٹیول کے مقام پر ایک ٹینٹ ویلج بھی قائم کیا گیا۔ سطح سمندر سے 12460 فٹ بلندی اور چترال سے 250 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بروغل نیشنل پارک میں منعقد ہونے والے فیسٹیول کو بہترین انداز میں منایا گیا۔ ڈپٹی کمشنر شاہ سعود نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس علاقے میں پانی اور سڑکوں کے بہت مسائل ہیں، 'ہماری کوشش ہے کہ اگلے سال تک یہ مسائل حل ہو جائیں اور سیاحوں کو یہاں آنے پر مزید راغب کیا جا سکے۔'

یارخون لشٹ کے رہائشی حسین شاہ کے مطابق کھیلوں کی ان سرگرمیوں اور میلے سے یہاں کے لوگوں کو تفریح کا موقع ملتا ہے اور ساتھ ساتھ میڈیا سے اوجھل مقامی مسائل بھی حکومت کے سامنے آتے ہیں، 'یہ ہمارے لیے مثبت پیش رفت ہے، ہو سکتا ہے حکومت کی توجہ اس پسماندہ لیکن جعرافیائی لحاظ سے اہم خطے کی طرف ہو سکے۔' 

مقامی رہائشی پروفیسر ممتاز حسین کا کہنا ہے کہ میلے سے علاقے کے لوگوں کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا، اس سے علاقے کے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے، اس کی وجہ سے تین دن تک دفتری، تدریسی اور ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم رہتا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا کہ میلے سے ہریالی کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی بڑھ سکتی ہے، اتنے لوگ ایک ساتھ آتے ہیں پیچھے کچرا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، اگر ایسا میلہ منعقد کرنا ہو تو ہر سال ایک جگہ منعقد کرنے کی بجائے مختلف جگہوں کا چناؤ کیا جائے تاکہ ہریالی بچ سکے۔

ایک اور مقامی رہائشی سید حریر شاہ کے مطابق حکومت کے مسلسل التوا اور عین وقت پر میلے کے انعقاد سے سٹیک ہولڈرز کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ 'سیاح ہم سے آخری وقت تک میلے کے انعقاد کے بارے پوچھتے رہے اور ہم ان کو دعوت نہیں دے سکے کیونکہ روڈ بند تھے اور حکومت کی طرف سے کوئی واضح پیغام موصول نہیں ہوا تھا۔' 

انہوں نے کہا اگر کچھ دن پہلے تاریخ کا اعلان ہوتا تو وہ سیاحوں کو مثبت پیغام دے سکتے تھے اور وہ آنے کے لیے تیار تھے، اس طرح عام لوگوں اور سیاحت سے وابستہ سٹیک ہولڈرز کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان