انگلینڈ آسڑیلیا ایک روزہ سیریز کی تین اہم باتیں

انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلی جانے والی تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کی تین نمایاں باتیں۔

  گلین میکس ویل انگلینڈ کے خلاف اولڈ  ٹریفرڈ میں ایکشن میں (اے ایف پی) 

آسٹریلیا نے عالمی چیمپیئن انگلینڈ کو تین ایک روزہ میچوں کی سیریز میں  2-1 سے شکست دی جو اس کی پانچ سالوں میں پہلی ہوم سیریز ہار ہے۔ اس سیریز کی وہ تین نمایاں باتیں جنہوں نے ایک بار پھر سب کو ہی حیران کر دیا۔

’بگ شو‘

آسڑیلیا کے لیے حالیہ ایک روزہ مقابلوں میں اپنی اننگز کو مکمل کرنا ایک مسئلہ رہا ہے لیکن گلین میکس ویل نے بدھ کو زبردست سنچری سکور کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اننگز مکمل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

پیار سے انہیں ’بگ شو‘ کہا جاتا ہے، تاہم میکس ویل کا کیرئر بعض اوقات ناکامیوں سے دوچار رہا ہے۔

2017-18 میں انہیں ایک روزہ ٹیم سے نکال دیا گیا اور اس وقت کے آسڑیلین ہیڈ کوچ جسٹن لینگر نے کہا تھا کہ ’جاؤ اور سنچریاں سکور کرو‘ لیکن انہیں ایسا کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا گیا۔

لیکن اس سیریز کے پہلے مقابلے میں ان کے 77 رنز نے آسڑیلیا کو 123 پانچ کھلاڑی آؤٹ کی خراب صورت حال سے بچا کر 294 نو کھلاڑی آؤٹ تک پہنچا دیا۔

بدھ کو انہوں نے جب ان کی ٹیم جو 302 رنز کے ہدف کا تعاقب کر رہی تھی 73 پر پانچ کھلاڑی آؤٹ سے 90 گیندوں میں 108 تک لے گئے۔ یہ ان کی ایک روزہ مقابلوں میں دوسری سنچیر تھی۔ ان کا ایلکس کیری کے ساتھ 212 کی پارٹنرشپ سیریز جیتنے میں کلیدی رہا۔

’ونڈرفل ووکس‘

انگلینڈ کے کرس ووکس نے ثابت کیا کہ ان کی ٹیم میں بین سٹوکس جو اپنے بیمار والد کی وجہ سے سیریز نہیں کھیل سکے کے علاوہ بھی آل راونڈرز موجود ہیں۔

ووکس نے 89 رنز سکور کیے اور سیریز میں چھ وکٹیں بھی حاصل کیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 انہوں نے میچوں پر اثر انداز ہونے کی اپنی صلاحیت بھی منوائی۔ بدھ کو انہوں نے ساتویں نمبر پر آ کر 53 رنز ناٹ آؤٹ سکور کیے اور انگلینڈ کو 300 کے سکور سے آگے تک لے جانے میں اہم کردار ادا کیا اور پھر آسڑیلیا کو اس کی اننگز کے آغاز میں ہی دو وکٹوں کا نقصان پہنچا کر مقابلہ دلچسپ بنا دیا۔

ان کے 32 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے نے انگلینڈ کو سیریز برابر کرنے کے لیے کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس میچ میں انہوں نے ثابت کیا کہ وہ ابتدائی نقصان کے باوجود واپس میچ میں آسکتے ہیں۔

  زامپا نے اپنی مہر ثبت کر دی

آسڑیلیا کے لیگ سپنر ایڈم زامپا دونوں ٹیموں میں 14.2 کی اوسط سے دس وکٹیں لے کر سرفہرست بولر رہے۔

ان کی زبردست واپسی آسٹریلیا کے لیے اچھی خبر ہے جو آنے والے دنوں میں بھارت میں ٹی 20 اور 50 اووروں کے عالمی مقابلوں میں حصہ لینے والی ہے۔ 

انہوں نے بدھ کے میچ میں 51 رنز دے کر تین کھلاڑی پویلین بھیجے۔ اس سے قبل دو میچوں میں اس 28 سالہ بولر نے 55 رنز کے عوض 4 اور 36 رنز کے بدلے میں تین وکٹیں لیں۔

زامپا نے اپنے مدمقابل ٹیم کے لیگ سپنر عادل رشید کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جو محض چار وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ عادل کی بدقسمتی کے ان کے فیلڈرز نے بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی اور بدھ کو میکس ویل کا کیچ وکٹ کیپر جوز بٹلر نے 44 کے سکور پر ڈراپ کیا۔

بٹلر نے اس سیزن کے تمام مقابلوں میں اچھی کارکردگی نہیں دکھائی جو انگلینڈ کے لیے اگلے دو ورلڈ کپ میں سپن کی اہمیت کی وجہ سے یقینا قابل تشویش بات ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ