کھلاڑیوں، ڈاکٹروں سے لے کر طلبہ تک درجنوں ایرانیوں کو سزائے موت کا سامنا

انڈپینڈنٹ فارسی کو موصول معلومات، اکاؤنٹس اور دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ الزامات کی قسم اور سزاؤں کے اجرا کی رفتار کے اعتبار سے بھی بڑے پیمانے پر سزائے موت دیے جانے کے بارے میں سنگین خدشات موجود ہیں۔

ایران میں حراست میں لیے گئے چند شہریوں کی تصاویر جنہیں پھانسی کی سزا کا خطرہ ہے (انڈپینڈنٹ فارسی)

ایران میں 8 جنوری سے سڑکوں پر بڑی تعداد میں مظاہروں کے ساتھ ہی مختلف شہروں میں احتجاج کرنے والوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

انڈپینڈنٹ فارسی کو موصول ہونے والی معلومات، اکاؤنٹس اور دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اس لہر نے نہ صرف اپنے دائرہ کار کے لحاظ سے بلکہ الزامات کی قسم اور سزاؤں کے اجرا کی رفتار کے اعتبار سے بھی بڑے پیمانے پر سزائے موت دیے جانے کے بارے میں سنگین خدشات موجود ہیں۔

ان معلومات کے مطابق 8 جنوری سے بدھ 28 جنوری کے درمیان گرفتار کیے گئے درجنوں شہریوں کو جنگی جرائم، غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ تعاون، بغاوت، جاسوسی، پہلے سے سوچے گئے قتل، بدعنوانی، فسادات کی قیادت کرنے اور قومی سلامتی کے خلاف کارروائیوں جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایسے الزامات جو ایرانی قوانین کے مطابق براہ راست موت کی سزا کے اجرا کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے معاملات میں، مقدمے کی کارروائی کے کسی بھی مرحلے پر وکیل تک رسائی فراہم نہیں کی گئی، یا تفتیش اور پوچھ گچھ کے بنیادی معیارات کا خیال نہیں نہیں رکھا گیا ہے۔

اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ایک کمانڈر نے منگل کو خبردار کیا کہ اگر ہمسایہ ممالک کی سرزمین کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا تو انہیں ’دشمن‘ سمجھا جائے گا۔

یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کہ ایک امریکی طیارہ بردار بیڑا مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں پہنچا۔ محمد اکبرزادہ، آئی آر جی سی بحری افواج کے سیاسی نائب نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا: ’پڑوسی ممالک ہمارے دوست ہیں، لیکن اگر ان کی زمین، آسمان یا پانی ایران کے خلاف استعمال ہوئے تو انہیں دشمن سمجھا جائے گا۔‘

صوبہ مازندران میں شہر نور سے متعدد بار بین الاقوامی ایم ایم اے چیمپیئن رہنے والے فرزاد غدیری کے اہل خانہ نے انڈپینڈنٹ فارسی کو بتایا کہ اسے 2 فروری بدھ کو ٹانگوں میں شاٹ گن سے گولی لگنے کے بعد گرفتار کر کے آزاد       شہر کی نور جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس کے رشتہ داروں کے مطابق پیشہ ور کھلاڑی کے خلاف ابتدائی فرد جرم میں ’مسلح کارروائی‘ کے الزامات شامل ہیں اور سکیورٹی حکام نے خاندان کو مطلع کیا ہے کہ فرزاد غدیری کو موت کی سزا سنائے جانے کا خطرہ ہے۔

ایران میں ہفتوں سے جاری بے چینی کے بعد بھی زیادہ تر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ چل رہا ہے۔

عینی شاہدین کی گواہی اس بات کو سمجھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے کہ واقعات کیسے پیش آئے۔

معاشی مشکلات پر غصے بھرے مظاہرے گذشتہ سال کے آخر میں شروع ہوئے اور 1979 کی اسلامی انقلاب کے بعد سب سے بڑے حکومت مخالف احتجاج میں بدل گئے۔

ساتھ ہی مظاہرین کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی گرفتاری اور انہیں قانونی دھمکیوں کی تفصیل بھی سامنے آئیں ہیں۔ ڈاکٹر علی رضا گولچینی، چھاتی کے کینسر کے سرجری کے ماہر اور تہران اور قزوین کے ہسپتالوں میں کام کرنے والے معالج کو ہفتہ، 10 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس سے قبل انہوں نے ملک گیر کال سے ایک دن قبل اپنے انسٹاگرام پیج پر لکھا تھا کہ وہ احتجاج کے متاثرین کی مدد کے لیے 24/7 دستیاب ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس ڈاکٹر کی گرفتاری کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے گھر اور پرائیویٹ کلینک میں گولی لگنے کے زخموں کے علاج کے لیے سرجری کی اور اب انہیں سزائے موت سمیت سخت سزا کا بھی خطرہ ہے۔

مشہد میں محمد حسین حسینی، ایک 26 سالہ فٹ بالر اور پرسیپولیس اور سپاہان کے سابق نوجوان کھلاڑی، کو منگل 13 جنوری کو سکیورٹی فورسز کے گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا۔

سابق سیاسی قیدی نے وکیل آباد جیل سے ایک فون کال میں کہا کہ تفتیش کار ان کے خلاف الزامات کی ایک فہرست لائے ہیں، جن میں ’حکومت کے خلاف پروپیگنڈا،‘ اور ’فساد‘ کے الزامات شامل ہیں، جب کہ انہیں ابھی تک وکیل تک رسائی نہیں دی گئی ہے۔

مازندران صوبے کے ایک وکیل نے انڈپینڈنٹ فارسی سے بات کرتے ہوئے موجودہ صورت حال کو ’گذشتہ 47 سالوں میں غیرمعمولی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد اور الزامات کی شدت دونوں ہی غیرمعمولی ہیں۔ بہت سے معاملات میں، تفتیش کار آغاز سے ہی سزائے موت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘

وکیل نے فریدون کنار سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ احتجاجی فائزہ احمدی کے کیس کی طرف اشارہ کیا، جنہیں 8 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا اور بغیر کوئی ثبوت فراہم کیے انہیں پھانسی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’کچھ قیدیوں کو خفیہ طور پر پھانسی دینے کی بھی اطلاعات ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اصفہان میں سپاہان کے 19 سالہ فٹ بالر امیر غدر زادہ کی گرفتاری اور سزائے موت نے عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان کے خاندان کے قریبی ذرائع نے انڈپینڈنٹ فارسی کو بتایا کہ کھلاڑی کو گرفتاری کے چند دن بعد بغیر کسی باقاعدہ قانونی کارروائی کے موت کی سزا سنائی گئی۔

ذرائع نے سوال کیا کہ پوری تفتیش، پوچھ گچھ اور ٹرائل ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں کیسے مکمل ہو سکتا تھا، جب کہ ملزم کو اپنے وکیل سے ملنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔

اسی شہر میں سرکاری میڈیا کی جانب سے اصفہان سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ نوجوان شیروین باگھریان کے جبری اعتراف کی ویڈیو جاری ہونے پر بڑے پیمانے پر ردعمل سامنے آیا ہے۔

ویڈیو میں، پوچھ گچھ کرنے والا اس پر دشمنوں کے لیے جنگ کا الزام لگاتا ہے، اور جب نوجوان اس الزام کے معنی کے بارے میں پوچھتا ہے، تو اسے بتایا جاتا ہے کہ سزا ’پھانسی‘ ہے، جس نے اس کے مستقبلل کے بارے میں خدشات کو دد گنا کر دیا ہے۔

اسی وقت، اصفہان سے رپورٹس بتاتی ہیں کہ صوبے کے نجف آباد پراسیکیوٹر نے عجلت میں رسول صالحی کے لیے سزائے موت کی درخواست کی ہے، جسے گرفتار کیا گیا تھا اور اس وقت آئی آر جی سی کے انٹیلی جنس یونٹ میں زیر حراست ہے، جنہوں نے جاری احتجاج کے دوران نوعمر لڑکیوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی تقریر کی تھی۔

تہران میں سیاسی قیدی ارمین نورمحمدی، ساویہ کے 19 سالہ پہلوان صالح محمدی، مشہد میں فارمیسی کے طالب علم امین پورفرہنگ، لارڈیگن میں فرشاد محمودیان اور سعید زارے مرشطولی؛ ایسے مقدمات جو سب تیزی سے گرفتاری، سنگین الزامات، جبری اعتراف کے لیے دباؤ، اور دفاع کے حق کے خاتمے کے رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔

اس سے قبل اسرائیل ہیوم اخبار نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی حکومت نے امریکی حکام کو ایران میں مظاہرین کی اجتماعی پھانسی کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔ یہ اقدام رپورٹ کے مطابق، ایرانی حکام کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو دی گئی یقین دہانیوں کے خلاف ہے۔

اسرائیل ہیوم کے مطابق امریکی حکومت کو فراہم کیے گئے ڈیٹا اور دستاویزات میں مظاہرین کو مختلف طریقوں سے پھانسی دینے کے واضح شواہد موجود ہیں۔

ان شواہد اور دستاویزات کا مجموعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران نے سڑکوں پر مظاہرین کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے بعد، جن کی تعداد ’دسیوں ہزار‘ بتائی گئی ہے، اب مزید عوام میں خوف پیدا کرنے کے لیے ’پھانسی‘ کا سہارا لیا ہے۔ ایک ایسا عمل جس نے، آزاد وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق سینکڑوں، شاید ہزاروں، زیر حراست شہریوں کی زندگیوں کو فوری طور پر خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ایک بیان میں تشویشناک رپورٹس موصول ہونے کی بات کی ہے جس میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے ہسپتالوں میں علاج کے لیے لائے گئے مظاہرین کو گرفتار کرنے کے دعوے کیے گئے ہیں۔

ایران میں ایک انسانی حقوق کے محافظ نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بتایا کہ صوبہ اصفہان کی سکیورٹی فورسز نے ہسپتالوں کے طبی عملے کو ہدایت دی ہے کہ وہ گولیوں سے زخمی ہونے والے مریضوں کی اطلاع دیں۔

دو باخبر ذرائع نے تنظیم کو بتایا کہ اصفہان، چار محل اور بختیاری صوبوں میں سکیورٹی فورسز نے زخمی مظاہرین کو ہسپتالوں سے گرفتار کیا، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں جان بچانے والی طبی امداد کی ضرورت ہے۔

ان الزامات پر ایرانی حکومت کا ردعمل دستاب نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا