'ہم نہیں ڈرتے': مودی کے خلاف آواز اٹھانے والی 'دبنگ دادی'

بھارت میں گذشتہ سال متنازع شہریت قانون کی منظوری کے خلاف شاہین باغ مظاہروں کا چہرہ بننے والی 82 سالہ بلقیس بانو عرف 'دبنگ دادی' دنیا کے 100 بااثر افراد کی فہرست میں شامل۔

بھارت سے بلقیس بانو کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی، پروفیسر رویندرا گپتا، گوگل کے سی ای او سندر پیچائی اور فلم اداکار آیوشمان کھرانا کو بھی 'ٹائم میگزین' کے 100 بااثر افراد کی فہرست میں جگہ ملی ہے۔(تصاویر: اے ایفپی اور ٹائم میگزین)

 

بھارت میں گذشتہ سال پاس ہونے والے شہریت کے متنازع ترمیمی قانون کے خلاف چلائی جانے والی 'شاہین باغ تحریک' کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی ہندو قوم پرست حکومت کو بار بار للکارنے والی 82 سالہ معمر خاتون بلقیس بانو عرف 'دبنگ دادی' کو معروف امریکی جریدے 'ٹائم' نے دنیا کے 100 بااثر افراد کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکومت نے گذشتہ برس دسمبر میں شہریت ترمیمی بل کو بھارتی پارلیمان میں اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود کثرت رائے سے منظور کیا تھا۔

اس بل کے ذریعے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے مبینہ طور پر مذہب کی بنیاد پر ستائے جانے کے بعد بھارت آنے والے ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور مسیحی برادری کے افراد کو بھارتی شہریت دی گئی۔ تاہم اس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ قانون متنازع بن گیا۔

اس متنازع قانون کے خلاف جہاں بھارت کی کئی ریاستوں میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جن میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں تھیں وہیں دارالحکومت دہلی کے شاہین باغ نامی علاقے میں خواتین کا ایک پرامن احتجاجی دھرنا شروع ہوا تھا جو بعد ازاں تحریک کی شکل اختیار کر گیا تھا۔

شاہین باغ میں خواتین کا احتجاجی دھرنا 15 دسمبر 2019 کو شروع ہو کر کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے سبب 23 مارچ 2020 کو ختم ہوا۔ یعنی دھرنا ختم ہونے کے قریب چھ ماہ بعد 'ٹائم میگزین' نے بلقیس بانو کو 100 بااثر افراد کی فہرست میں شامل کر کے جہاں اس تحریک کی یادیں تازہ کر دیں وہیں اس کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی۔

بھارت سے بلقیس بانو کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی، پروفیسر رویندرا گپتا، گوگل کے سی ای او سندر پیچائی اور فلم اداکار آیوشمان کھرانا کو بھی 'ٹائم میگزین' کے 100 بااثر افراد کی فہرست میں جگہ ملی ہے۔

تاہم عمر رسیدگی اور ضعیفی کے باوجود جرات اور ہمت کے بھرپور مظاہرے کی وجہ سے 82 سالہ بلقیس بانو ہی خبروں میں ہیں۔

بلقیس بانو کے فرزند منظور احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ اصل میں ریاست اترپردیش کے ضلع ہاپوڑ سے تعلق رکھتے ہیں اور گذشتہ بائیس برس سے دہلی کے شاہین باغ میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: 'میں گاؤں گیا ہوا تھا اور اب واپس دہلی آ رہا ہوں۔ چونکہ میں ابھی سفر کر رہا ہوں اس لیے ماں سے کوئی زیادہ بات نہیں ہو پائی۔'

'ٹائم میگزین' کے 100 بااثر افراد کی فہرست میں نام آنے کے بعد بلقیس بانو یا ان کے گھر کے کسی بھی فرد نے اس اعزاز پر میڈیا سے بات چیت نہیں کی ہے۔

شاہین باغ نیشنل موومنٹ کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر شعیب جامعی نے بتایا: 'جس طرح سے ٹائم میگزین میں دادی اور شاہین باغ تحریک کو جگہ ملی ہے ہم سب اس پر بہت خوش ہیں۔ اس وقت دادی ملکی و غیر ملکی میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں لیکن دادی کسی سے مل نہیں رہی ہیں۔

انہوں نے کہا: 'ہم دادی سے ملاقات کر کے آئے ہیں۔ ان کی ہمت اور حوصلہ بلند ہے۔ دادی نے سب کو پیار بھیجا ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے وہ لوگوں سے نہیں ملیں گی۔ دادی نے سب کے لیے دعائیں کی ہیں۔ جن بچوں کو جامعہ احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا ہے ان کے لیے بھی دعائیں کی ہیں۔'

یاد رہے کہ بھارتی حکومت دہلی میں بھڑکنے والے بھیانک فسادات کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کو قصوروار ٹھہرا رہی ہے اور اب تک متعدد طلبہ کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق ترمیم شدہ ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت جیلوں میں بند کیا جا چکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شعیب جامعی کہتے ہیں: 'ہماری بلقیس دادی نے ہمیں شاہین باغ تحریک کے دوران ایکٹو رکھا۔ ہمیں ان کی باتوں سے طاقت ملتی رہی۔ تحریک چلانے کے دوران کئی مشکلات آئیں اور پریشانیاں آئیں لیکن دادی کو دیکھ کر ہماری ہمت بڑھ جاتی تھی۔'

ان کا مزید کہنا تھا: 'ٹائم میگزین نے مودی کے بارے میں لکھا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ صرف ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے وزیر اعظم ہیں۔ لیکن شاہین باغ تحریک کے بارے میں انتہائی مثبت تبصرہ لکھا ہے۔ دادی کی ہمت کو داد دی ہے۔'

دہلی میں مقیم سینیئر صحافی عابد انور، جنہوں نے شاہین باغ تحریک کی پہلے سے آخری دن تک رپورٹنگ کی تھی، نے انڈپینڈت اردو کو بتایا کہ بلقیس بانو سمیت تین معمر خواتین شاہین باغ میں پرامن دھرنے کا چہرہ بن گئی تھیں اور 'دبنگ دادیاں' کہلاتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا: 'سخت سردی اور شدید دھوپ و بارش کے باوجود شاہین باغ کی ان تین معمر خواتین نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ ان خواتین نے بھارتی میڈیا کے سخت سوالات کا بھی بخوبی جواب دیا۔'

'پندرہ دسمبر 2019 کو شروع ہونے والے اس پرامن دھرنے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ایک ایسے بچے نے بھی حصہ لیا جس نے محض چھ دن پہلے جنم لیا تھا۔ یہ بچہ پہلے دن سے احتجاج ختم ہونے تک برابر اس کا حصہ بنا رہا۔'

ان کا مزید کہنا تھا: 'دھرنے کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اس میں سبھی مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل رہے۔ بہت سی ہندو خواتین بھی اس میں پہلے دن سے شریک رہیں۔'

الیاس شریف الدین نامی ایک فیس بک صارف کے مطابق بلقیس بانو نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے 'فاشسٹ' لوگوں سے کہا تھا کہ 'جب تک میری رگوں میں خون دوڑے گا میں لڑتی رہوں گی۔'

'ہم نہیں ڈرتے کسی سے'

بی جے پی کے بعض لیڈران نے رواں برس جنوری میں الزام عائد کیا تھا کہ شاہین باغ میں احتجاجی دھرنے پر بیٹھنے والی خواتین کو ہر دن کے پانچ سو روپے ملتے ہیں۔

بلقسین بانو نے اس الزام کا جواب کچھ اس طرح دیا تھا: 'مودی جی آپ اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں۔ ہم نے آپ کو کرسی پر بٹھایا ہے اور ہم کرسی سے اتار بھی سکتے ہیں۔ ہم نہیں ڈرتے ہیں کسی سے۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ہم آپ سے نہیں ڈرتے۔ ہم صرف اس سے ڈرتے ہیں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔'

'آپ ہمیں بے کار میں بدنام کر رہے ہیں کہ ہمیں یہاں بیٹھنے کے پانچ پانچ سو روپے ملتے ہیں۔ ہمت ہے تو آجایئے اور یہاں بیٹھیے، ہم آپ کو ایک لاکھ روپے دیں گے۔'

'ہمیں یہاں بیٹھنے کے دوران اللہ کھانا اور دوائیاں بھیجتا ہے۔ ہمیں کیا مودی دے رہا ہے؟ اس نے تو ہمارا ستیہ ناش کیا ہے۔ اگر آپ یہاں آگئے تو ہم آپ کو باتوں سے ہی ہرا دیں گے۔'

بلقسین بانو کا ٹائم میگزین میں پروفائل

'ٹائم میگزین' میں بلقیس بانو کا پروفائل بھارتی صحافی و مصنفہ رانا ایوب نے لکھا ہے۔

ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا: 'شاہین باغ کی بلقیس ٹائم میگزین کی اس سال کی 100 بااثر شخصیات میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں لکھنا باعث افتخار ہے۔'

رانا ایوب 'ٹائم میگزین' کی جانب سے وزیر اعظم مودی پر لکھے جانے والے تبصرہ پر اپنی ایک ٹویٹ میں کہا: 'نریندر مودی بھی ٹائم میگزین کے سو بااثر شخصیات کی فہرست میں شاہین باغ کی بلقیس کے ساتھ شامل ہیں لیکن ان کی پی آر میشنری اس کے بارے میں ٹویٹ نہیں کرے گی۔'

رانا ایوب نے بلقیس بانو کے پروفائل میں لکھا ہے کہ وہ ٹھٹھرتی سردی میں بھی صبح کے آٹھ بجے سے نیم شب تک احتجاج میں شامل ہوتی تھیں۔

انہوں نے لکھا ہے: 'میں نے جب پہلی بار بلقیس سے ملاقات کی تو وہ ان نوجوان احتجاجی خواتین کے درمیان میں بیٹھی ہوئی تھیں، جنہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر انقلابی اشعار درج تھے۔'

'ایک ہاتھ میں تسبیح اور دوسرے ہاتھ میں قومی پرچم اٹھائے 82 سالہ بلقیس بھارت کے پسماندہ طبقوں کی ایک آواز بن گئی ہیں، جو ٹھٹھرتی سردی میں بھی صبح کے آٹھ بجے سے نیم شب تک احتجاج میں شامل ہوتی تھیں۔'

پروفائل میں مزید لکھا ہے: 'بلقیس، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے ماہ دسمبر 2019 میں شہریت ترمیمی بل ایکٹ، جو مسلمانوں کو ملک میں شہریت سے محروم کرسکتا ہے، پاس کرنے کے خلاف ہزاروں خواتین کے ساتھ دہلی کے شاہین باغ میں برسر احتجاج رہیں۔'

'وہ ایک ایسے ملک میں مزاحمت کی علامت بن گئیں جس میں خواتین اور اقلیتی فرقوں کی آوازوں کا مودی حکومت کی اکثریتی سیاست کے ذریعے گلا گھونٹا جا رہا ہے۔

'بلقیس ان حقوق بشر کارکنوں اور طلبہ لیڈروں، جنہیں آمریت کا روپ دھارنے والے جمہوریت میں غیر مقبول حقیقت کے خلاف آواز بلند کرنے کے پاداش میں پابند سلاسل کیا جاتا ہے، کے لیے مزاحمت کی علامت بن گئیں۔'

'رخصت لیتے وقت انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں یہاں رگوں میں خون کی گردش بند ہونے تک  برسر احتجاج رہوں گی تاکہ ملک کے بچے اور دنیا کے لیے انصاف و مساوات کی پر سکون فضا قائم ہوسکے۔'

 

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین