پاکستان کے اندر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: بھارتی فوج

گذشتہ روز ایل او سی پر بھارت اور پاکستان کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے کچھ ہی گھنٹے بعد پاکستانی میڈیا میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبریں چلنے لگیں کہ بھارت کی جانب سے ممکنہ حملے کے پیش نظر پاکستانی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

29 اگست 2019 کو   لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایک پاکستانی چیک پوسٹ سے لی گئی تصویر، جس میں بھارتی چیک پوسٹ پر  ان کا پرچم لہرا رہا ہے (اے ایف پی)

بھارتی فوج نے 'پاکستان کی حدود میں ممکنہ کارروائی یا حملے' سے متعلق پاکستانی میڈیا کی رپورٹس کو محض پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا پاکستان کے اندر حملہ یا کارروائی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

بھارتی نیوز چینل اے بی پی نیوز نے ایک رپورٹ میں بتایا: 'بھارتی فوج نے ایک بیان جاری کرکے پاکستان میں چلنے والی خبروں کو پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ بھارتی فوج کا پاکستان کے اندر حملہ یا کارروائی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔'

گذشتہ روز لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت اور پاکستان کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے کچھ ہی گھنٹے بعد پاکستانی میڈیا میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبریں چلنے لگیں کہ بھارت کے 'پاکستان کی حدود' میں سرجیکل سٹرائیک کرنے کی ایک اور کوشش کے ممکنہ خطرے کے باعث پاکستانی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے جب بھارت کے دفاعی ذرائع سے پوچھا کہ پاکستان کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ بھارتی فوج 'پاکستانی حدود' کے اندر کارروائی کرے گی تو انہوں نے بھی اسے 'پاکستانی پروپیگنڈا' قرار دیا۔

انہوں نے بتایا: 'پاکستان نے بدھ کی رات دس بجے ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے منکوٹ سیکٹر میں کسی بھی اشتعال کے بغیر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کرنے کے علاوہ مارٹر گولے داغے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'بھارتی فوج نے پاکستانی گولہ باری کا منہ توڑ جواب دیا، جس کے نتیجے میں پاکستانی فوج کے دو اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ دو طرفہ گولہ باری کا تبادلہ جمعرات کی صبح تک جاری رہا۔'

دوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے کی گئی ایک ٹویٹ میں بھارتی فوج پر گولہ باری شروع کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دو پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا: 'بھارتی فوج نے ایل او سی کے خوراٹا سیکٹر میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں، جس پر پاکستانی فوج نے منہ توڑ جواب دیا۔ بھارتی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان ہونے کی اطلاعات ہیں۔ گولہ باری کے تبادلے کے دوران دو فوجی اہلکار لانس نائیک طارق اور سپاہی زاروف بہادری کے ساتھ لڑائی کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔'

انگریزی اخبار ڈان کی ایک رپورٹ میں 'باخبر ذرائع' کے حوالے سے کہا گیا کہ لداخ اور ڈوکلام میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت خطے کے امن و استحکام کو خطرہ میں ڈالتے ہوئے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری کے اندر ایک اور حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

اخبار نے ایک نامعلوم سرکاری عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ بھارت کسانوں کے جاری احتجاج، اقلیتوں کے ساتھ اپنے برتاؤ، اپنے زیر انتظام کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم اور بین الاقوامی اداروں اور میڈیا کی جانب سے اس کی پالیسیوں پر تنقید سمیت مختلف اندرونی معاملات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک 'فالس فلیگ آپریشن' کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید کہا گیا کہ 'بھارت اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کسی بھی وقت پلوامہ کی طرح کا ڈرامہ دہرا سکتا ہے اور وہ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر ایک اور کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔'

ستمبر 2016 میں بھارت نے ایل او سی کے اندر 'پاکستانی حدود' میں عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر سرجیکل سٹرائیک کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم پاکستان نے بھارتی دعوے کو مسترد کیا تھا۔

بعدازاں فروری 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف اسی طرح کی ایک اور کارروائی کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے دوران بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتار کیا گیا تھا جنہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان 2003 میں جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے باوجود بھی سرحدوں پر دونوں ممالک کی افواج کی جانب سے ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا