ایران کی جانب سے اپنے جوہری سائنسدان کے قتل کا بدلہ لینے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے بیرون ملک اپنے شہریوں کو بڑھتے ہوئے ’خطرے‘ سے متعلق خبردار کیا ہے۔
گذشتہ جمعے ایران نے تہران کے قریب ہلاک ہونے والے سائنس دان محسن فخری زادہ پر حملے کا الزام اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد پر لگاتے ہوئے بدلا لینے کا کہا تھا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ’ایرانی قیادت کی طرف سے حالیہ دھمکیوں کی روشنی میں ہمیں خدشہ ہے کہ ایران اسرائیلی اہداف پر حملہ کر سکتا ہے۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل نے افریقی اور ایران کے قریبی ممالک جارجیا، آذربائیجان، ترکی، عراق کے کرد علاقے، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں اپنے شہریوں کو ممکنہ حملوں سے خبردار کیا ہے۔
اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل نے فرانس، جرمنی اور آسٹریا میں حال ہی میں ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی شدت پسند تنظیمیں، خاص طور پر داعش اس طرز کے مزید دہشت گردانہ حملے کر سکتی ہیں۔
کونسل نے اسرائیلی مسافروں کو اپنی منزل سے متعلق کسی بھی انتباہ کی جانچ پڑتال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ممکن ہے کہ ’اسلامی‘ دہشت گردی کی موجودہ لہر اسرائیل یا یہودی برادریوں، ان کی عبادت گاہوں، کوشر ریستورانوں اور یہودی عجائب گھروں کو نشانہ بنا سکتی ہے۔‘
بحرین اور متحدہ عرب امارات نے ستمبر میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے اور گذشتہ ماہ ہی دبئی اور تل ابیب کے مابین کمرشل فضائی سروس کا آغاز ہوا ہے۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ نے ہفتے کو ایک علاقائی کانفرنس کے لیے بحرین کا دورہ کرنا تھا لیکن سفارتی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایران کی جانب سے فخری زادہ کے قتل کا الزام اسرائیل پر عائد کرنے اور انتقامی کارروائی کی دھمکی دینے کے بعد ان کا یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
ایران کے اعلیٰ سکیورٹی اہلکار ریئر ایڈمرل علی شمخانی نے پیر کو الزام لگایا تھا کہ ’صہیونی حکومت اور موساد‘ ایرانی سائنسدان کے قتل میں ملوث ہیں۔
اسرائیل میں عہدیداروں نے اس حملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسرائیلی وزیر اعظم بینامین نتن یاہو نے جمعرات کو ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ بین الاقوامی جوہری معاہدے سے فائدہ اٹھا کر یمن، عراق اور شام میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔
امریکی نو منتخب صدر جو بائیڈن نے گذشتہ روز ایران کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے اور جوہری معاہدے میں دوبارہ امریکہ کو شامل کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا تھا۔
نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ جوہری معاہدے کی بحالی کا مطلب ’شیر‘ کو پنجرے سے باہر نکلانے کے مترادف ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے جو بائیڈن کے حلف لینے سے قبل اپنے ایٹمی سائنسدان کے قتل پر جوابی کارروائی کا امکان نہیں ہے۔
ایران اور وینزویلا کے لیے واشنگٹن کے خصوصی نمائندے ایلیوٹ ابرامز نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ تہران کو امریکہ کی طرف سے پابندیوں کے خاتمے کی اشد ضرورت ہے اور جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے سے قبل وہ ایسی کوئی حرکت نہیں کریں گے جس سے ان پر پابندیوں کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ حائل ہونے کا امکان ہو۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ (ایران) پابندیوں سے نجات چاہتے ہیں تو وہ جانتے ہیں کہ انہیں 20 جنوری کے بعد کسی طرح کی بات چیت کرنے کی ضرورت ہے اور یہ بات ان کے دماغ میں ہے کہ اب اور 20 جنوری کے درمیان کوئی ایسی سرگرمی نہ کریں جس سے پانبدیوں کے خاتمے کا حصول مشکل ہو جائے۔‘