علی ظفر کی درخواست پر میشا شفیع کے خلاف تحقیقات مکمل

علی ظفر نے اپنے خلاف سوشل میڈیا مہم پر ایف آئی اے سائبر کرائم میں درخواست جمع کروائی تھی، جس کی تحقیقات کے بعد میشا شفیع سمیت آٹھ افراد کو 'قصوروار' قرار دیا گیا ہے۔

میشا شفیع نے 19 اپریل 2018 کو علی ظفر کی جانب سے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے ٹویٹ کی تھی (تصاویر: انڈپینڈنٹ  اردو)

اداکار و گلوکار علی ظفر کے خلاف شوشل میڈیا پر مہم چلانے والے ملزمان کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اپنی تحقیقات مکمل کرکے چالان پراسیکیوشن کو جمع کروا دیا ہے، جس میں گلوکارہ میشا شفیع اور اداکارہ عفت عمر سمیت آٹھ افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جس کا جائزہ پراسکیوشن کی دو رکنی ٹیم لے گی۔

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور کی جانب سے جمع کروائے گئے  عبوری چالان کے مطابق میشا شفیع سمیت ان آٹھ افراد نے علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر توہین آمیز مہم چلائی اور کیس کی تحقیقات کے دوران نامزد افراد اپنے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔

ایف آئی اے نے انہیں قصور وار قرار دیتے ہوئے  ٹرائل کورٹ کو اس کیس کی مزید تحقیقات کرنے کی درخواست کی ہے۔

علی ظفر نے نومبر 2018 میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور  کو درخواست دی تھی کہ سوشل میڈیا پر انہیں بدنام کرنے کے لیے گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع سمیت دیگر اداکار اور سماجی طور پر متحرک افراد ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک پر ان کی کردار کشی کے لیے توہین آمیز مواد پوسٹ کرکے ان کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی درخواست کے ہمراہ تمام سماجی رابطوں کے اکاؤنٹس اور پیغامات بھی منسلک کیے تھے۔

چالان میں یہ بھی لکھا ہے کہ میشا شفیع نے 19 اپریل 2018 کو علی ظفر کی جانب سے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے 'جھوٹی' اور 'توہین آمیز' ٹویٹ کی تھی۔ اس حوالے سے بھی وہ عدالت میں کوئی ٹھوس ثبوت یا گواہ پیش نہیں کر سکیں جبکہ دیگر افراد بھی علی ظفر پر مختلف وقتوں میں لگائے گئے الزامات کے خلاف کوئی شواہد پیش نہیں کرسکے، جس کے بعد عدالت کے حکم پر ان کے خلاف ستمبر 2018 میں قانون برائے انسداد الیکٹرانک جرائم 2016 کی دفعہ (1)20 (کو دفعہ 109 تعزیرات پاکستان کے ساتھ پڑھا جائے) کے تحت ایف آئی آر دائر کی گئی، جس کے بعد علی ظفر نے نومبر 2018 میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو اپنے خلاف شوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کے حوالے سے درخواست دی۔

'ایف آئی اے تحقیقاتی ادارہ ہے، جج یا جیوری نہیں'

اس سارے کیس کے حوالے سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے میشا شفیع کی وکیل نگہت داد سے بات کی تو ان کا کہنا تھا: 'ایف آئی اے نے ستمبر میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے 14 دن کے اندر چالان جمع کروانا تھا مگر وہ نہیں کروایا اور اب عبوری چالان جمع کروا دیا ہے۔ ایف آئی اے ایک تحقیقاتی ادارہ ہے، وہ کوئی جج یا جیوری نہیں ہے جو فیصلہ کرے کہ کون قصور وار ہے اور کون بے قصور۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بقول نگہت: 'انہوں نے تو اپنی تحقیقات کرکے عدالت میں جمع کروانی ہیں۔ اس کے بعد عدالت ان تحقیقات کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں فریقین کے وکلا کو سن کر فیصلہ کرے گی کہ جو شکایت کی گئی کیا وہ توہین کے زمرے میں آتی بھی ہے کہ نہیں۔'

نگہت نے مزید کہا: 'میڈیا اس کیس کے حوالے سے جو خبریں دے رہا ہے کہ ایف آئی اے نے میشا سمیت آٹھ افراد کو قصور وار قرار دیا ہے وہ عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔'

 نگہت داد کے مطابق: 'پہلے ہی ہتک عزت کا ایک مقدمہ چل رہا ہے، دوسری جانب میشا کو ہراساں کیے جانے والا کیس بھی سپریم کورٹ میں التوا کا شکار ہے۔ ایسے میں ایف آئی اے فراہم کردہ مواد کو کس طرح توہین آمیز قرار دے سکتا ہے؟ اب اگر ایف آئی اے کہہ دیتی ہے کہ میشا مجرم ہیں اور عدالت انہیں سزا دے دیتی ہے تو پھر سول کورٹ کیا کرے گی، جہاں ہتک عزت کا کیس چل رہا ہے۔ ہم اب تک عدالتوں کا حکم مانتے آئے ہیں اور اب بھی جو عدالتیں کہیں گی وہ ہم کریں گے۔'

'ہماری کہانی میشا کی ہراسانی والی ٹویٹ سے پہلے شروع ہوتی ہے'

دوسری جانب علی ظفر کی وکیل بیرسٹر عنبرین قریشی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: 'ایف آئی میں ہم نے دو سال پہلے درخواست دی تھی کہ علی ظفر کے خلاف ایک منظم سوشل میڈیا مہم چلائی گئی۔'

بقول عنبرین: 'ہماری کہانی وہاں سے شروع نہیں ہوتی جہاں آپ کو میشا کی پہلی ٹویٹ نظر آتی ہے، جس میں انہوں نے علی ظفر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔ ہم نے درخواست میں مواد اس سے پہلے کا دیا ہے، جب علی ظفر کو دھمکی آمیز پیغامات بھیجے گئے تھے۔ ہم نے اپنی درخواست میں سب لکھا تھا کہ کس طرح میشا اور ان کے ساتھیوں نےجھوٹے اکاؤنٹس بنائے کہ پہلے میشا، علی کے خلاف کچھ پوسٹ کریں گی اور اس کے بعد ان کے دوسرے ساتھی کریں گے۔ ہم نے تمام ثبوت ایف آئی اے کو دیے اور انہوں نے ان کی فرانزک تحقیقات کرکے میشا کو بلایا، لیکن میشا اپنی صفائی میں کچھ ثابت نہیں کرسکیں۔'

علی ظفر کی وکیل کا مزید کہنا تھا: 'نیہا سہگل کے نام سے ایک جھوٹا ٹوئٹر اکاؤنٹ بنایا گیا، جس پر میشا کے علی ظفر پر الزام لگانے سے 50 دن پہلے سے علی ظفر کے خلاف ٹویٹس پوسٹ ہونا شروع ہوگئی تھیں۔ اس اکاؤنٹ سے علی اور ان کی فیملی کے خلاف تین ہزار کے قریب ٹویٹس پوسٹ کی گئیں۔ یہ سائبر کرائم ہے۔'

'اس کے علاوہ جنسی ہراسانی کا کیس ہائی کورٹ پہلے ہی برخاست کر چکی ہے۔ جس ٹویٹ میں میشا نے کہا کہ انہیں ہراساں کیا گیا ہے اس سے ایک دن پہلے وہ اپنے اور علی کے کانسرٹ کی تصویر ٹویٹ کرتی ہیں اور اس میں علی کو ٹیگ بھی کرتی ہیں اور اس کے بعد انہوں نے وہ تصویر ڈیلیٹ کردی۔ ہمارے پاس اس کے سکرین شاٹس تھے، اس تصویر کا بھی فارنزک ہوا جس میں ثابت ہوا کہ وہ تصویر میشا کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر موجود تھی جس میں یہ ثابت ہوا کہ وہ علی کو مخاطب کرکے ان کا شکریہ ادا کر رہی تھیں کہ انہوں نے اچھا وقت گزارا، سب کچھ جنسی ہراسانی کے کیس سے جڑا ہے کیونکہ اگر کوئی ہراساں ہوتا ہے تو اس کے دو گھنٹے بعد وٹس ایپ یا ٹوئٹر پر کسی کا شکریہ ادا نہیں کرتا۔'

انہوں نے مزید کہا: 'ایف آئی اے میں ہم نے اپنی درخواست سائبر کرائم کے تحت جمع کروائی تھی، اس لیے یہ کیس باقی کیسز سے الگ مانا جائے گا۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان