کلبھوشن یادیو کے پاس 20 جولائی تک اپیل کی مہلت : پاکستان

20 مئی کو پاکستان نے آئی سی جے ریویو اینڈ ری کنسیڈریشن آرڈیننس لاگو کیا جس کے مطابق کلبھوشن یادیو یا ان کا وکیل رحم کی اپیل دائر کرسکتے ہیں۔ آرڈننس کےتحت نظرثانی درخواست ساٹھ دن کے اندر دائر کرنا ہوتی ہے۔

(اےایف پی)

دفتر خارجہ میں ڈائرکٹر جنرل جنوبی ایشیا زاہد حفیظ اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ رواں برس سترہ جون کو کمانڈر کلبھوشن یادوکو نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کی دعوت دی گئی لیکن کلبھوشن یادیو نے اپنی سزاکےفیصلے کادوبارہ جائزہ لینےکے لیےاپیل دائر کرنےسےانکار کر دیا۔

پاکستان نے کلبھوشن کے معاملے پر  بھارت کو دوسری قونصلر رسائی کی پیشکش بھی کر دی ہے۔

بین الاقوامی ماہر قانون احمر بلال صوفی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس آرڈیننس میں کوئی قانونی سقم موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس جولائی میں عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ جاری کیا تھا اور پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے اور اسے دی جانے والی سزا پر نظر ثانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سال کے اندر عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کا پہلا قدم اُٹھا لیا ہے۔ اب اگر کلبھوشن نے اپیل دائر کرنے انکار بھی کیا ہے تو بھارتی حکومت پھر بھی یہ حق مخفوظ رکھتی ہے کہ وہ اپنے طور پر ہائی کمیشن کے زریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں۔

احمر بلال صوفی نے مزید کہا کہ یہ تو ابھی ایک کیس ہے۔ جو جاسوسی کا مقدمہ ہے جس پر سزا ہوئی ہے۔ لیکن ایف آئی آر نمبر 6 ابھی باقی ہے جس پر پاکستان نے بھارت سے معاونت طلب کر رکھی ہے۔ اُس ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات عائد کی گئی ہیں اور کلبھوشن یادیو کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے کے اعترافات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔'

پاکستان کا موقف :

ڈی جی ساؤتھ ایشیا زاہد حفیظ نے کہا کہ پاکستان اپنی عالمی ذمے داریوں سےبخوبی آگاہ ہے اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے امید ہے بھارت اس معاملے پر سیاست کرنے کے بجائے قانونی طریقہ اختیار کریگااورتعاون کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس سے قبل بھی بھارتی کمانڈر کلبھوشن یادیو  کی اُس کے اہل خانہ سے 2017 میں ملاقات کراچکا ہے۔ پاکستان نے دوبارہ کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اوروالد سے ملاقات کرانے کی پیشکش کی ہے لیکن تاحال بھارت کی جانب سے جواب نہیں آیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بیس مئی کو پاکستان نے آئی سی جے ریویو اینڈ ری کنسیڈریشن آرڈیننس لاگو کیا ہے۔ پاکستان کا قانون فیصلے کاازسرنوجائزہ لینے کی اجازت دیتاہے۔ اس لیے کمانڈر کلبھوشن یا ان کا وکیل رحم کی اپیل دائر کرسکتے ہیں۔ آرڈننس کےتحت نظرثانی درخواست ساٹھ دن کے اندر کرنی ہوتی ہے اس آرڈننس کے تحت نظر ثانی کی پٹیشن اسلام آبادہائیکورٹ کی جانی چاہیے۔

عالمی عدالت انصاف نظر ثانی اور دوبارہ جائزے کا آرڈیننس کیا ہے؟

اگر آرڈیننس کی تاریخ دیکھی جائے تو بیس مئی کو آرڈیننس لاگو کیا گیا ہے، اس کے مطابق کلبھوشن یادیو کے پاس بیس جولائی تک کاوقت ہے کہ وہ نظر ثانی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کو موصول ہونے والی کاپی کے تحت یہ آرڈیننس تین صفحات پر مشتمل ہے۔ اس آرڈیننس میں اُن غیر ملکیوں، جو فوجی عدالت سے سزا یافتہ ہیں، کو رحم کی اپیل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ اس آرڈیننس سے ایک بار فائدہ اُٹھایا جا سکے گا۔

اس آرڈیننس کے مطابق متعلقہ فورم ہائی کورٹ ہو گا جہاں نظرثانی یا رحم کی اپیل کی جا سکے گی۔ غیر ملکی سزا یافتہ کو ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کے تحت حق دیا گیا ہے۔

آرڈیننس کے مطابق ہائی کورٹ اس بات کا جائزہ لے گی کہ

-غیر ملکی سزا یافتہ قیدی کے ساتھ کسی قسم کا تعصب تو نہیں برتا گیا

-سزایافتہ غیر ملکی قیدی کو فئیر ٹرائل کا حق دیا گیا ہے؟

-قونصلر تک رسائی دی گئی یا نہیں ؟

اس معاملے پر جب بھارتی ہائی کمیشن سے رابطہ کیا گیا کہ وہ اس پر نظر ثانی درخواست دائر کریں گے تو انہوں نے جواب نہیں دیا۔ جب کہ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے دی جانے والی پیشکش پر غور کیا جا رہا ہے۔

کلبھوشن یادیو کا معاملہ کیا تھا؟

پاکستانی حکام کے مطابق کلبھوشن یادو پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے اور انہیں مارچ 2016 کو بلوچستان کے علاقے ماشخیل سے گرفتار کیا گیا تھا۔

پاکستانی فوج کی جانب سے کلبھوشن یادو کو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر اور بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کا ایجنٹ بتایا گیا تھا۔

 کلبھوشن کے پاس حسین مبارک کے نام سے پاسپورٹ موجود تھا جس کے اصل ہونے کی برطانیہ کا فرانزک ادارہ تصدیق کر چکا ہے۔ کلبھوشن نے حسین مبارک پٹیل کے نام کے پاسپورٹ پر 17 بار دلی سے بیرون ملک فضائی سفر کیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس حراست کے چند ہی روز بعد پاکستان کی جانب سے کلبھوشن یادو کا زیر حراست اعترافی بیان ویڈیو کی صورت میں جاری کیا گیا اور بلوچستان حکومت نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی۔

اپریل 2017 میں کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت نے ملک میں جاسوسی کا مجرم قرار دیا اور 10 اپریل کو انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ جس کے بعد بھارت یہ معاملہ عالمی عدالت انصاف لے گیا گزشتہ برس فروری میں عالمی عدالت انصاف میں کیس کی سماعت ہوئی اور جولائی میں فیصلہ آیا جس کے مطابق

عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی رہائی اور بھارت واپسی کی بھارتی درخواست مسترد کردی جب کہ کلبھوشن کی پاکستان کی فوجی عدالت سے سزا ختم کرنے کی بھارتی درخواست بھی رد کردی گئی۔ عالمی عدالت انصاف نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے اور انہیں دی جانے والی سزا پر نظر ثانی کرے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان