فرانسیسی ڈاکٹر جس نے کاسابلانکا کو تبدیلیِ جنس کا مرکز بنا دیا

تبدیلیِ جنس کے مشہور سرجن ڈاکٹر جارجیس برو جن کے گاہکوں میں سے ایک جان مورس ابھی تک ہمارے عہد میں بحث کا حصہ ہیں۔

(Errammani Abderrazak:CC BY-SA 4.0)

کاسابلانکا مراکش کا سب سے نرالا شہر ہے۔ 20ویں صدی کے آغاز میں تعمیر کی گئی تفریح گاہوں، شاپنگ سینٹروں اور آرٹ ڈیکو پریڈز کا یہ شہر تجارتی، شہری اور یورپی طرز زندگی کا نمونہ ہے۔ بلند و بالا مسجد حسن ثانی، بحر اوقیانوس کے شاندار ساحل اور خیرہ کن چمک دمک کے باوجود یہ مراکش شہر اور فاس کی طرح سیاحتی مرکز نہیں بن سکا۔

لیکن یہ ’دودھیا شہر‘ تبدیلیِ جنس کے آپریشن یا جی آر ایس کا گڑھ ہونے کی وجہ سے تاریخ میں سنگ میل بن گیا ہے۔ 1950 کے عشرے سے 1970 کی دہائی تک مشہور ماہر امراض نسواں ڈاکٹر جارجیس بورو کی وجہ سے کاسابلانکا تبدیلی جنس کے ذریعے مرد سے عورت بنے کے خواہش مندوں کی اہم ترین منزل بن گیا جن میں پچھلے ہفتے زندگی کی آخری سانس لینے والی جان مورس بھی شامل تھیں۔

وہ 1972 میں 45 سال کی عمر میں جی آر ایس کے لیے ڈاکٹر بورو سے ملنے کے لیے گئیں۔ اپنے شعبے میں کلاسیکی حیثیت رکھتی ذاتی یادداشتوں پر مشتمل ان کی 1974 میں سامنے آنے والی کتاب ’معمہ‘ (Conundrum) نے برطانیہ میں اس تصور کو عام کیا جسے تب دوٹوک انداز میں ’سیکس چینج‘ کہا جاتا تھا۔

ایک چھوٹے شعبے جی آر ایس میں ایک رائے کے مطابق ڈاکٹر بورو پہلے نامور سرجن تھے۔ ایک رائے کے مطابق اس لیے کہ بورو کو تجربہ کار امریکی فوجی سٹینلی بائبر سے مقابلہ درپیش تھا جنہوں نے 1960 کی دہائی سے ایک دن میں چار تبدیلیِ جنس کے آپریشن یا ایس آر ایس یعنیsex reassignment surgery  (تب یہ اسی نام سے معروف تھا) سے امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ٹرینیڈاڈ کو ’دنیا میں تبدیلی جنس کا مرکز‘ بنا دیا جبکہ ان کے مدمقابل ایک اور شخص ایلمر بیلٹ بھی تھے جن کے متعلق 1960 کی دہائی کے آخر تک کہا جانے لگا کہ وہ پہلے سرجن ہیں جنہوں نے امریکہ میں ایس آر ایس انجام دیا۔

لیکن ڈاکٹر بورو کی شہرت اور مشہور گاہکوں کا تعلق یورپ سے زیادہ تھا اور 1960 اور 1970 کی دہائی میں برطانیہ بھر میں بہت معروف ہوئے اور جن تبدیلی جنس کے خواہاں افراد کے لیے کاسابلانکا منزل ٹھہرا ان میں مورس اور 1960 میں ماڈل اپریل ایشلے اور ماڈل گلوکارہ امانڈا لئیر بھی شامل تھیں جن کی سرجری کے متعلق کہا جاتا ہے کہ 1964 میں وقوع پذیر ہوئی اور اس کا خرچ مبینہ طور پر ان کے ساتھی  اور مشہور ہسپانوی مصور سالواڈور ڈالی نے برداشت کیا۔ کہا جاتا ہے ڈاکٹر بورو نے اس وقت 1,250 ڈالر فیس وصول کی جو آج کے کم و بیش 10,000 ڈالر بنتے ہیں۔

حالیہ سالوں میں جی آر ایس کا معاملہ عوامی بیانیے کا وسیع اور مسلسل موضوع بن چکا ہے۔ دراصل یہ کہنا کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ یہ آج کے بنیادی اخلاقی مسائل میں سے ایک بن چکا ہے۔ اس وجہ سے بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے جی آر ایس ایسا مسئلہ ہے جو پچھلے دس سالوں میں سامنے آیا، لیکن اس کی جڑیں زیادہ گہری ہیں اور جدید عہد میں اسے کم و بیش ایک صدی پرانا سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ اس میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن بالعموم رائے یہی ہے کہ جی آر ایس کی پہلی بنیاد جرمنی میں 1920 کے عشرے میں پڑی جب 1920 اور 1930 کی دہائی کے آغاز کے دوران برلن کے ادارہ برائے جنسی تحقیق میں جنسی تحقیق کے بنیاد گزار مگنس ہرشفیلڈ کے زیر اثر جی آر ایس کے ذریعے مرد سے عورت بننے کا رجحان پڑا۔

برطانیہ میں فلہم پیلس روڈ پر واقع چئیرنگ کراس ہسپتال بھی اس کی دستیابی کا ابتدائی مرکز تھا۔ یہاں نامور ترین مریضہ 1924 اور 1930 کے دوران انگلینڈ کی بہترین گولہ انداز اور 1927 کی درجہ اوّل کی تیر انداز میری ایڈتھ لوئیز ویسٹن تھیں۔ 1936 میں جنوبی افریقہ کے سرجن لینکس بروسٹر نے لندن کے چئیرنگ کراس میں میری میکر کے دو آپریشن کیے جس کے بعد وہ مارکر بن گئیں اور دو ماہ بعد پلمتھ  کے مقام پر البریٹا برے سے شادی کر لی۔ بروسٹر نے ایک جملے میں ایسی بات کہی جو اگر آج ٹوئٹر پر ہوتی تو متنازع انداز میں بار بار دہرائی جاتی: ’مسٹر مارک ویسٹن جو بطور خاتون پلی بڑھی تھیں، اب وہ مرد ہیں اور انہیں آگے زندگی اسی طرح جاری رکھنی چاہیے۔‘     

ایسے لبرل ازم کو Physical Culture نامی رسالے کے جنوری 1937 کے شمارے میں ویٹسن اور اولمپکس میں 100 میٹر کی دوڑ جیتنے والے چیکوسلاواکیہ کے کھلاڑی زڈینک کے حوالے کے ساتھ ڈونلڈ فرتھ مین وکٹس کے ’کیا انسانوں کی جنس تبدیل کی جا سکتی ہے‘ نامی انقلابی مضمون کی تائید حاصل تھی۔ وکٹس نے ایک اور سطر لکھی جو آج ٹوئٹر پر طوفان برپا کر سکتی ہے کہ ’کھیل پر لکھنے والے صحافی انہیں تیز ترین قدموں والی عورت کہتے رہے۔‘ (‘the fastest woman on legs’)

تنازعات سے قطع نظر، ان کے اور خود ڈاکٹر بورو کے کام نے دوسری جنگ عظیم کے بعد والے زمانے کے لیے راستہ ہموار کیا۔ ایک بے مثل ماہر امراض نسواں ڈاکٹر بورو فرانسیسی تھے جو الجیریا میں پلے بڑھے اور وہیں طبی مشق کا آغاز کیا لیکن غیر قانونی اسقاط حمل کے باغیانہ اقدامات کی وجہ سے فرانسیسی معالجین کے دائرے سے نکال دیے گئے۔

کشتی رانی کے انتہائی شوقین بورو نے بحر اوقیانوس کے کنارے مراکش جانے کی ٹھانی اور کاسابلانکا کے مرکزی مقام حسن ثانی ایونیو کے قریب پرک کلینک میں قدم رکھا جہاں وہ اسقاط حمل، آئی وی ایف اور بالآخر ایس آر ایس یا جی آر ایس کے لیے مشہور ہوئے۔ کاسابلانکا اس وقت سرجری کی دستیاب سہولتوں کے مطابق زیادہ ممکن العمل مرد سے عورت بننے والوں کا گڑھ بن گیا۔ 1956 میں جب پیرس کے لا کیروسل کلب کے گلوکار جیکولن شارلٹ ڈفریسنوئے یا کوکینل ان کے پاس جی آر ایس کے لیے گئے تو پہلی بار ڈاکٹر بورو کا نام اچانک عوامی سطح پر گونجنے لگا۔ یہ در وا ہوتے ہی خبریں برطانیہ تک پھیل گئیں اور 1960 میں جی آر ایس کروانے والے ایشلے ڈاکٹر بورو کے نویں اور پہلے برطانوی بن گئے۔

 ان کی ’ون سٹیج‘ جی آر ایس طبی زبان میں کے نام سے مشہور ہوئی۔

اس ’گولڈ سٹینڈرڈ‘ سرجری میں ریکٹم اور پروسٹیٹ کے درمیان عضو تناسل اور خصیہ دان سے حاصل کیے گئے ٹشوز کی مدد سے بھر کر خود ساختہ نئی اندام نہانی بنائی جاتی ہے جس میں لیبیا اور کلٹرس بھی شامل ہوتے ہیں۔

1974 میں ’پیرس میچ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ڈاکٹر بورو نے اپنے کام کو اس وقت کی کیفیت میں یوں بیان کیا کہ ’میں نے یہ مخصوص کام تقریباً حادثاتی طور پر شروع کیا جب ایک نہایت خوبصورت عورت میرے پاس آئی۔ دراصل بعد میں مجھے پتہ چلا کہ وہ کاسابلانکا میں ساؤنڈ انجینیئر 23 سالہ مرد تھا جو عورتوں کے لباس میں آیا۔ اس کی بہت پیاری چھاتی تھی جو اس نے ہارمونز پیدا کرنی والی ادویات کی مہربانی سے بنائی تھی۔‘ مریض نے ڈاکٹر بیرو سے کہا کہ انہیں لگتا ہے ان کا جسم حادثاتی طور پر ایسا بن گیا ہے اگرچہ سرجن بظاہر ایسے آپریشنوں کی تاریخ سے ناواقف تھے لیکن انہیں نے تین گھنٹے کا جی آر ایس آپریشن کرنے کے بعد دعویٰ کیا کہ ’میں نے اسے حقیقی عورت بنا دیا ہے۔‘

پھر تو پارک کلینک جنسی تبدیلی کے ذریعے مرد سے عورت بننے والوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ ایسی نیم خفیہ فضا میں درست تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن 1970 کے عشرے تک ڈاکٹر بورو نے آٹھ سو اور تین ہزار کے درمیان آپریشن کیے۔ جی آر ایس کے خواہش مندوں کو تیاری کرنی، ان کے کلینک کی جگہ ڈھونڈنا اور ضروری حقائق سے آگاہ ہونا پڑتا تھا۔ اس کام میں کسی بہت خطرناک حادثے کا بھی امکان موجود تھا۔

جیسا کہ 1960 میں ڈاکٹر بورو کے پاس جانے کے فیصلے کے حوالے سے ایشلے لکھتی ہیں: ’پیرس میں جنس تبدیلی کے فیصلے کے بارے میں میری اپنے آپ سے خوب کشمکش رہی۔ میں جانتی تھی کہ میں ایک خطرناک آپریشن کی بنیاد رکھنے جا رہی ہوں۔ ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ اس میں کامیابی کا ففٹی ففٹی امکان ہے۔ تاہم میں جانتی تھی کہ میں ایک عورت ہوں اور مردانہ جسم میں نہیں رہ سکتی۔ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ میں سیدھی کاسابلانکا پہنچی اور باقی وہ جیسے کہتے ہیں کہ تاریخ ہے۔‘

 رفتہ رفتہ ان حیران کن خفیہ اقدامات سے پردہ اٹھنے لگا اور ڈاکٹر بورو شعبہ طب کی نامور شخصیت بن گئے جس میں 1960 اور 1970 کی دہائی میں بڑھتی ہم جنس پرستی کے رجحان اور جنسی آزادی نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر فروری 1973 میں امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی میں میڈیکل کانگرس آف ٹرانس سیکشوئیلٹی اور اگلے ہی سال 1974 میں پیرس کی انٹرنیشنل کانگرس آف سیکسالوجی میں ان کو متعارف کروایا گیا۔ ٹائم میگزین نے انہیں ’جنس کے قیدیوں‘ میں شامل کیا۔ یہاں تک کہ یہ بےبنیاد افواہ بھی اڑی کہ مائیکل جیکسن بھی ان کے پاس گئے تھے۔

دنیا جی آر ایس کی طرف راغب ہو رہی تھی شعبہ طب سے وابستہ نئے اور مختلف خیالات کے حامی جیسے امریکہ میں ہیری بینجمن جنہوں نے صنفی شناخت اور ہم جنسیت میں فرق واضح کرتے ہوئے طبی شعبے میں انقلاب برپا کر دیا۔ اس زمانے میں ہم جنس پرستی کو جینڈر ڈس فوریا (اپنی جنس سے بےاطمینانی) سمجھا جاتا تھا اور طب کی مشہور کتاب ’ڈائیگناسٹک اینڈ سٹیٹسٹیکل مینول آف مینٹل ڈس آڈر‘ میں 1974 میں پہلی بار ہم جنسی پرستی کو دماغ خلل کی فہرست سے نکالا گیا۔ یہ وہی سال ہے جس میں مورس کی کتاب ’کننڈرم‘ شائع ہوئی تھی۔

 یہاں تک کہ کٹر مذہبی برطانیہ میں بھی تبدیلی کی طاقتور لہریں ابھرنا شروع ہوئیں۔ 1970 میں اپریل ایشلے اور ان کے شوہر آرتھر کوربٹ کے درمیان مقدمے کوربٹ بمقابلہ کوربٹ میں جج کے فیصلے کہ ایشلے حیاتیاتی طور پر مرد ہے اس لیے شادی ختم کی جاتی ہے، نے ہلچل پیدا کرنے کے ساتھ اس کے حق میں رائے بھی ہموار کی۔ ’کننڈرم‘ میں جان مورس انکشاف کرتی ہیں کہ برطانیہ میں ان کے جی آر ایس کے لیے پیشگی شرط عائد کی گئی کہ اپنی بیوی کو طلاق دوں تو اسی صورت میں جی ایس ہو گا جو میں نہیں چاہتی تھی۔ 1972 میں ڈاکٹر بورو کے برطانوی مریض ماہر تعلیم کیرل رِڈل کو بطور سزا کچھ عرصہ برطانیہ میں انتظار کرنا پڑا۔ ان کے مشترکہ مقدمات نے ایک روایت قائم کی جس نے معاملات 2004 میں صنفی شناخت ایکٹ کی طرف بڑھانے میں مدد کی جس سے لوگوں کو اپنی صنف تبدیل کرنے کی اجازت ملی۔

اب ڈاکٹر بورو کے کام کو ایک اور تاریخی کامیابی ملی۔ ایک اعضا ساز سرجن ڈاکٹر ونسنٹ وانگ جو جنسی تبدیلی کے شعبے بالخصوص چہرے کے خدوخال کو زنانہ یا مردانہ بنانے کے لیے کام کرتے ہیں انہوں نے بہت سارے جنسی تبدیلی سے گزرنے والے لوگوں کے ساتھ کام کیا ہے جن میں تلولا ایو بھی شامل ہیں جو برطانوی نیکسٹ ٹاپ ماڈل کے مقابلے میں شرکت کرنے والی پہلی خواجہ سرا ہیں۔ ان کے بقول ’میں جانتی تھی کہ داخلی طور پر مجھے کیا محسوس ہوتا ہے لیکن مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ اسے باہر سے کیسے اپناؤں۔‘

ڈاکٹر ونگ اس پورے خیال کو ہی رد کرتے ہیں کہ ’جی آر ایس کوئی نئی چیز ہے‘ اور یہ بتانے کے لیے کہ تبدیلی جنس کوئی نیا کام نہیں وہ اس کی تاریخ پر لیکچر دیتے ہیں۔ ’عام لوگ ممکن ہے اسے گرما گرم موضوع سمجھیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ خواجہ سرا نئے نہیں ہیں۔ باہر اور اندر کی شخصیت میں تضاد نیا رجحان نہیں ہے۔ یہ اس وقت سے ہے جب سے یہ دنیا ہے۔ لیکن اب آ کر لوگ اسے زیادہ آسانی سے تسلیم کر رہے ہیں۔‘

 وانگ کے خیال کے مطابق آپریشن کی سہولت سے پہلے لوگ دوسرے راستے تلاش کرتے تھے جیسے دوسری جنس کا لباس پہننا۔ ان کے بقول ’جسے اب ہم ڈریگ (مردوں کا خواتین کا لباس پہننا) کہتے ہیں یہ بہت پہلے سے ہوتی چلی آ رہی ہے۔ لیکن تب یہ بہت آسان نہ تھی اور ماضی میں ایسا سمجھا جاتا تھا کہ مریض شدید ذہنی بیماری میں مبتلا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ ڈاکٹر بورو کے لیے تبدیلی جنس کے آپریشن کے ذریعے مرد سے عورت بننا ایک عام بات تھی لیکن ڈاکٹر وانگ کہتے ہیں ’تبدیلی جنس کے آپریشن کے ذریعے عورت سے مرد بننے کا رجحان اب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔‘ وہ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’لوگ بہت کم عمری میں یہ فیصلے کر رہے ہیں کیا بچے واقعی اپنی صنف سے غیر مطمئن ہیں یا محض اس لیے کر رہے ہیں کہ کسی دوست نے ایسا کیا ہے۔‘

امریکہ کی ایریزونا یونیورسٹی میں طبی ماہر بشریات اور ایک عورت کی وضع نامی کتاب کے مصنف ایرک پلیمنس نے جی آر ایس کے بڑھتے ہوئے رجحان کو نقشوں کی صورت میں پیش کرتے ہوئے نتیجہ نکالا ہے کہ کیسے ڈاکٹر بورو اور بائبر جیسے جرات مندوں نے اس کا راستہ ہموار کیا ہے۔

 پلیمنس کہتے ہیں ’ڈاکٹر بورو یورپ اور امریکہ سے ہٹ کر شمالی افریقہ میں تھے اس لیے انہوں نے ایسے علاقے میں کام کیا جو جغرافیائی اور سماجی طور پر کم تر سمجھا جاتا تھا۔ اس میں ایک چمک دمک ضرور تھی لیکن یاد رہے کہ بہت خطرناک کام تھا۔ اس میں خون کی بہت زیادہ مقدار بہہ جاتی تھی اور محض 1980 کے عشرے اور اس کے بعد مائیکروسرجری کی وجہ سے یہ زیادہ محفوظ عمل بنا۔‘

بورو کا اندام نہانی کی پلاسٹک سرجری کرنا عورت سے مرد بنانے کے لیے عضو تناسل لگانے سے بہت ہی زیادہ آسان کام تھا۔ اگرچہ اس کی بھی طبی جراحت کی بنیادی ہیں جو دوسری جنگ عظیم سے جا ملتی ہیں لیکن یہ اندام نہانی کی پلاسٹک سرجری سے بعد کا عمل ہے جو 1980 کی دہائی سے نسبتاً زیادہ آسان ہوا ہے۔ ایسے آپریشن محض خواہش کے مرہون منت نہیں بلکہ افزائش اور قابل عمل ہونے پر منحصر ہیں۔ پلیمنس کہتے ہیں ’یقیناً آپ آپریشن نہیں کر سکتے اگر یہ ممکن نہیں۔ سمجھیے یہ اسی طرح ہے کہ آپ اڑنا چاہیں اور اس قابل نہ ہوں کہ پر نکل سکیں۔‘

 خود عورت سے مرد خواجہ سرا بننے والے پلیمنس کہتے ہیں کہ ’سرجری سے گزرے لوگوں کی شناخت کا مسئلہ بہت پیچیدہ بن چکا ہے۔ ایک ماہر بشریات کا نقطہ نظر یہ ہو گا کہ وسائل کی تقسیم کے پرانے طریقوں نے طویل عرصے تک مرد اور عورت میں اتنی تفریق پیدا کر دی ہوئی ہے کہ ان کے بغیر اب خاص طرح کی افراتفری جنم لیتی ہے۔‘

شاید ہم وہ افراتفری حالیہ دور میں دیکھ رہے ہیں اور اسی طرح وانگ زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تبدیلی جنس کا مرحلہ بذات خود واضح لکیر نہیں۔ وہ کہتے ہیں ’تبدیلی جنس آغاز یا انجام نہیں ہے۔ یہ زندگی بھر کا سفر ہے۔‘

 آبی کھیلوں کے شوقین ڈاکٹر بورو 1987 میں اس وقت موت سے ہمکنار ہوئے جب ان کی کشتی پونٹ بلونڈن سے کاسابلانکا کے جنوب کی سمت آنے والے طوفان کی لپیٹ میں آ گئی۔ منفرد سرجن یہ دیکھ کر ممکن ہے حیران رہ جاتے کہ کیسے ناکافی سہولیات کے باوجود ان کے کامیاب آپریشن عہد حاضر کی اہم ترین بحث کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یقیناً یہ دیکھ کر بہت خوش ہوتے کہ ان کے اہم ترین مریض غیر معمولی مصنف جان مورس کے لیے یہ کتنا اچھا رہا۔  

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت