آسٹریا کے ایک گاؤں کا نام کیوں تبدیل ہوا؟

اس سے پہلے گاؤں کا نام ایسا تھا جو غیر متوقع طور پہ لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتا تھا۔ لوگ اس نام کے ساتھ دور دور سے تصویریں بنوانے آتے تھے۔

(اے ایف پی)

غیر متوقع توجہ سے پریشان ، بالائی آسٹریا کے خطے کے فوکنگ گاؤں نے اپنا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس گاؤں نے جہاں سو کے قریب لوگ رہتے ہیں، انٹرنیٹ پر اتنی شہرت پائی کیونکہ اس کے نام کا مطلب انگریزی میں جنسی تعلق ہوتا ہے۔

بہت سارے سیاح گاؤں کے نام کے بورڈ کے ساتھ تصاویر لینے آتے تھے۔ عجیب و غریب یلغار تھی یہاں تک کہ اس علامت کو بھی چرا لیا گیا جس سے رہائشیوں کو پریشانی ہوئی۔ حکام نے کنکریٹ اور دیگر چیزوں سے اسے چوری ہونے سے بچانے کی بھی کوششیں کیں۔

اس پر گاؤں کے نئے نام کو فوگنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس ٹارسڈورف میونسپیلٹی سے جس میں یہ گاؤں واقعے ہے میئر، آندریا ہولزنر نے مقامی اخبار کو ایک بیان میں کہا کہ ’میں اس بات کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ گاؤں کا نام تبدیل کیا جانے والا ہے۔ میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا کیونکہ ماضی میں میڈیا نے اس موضوع پر بہت زیادہ توجہ دی ہے۔‘

یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ اس گاؤں کا نام ، جو سرکاری طور پر گیارہوں صدی کے آس پاس آباد تھا یہ باویرین نوبل فوکو پر مبنی ہے، جس نے چھٹی صدی میں اس بستی کی بنیاد رکھی تھی۔

اب ویانا سے 350 کلومیٹر مشرق میں اس گاؤں کے لوگوں کے لیے نیا سال نیا نام (Fugging)لے کر آئے گا۔

مقامی لوگ اس تبدیلی سے خوش ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ