وادی نیلم میں لائن آف کنٹرول کے اُس پار کیا نظر آتا ہے؟ 

دریائے نیلم کے ساتھ والی شاہراہ پر سفر کے دوران کئی مقامات پر بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے قصبے چند سو فٹ کے فاصلے پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ 

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے جاتے ہوئے وادی نیلم کے پہلے قصبے چلہانہ گاؤں سے بھارتی زیر انتظام کشمیر کے قصبے ٹیٹوال کا منظر (تصاویر: امر گرڑو)

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے درمیان ایک سرحدی لائن ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں دریائے نیلم کے ساتھ والی شاہراہ پر سفر کے دوران کئی مقامات پر بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے قصبے چند سو فٹ کے فاصلے پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ 

وادی نیلم سے لائن آف کنٹرول کے اُس پار نظر آنے والے چند مناظر یہاں دیکھیے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ کی تحصیل کرناہ کے قصبے ٹیٹوال میں بھارتی فوج کی چوکی پر لگا بھارتی پرچم، وادی نیلم کے چلہانہ گاؤں سے واضح نظر آتا ہے۔


پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی نیلم وادی کے شہر کیرن سے لائن آف کنٹرول کے اُس پار بھارتی قصبے کی ایک مسجد کا منظر 


پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے جاتے ہوئے وادی نیلم کے پہلے قصبے چلہانہ گاؤں سے بھارتی زیر انتظام کشمیر کے قصبے ٹیٹوال کا منظر


وادی نیلم کے مقامی لوگوں کے مطابق لائن آف کنٹرول کے اُس پار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مقابلے میں گھنے جنگلات ہیں


لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب دشوار پہاڑی سفر کے لیے گھوڑوں، گدھوں اور خچروں کا استعمال کیا جاتا ہے


لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب گھروں کی فن تعمیر دیگر علاقوں سے منفرد ہے۔


 

لائن آف کنٹرول کے اِس پار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دریائے نیلم کے کنارے آباد  شہر شاردہ کا ایک منظر 


وادی نیلم کے شہر شاردہ میں ہندومت میں علم کی دیوی سمجھی جانے والی شاردا دیوی سے منسوب دو ہزار سال قدیم شاردہ یونیورسٹی کا منظر، جو سنسکرت کے عالموں کا گڑھ رہی ہے۔


وادی نیلم کے گاؤں کیل کے قریب شیخ بیلہ کے مقام پر قدرتی طور پر انسان کی شکل سے مشابہت رکھنے والی ایک پہاڑی 

زیادہ پڑھی جانے والی تصویر کہانی