سائنس بڑھاپے کو روک سکتی ہے، لیکن کیا آپ ایسا چاہیں گے؟

بہت جلد اپنی 40ویں سالگرہ منانے والی سیری ریڈفورڈ، اینڈریو سٹیل کی نئی پُر تجسس کتاب ’لمبی عمر: بوڑھے ہوئے بغیر بڑے ہونے کی نئی سائنس‘ کا جائزہ لیتی ہیں۔

کچھووں پر ’معمولی بڑھاپا‘ آتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ عمر کے ساتھ ان کی جسمانی صلاحیتیں کمزور نہیں پڑتیں( پکسا بے)

میں اس مہینے 40 سال کی ہونے لگی ہوں اور اس سنگ میل تک پہنچتے ہوئے میں 90 فیصد مطمئن اور دس فیصد ہلکا سا وجودی خوف محسوس کرتی ہوں۔

ایک طرف بچے اور ملازمت کے ساتھ میں اتنی مصروف ہوں کہ ادھیڑ عمری میں بڑھتے ہوئے پیٹ کی دیکھ بھال کے لیے وقت نہیں۔ اس کے ساتھ اگر آپ خوش قسمتی سے صحت مند ہیں تو بڑھتی ہوئی عمر سے بچنے کی فکر کھائے جاتی ہے۔

دوسری طرف یہ ناقابل تردید نفسیاتی جھٹکا ہے کہ میں اب 40 اور 60 سال کے دائرے میں پہنچ گئی ہوں۔ کسی نہ کسی طرح سے ایسا لگتا ہے جوانی اور لاپروائی کی عمر سے لڑھک کر اس حصے میں داخل ہو گئی ہوں جہاں لوگ اس دوران میں حاصل کی گئی پختگی کا خیال رکھے بغیر میری سالگرہ کے کیک پر لگی موم بتیوں کا مذاق اڑایں گے۔

میں ابھی تک بس کے لیے بھاگتی ہوں۔ مجھے ابھی بھی برتنوں کے ڈھکن نہیں ملتے۔ میں فن لینڈ کے وزیراعظم سے عمر میں بڑی ہوں لیکن اعتماد سے اپنی جرابوں کا جوڑا نہیں بنا سکتی۔ میں خود کو بہت سمجھدار نہیں سمجھتی لیکن اس کے باوجود بتدریج بڑھتا ہوا ایک احساس ہے جسے سو ٹاؤن سینڈ نے اپنے لافانی کردار آڈر ین مول کی زبانی یوں بیان کیا ہے، میں ’مسوڑھوں کی بیماری، ویل چئیر ریمپس اور موت کی قابلِ رحم ڈھلوان پر لڑھک رہی ہوں۔‘

کیا یہ مرحلہ ناگزیر ہے؟ یہ سائنس دان اور مصنف اینڈریو سٹیل کی دور رس اور بلند حوصلہ نئی کتاب ’لمبی عمر: بوڑھے ہوئے بغیر بڑے ہونے کی نئی سائنس‘ کا مرکزی سوال ہے۔ وہ لافانیت کا دیومالائی تصور نہیں پیش کر رہے بلکہ ہمارے بڑھاپے کا سبب بننے والے حیران کن حیاتیاتی عوامل اور ان سے بچنے کے لیے ابھرنے والے نئے طریقے بتا کر لمبی اور صحت مند زندگی گزارنے کا امکان پیش کر رہے ہیں۔

اس کا پس منظر یہ ہے: انسانی عمر کا بہت زیادہ انحصار زمان و مکان پر ہے جیسے 19ویں صدی میں بچوں کی کثرت اموات کی وجہ سے ہر کہیں عام طور پر متوقع عمر 40 سال تھی۔ جانوروں کی دنیا سے مثالیں پیش کرتے ہوئے سٹیل کہتے ہیں کہ عمر کا دورانیہ مئی فلائی نامی مکھی کی پانچ منٹ زندگی سے لے کر گرین لینڈ شارک کے 400 سال تک پھیلا ہوا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہم مکھی ہیں نہ شارک۔ لیکن اگر ہم اس خیال کو قبول کر لیں کہ انسانی زندگی 82 سال تک محدود نہیں اور عمر کی حد بندی کے متعلق تحقیق کے تمام امکانات کو کھنگالیں تو ممکن ہے ہم کچھوؤں جیسے بن سکیں۔ جیسا کہ سٹیل وضاحت کرتے ہیں کہ فطری ماحول میں رہنے والے چند گنے چنے دوسرے خوش قسمت جانوروں سمیت گالاپیگس کے کچھوے ’معمولی سن رسیدہ‘ ہوتے ہیں، یعنی ’معمر ہونے سے بظاہر ان کی نقل و حمل یا حواس کمزور نہیں پڑتے اور نہ ہی عمر کی وجہ سے ان کی تولیدی صلاحیت زوال کا شکار ہوتی ہے۔‘

 وہ تاابد نہیں جیتے۔ لیکن 2006 تک زندہ رہنے والے چارلس ڈارون کے دریافت کردہ دیو قامت کچھوے کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں ہیریٹ 170 سال کی عمر میں بھی اتنی ہی طاقت ور تھی جتنی وہ ملکہ وکٹوریہ کے عروج کے دنوں میں 30 سال کی عمر میں تھی۔ دونوں میں یہ فرق تو ہے کہ وہ بہرحال دیو قامت کچھوا تھی۔ ایسا زندگی سے بھر پور روپ قاری میں انسانی جسم پر بڑھتی عمر کے بے رحم لگان کا احساس پیدا کرتا ہے۔ مزاح نگار نورا افورن نے چاہے اپنی سنجیدہ آپ بیتی کو ’میں اپنی گردن کے متعلق برا محسوس کرتی ہوں‘ کا نام دیا ہو لیکن اس کتاب سے بڑھتی ہوئی عمر کا چیلنج جمالیاتی کم جبکہ جسمانی انہدام اور تباہی کی تصویر زیادہ نظر آتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کے مایوس کن اعداد و شمار؟ آپ کی موت کا امکان ہر آٹھ سال بعد دوگنا ہوتا چلا جاتا ہے کیونکہ بے شمار عوامل ہمارے لیے بتدریج کینسر، دل کی بیماریوں، شریان کے پھٹنے، ڈیمنشیا اور ذیابیطس جیسی بڑی بیماروں کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔

سٹیل نہایت نفاست سے قابل فہم انداز میں ہمارے زوال کے پیچھے کار فرما عوامل بیان کرتے ہیں۔ ایک اہم چیز ہے ڈسپوزیبل سوما تھیوری (disposable soma theory)۔ یہ وہ ارتقائی منطق ہے جس کی بنا پر ہمارے تولیدی خلیوں کو جسم کے دوسرے خلیوں پر ترجیج دی جاتی ہے۔ میں نے ہمیشہ اس بات کو شک کی نگاہ سے دیکھا کہ بچہ پیدا کرنے سے کسی طرح میری زندگی کی قوت کم ہوئی ہے: یہ رہا ثبوت۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے ہمارے باقی ماندہ جسمانی خلیات مسائل کا باعث بننے لگتے ہیں۔ خلیے کی صحت مندانہ تقسیم کے لیے ضروری کروموسومز پر حفاظتی خول ٹیلومیرز کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ اپنے ناکارہ ملبے سے خلیات کی نجات کا عمل جسے ’آٹوفیجی‘ کہتے ہیں وہ زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ پروٹین لیس دار شکل میں اکٹھی ہو کر جمنے لگتی ہیں اور ایلزہائمرز بیماری کا باعث بنتی ہیں۔

کمزور خلیے خاصی دیر زندہ رہتے ہیں، اور مزید تقسیم ہوئے بغیر پڑے رہنے والے پرانے، زومبی خلیات جو مرنے سے انکار کر دیتے ہیں، انہیں سن رسیدہ خلیات کہتے ہیں۔ خلیات کو طاقت فراہم کرنے والا ہمارا مائٹوکونڈریا درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ جاتا ہے۔ سٹیم خلیات کمزور پڑ جاتے ہیں۔ دائمی سوزش ذیابیطس سے لے کر کینسر تک ہر چیز کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ یہ چونکا دینے والی بات ہے کہ آپ کی بیالوجی میں چند سرمئی بالوں یا عالمی وبا کے دوران زوم کالز پر 35 سال سے بڑی عمر کے لوگوں کے لیے مصیبت بنی چہرے کی خراشوں کے علاوہ دراصل بہت سی بدترین چیزیں گردش کر رہی ہیں۔

لیکن اگر اس کے الٹ ہو تو پھر؟ 2125 میں چاند کے دوطرفہ سفر کا ٹکٹ ابھی سے بُک نہ کریں۔ سائنس کو ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ جیسا کہ سٹیل وضاحت کرتے ہیں کہ بہت ساری تحقیق ابھی ابتدائی منازل پر ہے جو اچانک نازل والی مصیبتوں اور غیر ارادی نتائج کا مقابلہ کرنے میں الجھی ہوئی ہے۔ لیکن موجودہ عہد میں علاج معالجے کے لیے موجود کمپیوٹر کی بڑی سطح پر پیش رفت سے کئی روشن اقدامات کی توقع ہے۔

سٹیل مفروضہ قائم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سینولٹکس (senolytics)، یا بوڑھے خلیات کو تباہ کرنے والی ادویات، اگلے چند برسوں کے اندر اندر دستیاب ہو جائیں گی۔ اس کے بعد ’کئی دہائیوں کی دوری پر زیادہ بہتر علاج جیسے جین اور سٹیم سیل تھیراپیاں میسر ہوسکتی ہیں۔‘

بالآخر ناکارہ گُھٹنے اور بند شریانوں جیسے عمر کو متاثر کرتے اکادکا مسئلہ حل کرنے کی بجائے ہم ’سسٹمز میڈیسن‘ کے مرحلے تک پہنچ جائیں گے جو خرابی کو ہونے سے پہلے ہی روک دے گا۔

’پہلی سدا جوان نسل کو شاید اپنی خوشی قسمتی کا اندازہ ہی نہ ہو بلکہ وہ 100 یا 150 یا ان کے سماج کے لیے جو بھی عمر ہو، اس پر موت کے انتظار کے ساتھ ساتھ بڑے ہوتے جائیں گے اور ایک کے بعد ایک زندگی بچانے والے طبی انکشافات ان کے جنازے مستقبل میں دھکیلتے چلے جائیں گے۔‘

سٹیل خارجی نقطہ نظر کے ساتھ بہت اعتماد سے لکھتے ہیں۔ انہیں نے فزکس میں پی ایچ ڈی کی پھر کمپوٹیشنل بیالوجی کا رخ کیا اور اس کے بعد بطور مصنف اپنی دلچسپی کے مطابق بڑھتی عمر کو اپنا موضوع بنایا۔ پیشے کی اس تبدیلی کے اعتبار سے وہ لمبی داڑھی والے عمر مخالف تحریک کے پرچارک ایوبری ڈی گرے سے مشابہت رکھتے ہیں جنہوں نے کمپیوٹر سائنس سے آغاز کیا۔ سٹیل بے تکی پیشین گوئی کے معاملے میں ڈی گرے کے مقابلے پر زیادہ محتاط واقع ہوئے ہیں، جنہوں اسی منطق سے انسان کے ہزار سال تک زندہ رہنے کے مشہور دعوے سے سائنس دانوں کی نیندیں اڑا دی تھیں، لیکن اس کے باوجود دونوں کی منطق ملتی جلتی ہے۔

کیا ہم ہنسی خوشی جھریوں اور آنت کے سرطان سے نجات حاصل کریں گے اور سائنس سے ایسی توقع کرتے ہوئے کیا ہم واقعی سدا جوان رہنے والے معاشرے کے لیے تیار ہیں؟

سٹیل نہایت منطقی بات لکھتے ہیں کہ کوئی بھی بڑھاپے کے دکھوں کو دنیا کی گنجان آبادی کے مسئلے کے حل کے طور پر ایجاد نہیں کرے گا لیکن یہ تحقیق بہرحال دلچسپ مسائل کا پینڈورا بکس کھول دیتی ہے۔

تصوراتی دنیا میں صدیوں تک چھلانگیں لگانے کے بجائے ہم یقیناً شعبہ طب میں گہری ہوتی بھیانک ناانصافیوں کو پہلے دور کریں گے۔ اس وقت امریکہ کے امیر اور غریب آبادی والے علاقوں کی زندگی کے درمیان عمر کا نو سالہ فرق ہے۔ اسی بات کے ساتھ کچھ عمدہ احتیاطی ادویات بھی شامل کر لیجیے اور آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کون پہلے انہیں حاصل کرے گا۔ مزید برآں کام کاج کی جگہ بالخصوص ملازمت کے زیادہ موقع فراہم کرنے والی ٹیکنالوجی کی صنعت میں عمر کے بارے میں تعصب کم کرنے اور ہوڈی میں تازہ دم دکھانے والی گولیاں کون نہیں خرید سکے گا؟

بل برائسن کے سے زور قلم اور کسی سائنس دان جیسے تکنیکی علم کے ساتھ سٹیل آخرکار ہمیں موقع فراہم کرتے ہیں کہ انسانی حیاتیات میں ضم ہوتے بڑے اعداد و شمار کے چمکتے دمکتے عہد میں جو داؤ پر لگا ہے اسے جان سکیں اور اس کا سد باب کر سکیں۔ ’معمولی بڑھاپا‘ فی الحال میرے نئے سال کے عہد کا حصہ نہ سہی، لیکن میں بخوشی کچھوے کی چال چلتے ہوئے بڑھاپے کی اگلی منزل تک پہنچنے کے لیے تیار ہوں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت