پاکستان میں بھارت کے چار شہری، تین رہا، چوتھا  جاسوس کون؟

پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت میں عدالت کو اٹارنی جنرل خالد جاوید نے بتایا کہ باقی تین بھارتی شہریوں کی سزا مکمل ہونے پر رواں برس فروری اور ستمبر میں انہیں بھارت بھجوا دیا گیا ہے۔

بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے بذریعہ بیرسٹر شاہنواز نون اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ چار بھارتی شہری جاسوسی کے الزام میں پکڑے گئے جن کی سزا مکمل ہو چکی ہے لیکن تین کو پاکستان رہا کر چُکا ہے جبکہ ایک بھارتی شہری کو سزا مکمل ہونے کے باوجود پاکستان نے تاحال رہا نہیں کیا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے دستاویزات تک رسائی حاصل کی اور پتہ لگایا کہ وہ چوتھا جاسوس کون ہے اور پاکستان کیسے آیا۔

ان چار بھارتی شہریوں کے نام انیل ، شمس الدین، جسپال سنگھ اور محمد اسماعیل ہیں۔

انیل واہگہ بارڈر کے قریبی مقام پر غیر قانونی طور پر سرحد پار کرتے پکڑے گئے تھے۔ اُس وقت انہوں نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ وہ پاکستان کی حدود میں ہیں بلکہ انہوں نے کہا کہ وہ انڈیا میں ہی ہیں اور ان کے والد ان کا انتظار کر رہے ہیں۔  فوجی عدالت نے جاسوسی کےالزام میں انہیں سزا سنائی تھی۔

دوسرے بھارتی شہری جسپال سنگھ نے سیالکوٹ نارووال ورکنگ باؤنڈری سے غیر قانونی طور پر سرحدپار کی جس پر پاکستانی ایجنسی نے انہیں حراست میں لے لیااور جاسوسی کا مقدمہ درج ہونے کے بعد فوجی عدالت سے سزاہوئی۔

تیسرے شہری شمس الدین کئی برسوں سے غیر قانونی طور پر کراچی میں رہائش پذیر تھے۔ حراست کے بعد شمس الدین نے کہا کہ وہ بھارت واپس نہیں جانا چاہتے، وہ پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں ، اس لیے وہ اتنے سالوں سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں چھپے رہے لیکن سیکیورٹی اداروں نے سراغ ملنے پر انہیں حراست میں لیا اور مقدمے کا اندراج کرکے سزا سنائی گئی۔

جبکہ چوتھے بھارتی شہری اور جاسوس محمد اسماعیل کو 2008 میں بدین کے سرحدی علاقے سے رینجرز نے اس وقت حراست میں لیا جب وہ کپڑے فروش کے روپ میں پاکستان داخل ہوئے۔ اس سے قبل بھی وہ پاکستان غیر قانونی طور پہ آتے جاتے  رہتے تھے۔ حراست میں لینے کے بعد تلاشی لی گئی تو ان کے پاس پاسپورٹ یا کوئی قانونی دستاویز موجود نہ تھا اور نہ وہ سیکیورٹی حکام کو مطمئن کر پائے کہ وہ پاکستان کیوں آئے ہیں۔

انہیں پہلے حیدر آباد جیل جبکہ بعد میں ملیر جیل میں رکھا گیا اور 2011 میں جاسوسی کے مقدمے میں فرد جرم عائد کر کےپانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

اکتوبر 2016 میں بھارتی شہری محمد اسماعیل کی سزا مکمل ہوئی لیکن حکومت پاکستان نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں رہا نہیں کیا۔

پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت میں عدالت کو اٹارنی جنرل خالد جاوید نے بتایا کہ باقی تین بھارتی شہریوں کی سزا مکمل ہونے پر رواں برس فروری اور ستمبر میں انہیں بھارت بھجوا دیا گیا ہے جبکہ وزارت داخلہ نے چوتھےشہری اور جاسوس کے حوالے سے کچھ تخفظات کا اظہار کیا ہے۔

سوموار کو بھارت کے جاسوس محمد اسماعیل اور بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کے لیے قانونی نمائندہ مقرر کرنے کے کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی جبکہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب طبیعت خرابی کے باعث ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شریک ہوئے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’بھارت کو ایک کیس میں اس عدالت پر یقین ہے، جبکہ دوسرے میں ملکی سالمیت آڑے آنے کی بات آتی ہے حالانکہ چار بھارتی قیدیوں کی رہائی پر بھارت نے اسی عدالت سے رجوع کیا ہےجبکہ کلبھوشن جادھو کیس میں عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے بھارت قاصر ہے۔‘

بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل بیرسٹر شاہنواز نون کو عدالت نے کہا کہ جب بھارت اس کیس میں شامل نہیں ہوتا توعدالت کے انصاف کے فیصلے پر کیسے عمل درآمد کیا جائے یہ قانونی عدالت ہے اور بھارت کو یہاں آنا چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاہنواز نون نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل دفتر کی جانب سے انہیں کلبھوشن جادھو کیس کے دستاویزات نہیں دیےگئے، انہوں نے کہا کہ میں نے کلبھوشن جادھو کیس کی تمام تفصیلی دستاویزات کے لیے درخواست دی تھی لیکن مجھےکہا گیا کہ آپ کلبھوشن جادھو کے دستخط شدہ وکالت نامہ جمع کرائیں۔

 اٹارنی جنرل پاکستان نے جواباً کہا کہ ہم بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل کو تمام دستاویزات پاکستانی قوانین کے مطابق دیں گے لیکن بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل کے پاس کلبھوشن کی جانب سے دستخط شدہ پاور آف اٹارنی ہونا ضروری ہے۔ صرف بھارتی وکیل کو دستاویزات تک رسائی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اس پر عدالت نے کہا آپ بھاری ہائی کمیشن کو کلبھوشن جادیو تک ایک بار پھر قونصلر رسائی دے دیں تاکہ وہ دستخط لے سکیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت پاکستان ایک بار بھارتی ہائی کمیشن کو قونصلر رسائی دینے کے لیے تیارہے۔

کلبھوشن جادھو کیس اور چوتھے بھارتی شہری اور جاسوس محمد اسماعیل کے کیس کی سماعت عدالت نے یکم دسمبر تک ملتوی کر دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان