بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ’جنگل کے باسیوں‘ کی نئی پریشانی

زونی کا کنبہ ان سینکڑوں خاندانوں میں شامل ہے جو سالوں سے اس جنگلاتی علاقے میں رہ رہے ہیں، اسی بِنا پر انہیں روایتی ’جنگل کے باسی‘ کہا جاتا ہے۔

سری نگر سے 38 کلومیٹر دور اس گاؤں میں سرد ہواؤں کا راج ہے جہاں بستر میں لپٹی ہوئی زونی بیگم اپنے گھر کے ایک کمرے میں بیٹھی ہیں

108 سالہ زونی بیگم بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے بڈگام ضلع میں واقع پیر پنچال پہاڑی سلسلے کے درمیان زلیسدرہ گاؤں میں رہتی ہیں۔

سری نگر سے 38 کلومیٹر دور اس گاؤں میں سرد ہواؤں کا راج ہے جہاں بستر میں لپٹی ہوئی زونی بیگم اپنے گھر کے ایک کمرے میں بیٹھی ہیں۔

زونی کو گاؤں کے افراد نے گھیر رکھا ہے جن میں مقامی مسجد کے امام محمد اکبر بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے میرے والد اور والدہ کی شادی طے کرائی تھی۔ میں بھی بوڑھا ہو گیا ہوں، آپ میری سفید داڑھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ (زونی) کتنی عمر کی ہوں گی۔‘

زونی کا کنبہ ان سینکڑوں خاندانوں میں شامل ہے جو سالوں سے اس جنگلاتی علاقے میں رہ رہے ہیں، اسی بِنا پر انہیں روایتی ’جنگل کے باسی‘ کہا جاتا ہے۔

مگر اب صورت حال بدلنے والی ہے کیوں کہ جموں و کشمیر محکمہ جنگلات کی جانب سے انہیں گذشتہ کئی ہفتوں سے اس زمین کو خالی کرنے کا کہا جا رہا ہے جہاں وہ دہائیوں سے کاشت کرتے آ رہے ہیں۔

جنگلات میں تجاوزات سے متعلق جموں و کشمیر کمیٹی نے ایک فہرست شائع کی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے 15 ہزار ہیکٹر جنگلاتی اراضی پر 63 ہزار سے زیادہ لوگ ’قابض‘ ہیں۔

اس سے قبل نومبر میں ضلع بڈگام کے کنہ دجن گاؤں کے جنگل کے باسیوں کے باغات میں لگے سیب کے دس ہزار سے زیادہ درختوں کو محکمہ جنگلات نے اکھاڑ پھینکا تھا جب کہ اننت ناگ ضلع کے پہلگام خطے میں بھی محکمہ جنگلات نے ایک کارروائی کے دوران گجر اور بیکروال برادری سے تعلق رکھنے والے مقامی افراد کے درجنوں فاریسٹ ہاؤسز جنہیں مقامی زبان میں ’کوٹھہ‘ کہا جاتا ہے، کو بھی توڑ ڈالا تھا۔

 

اپنے آس پاس کے لوگوں کی روداد سننے کے بعد زونی بیگم نے دھیمی آواز میں کہا کہ ’مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ہم نے یہاں کھٹن زندگی گزاری ہے اور سخت محنت کی ہے اور چند روز پہلے محکمہ ہم سے یہ اراضی خالی کرانے کے لیے نوٹس لے کر آیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ ہمارے ساتھ کیا کرنے والے ہیں۔‘

زونی بیگم کے صاحبزادے صابر میر کہتے ہیں کہ ہم ان جنگلات میں رہنے والی چوتھی نسل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’کچھ دن پہلے میرے نام پر نوٹس آیا جس میں ہمیں اس اراضی کو چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ وہ زمین ہے جو کشمیر کے حکمرانوں نے ہمارے آبا و اجداد کو جانور چرانے اور کاشت کرنے کے لیے عطا کی تھی۔

زلیسدرہ کے جنگلات میں رہنے والوں میں خوف

یہاں اکھٹے ہونے والے ان دیہاتیوں میں سے بیشتر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کی زمین کو چھیننے کے لیے جاری کیے گئے ان نوٹسز پر اصل میں لکھا کیا ہے۔

گاؤں کے مقامی لوگوں نے مسجد کے امام محمد اکبر ڈار کے پاس یہ تمام نوٹس جمع کرا دیے ہیں۔ ہاتھ میں ان نوٹسز کی فائل تھامے امام مسجد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اب تک کسی نے بھی ہمارے لیے ان زمینوں کو چھوڑنے کے بعد کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ جس کی مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر میں کیا تمام قوانین بدل گئے ہیں۔ پرانے زمانے کے حکمرانوں نے ہمیں یہ زمینیں الاٹ کر دی تھیں جہاں ہم دہائیوں سے اپنے مویشیوں، گھوڑوں کو چرا رہے ہیں۔ اگر وہ ہمیں ان زمینوں سے بے دخل کرتے ہیں تو ہمارا گھر کیسے محفوظ رہے گا۔ ہم ان خالی مکانات کے ساتھ کیا کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اکبر ڈار کا مزید کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ انہیں یہاں سے بے دخل کر کے (اسرائیلی طرز کی ہندو) بستیاں بسانا چاہتے ہیں۔

فاریسٹ رائٹس ایکٹ اس بارے میں کہا کہتا ہے؟

شیڈول قبائل اور دیگر روایتی جنگل کے باسیوں (فاریسٹ رائٹس کی پہچان کے لیے بنائے گئے) ایکٹ، یا بھارت کے ایف آر اے 2006 ، جو 18 دسمبر 2006 کو منظور کیا گیا تھا، کے تحت جنگل کے باسیوں کو جنگلات میں رہائش اختیار کرنے اور معمولی کاشت اور دیگر مقاصد کے لیے زمین کو استعمال کرنے کا حق دیا گیا ہے۔

کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد وفاق کے تمام قوانین براہ راست جموں و کشمیر کے متنازع خطے میں بھی لاگو ہیں جس میں اب فاریسٹ رائٹس ایکٹ بھی شامل ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ماحولیات کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن راجہ مظفر بھٹ کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ مقامی لوگوں کے لیے یہ قانون پورے بھارت میں لاگو ہے لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ جموں و کشمیر میں اس کا نفاذ کیوں نہیں کیا جا رہا جہاں پہلے ہی ان کو اپنے قوانین سے محروم کیا جا چکا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’حال ہی میں زرعی زمین کے حوالے سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق کشمیر میں زرعی اراضی صرف 0.53 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔ بھارتی حکومت اسے زیادہ سے زیادہ صنعتی ریاست بنانا چاہتی ہے اور حال ہی میں انہوں نے کشمیر میں صنعتی شعبے کے قیام کے لیے 24 ہزار ایکڑ اراضی مختص کردی ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ اس جنگلاتی زمین کو مستقبل میں بھی صنعتی مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکے۔‘

13 فروری 2019 کو سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں کو جنگل میں رہنے والے ان شیڈول قبائل اور دیگر روایتی جنگل کے باسیوں کو بے دخل کرنے کی ہدایت کی تھی جن کے جنگلاتی اراضی سے متعلق دعووں کو فاریسٹ رائٹس ایکٹ ایف آر اے کے تحت مسترد کر دیا گیا تھا۔

لیکن 28 فروری 2019 کو بھارت کے اندر ہونے والے ردعمل اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی خصوصی نمائندہ  وکٹوریہ ٹولی کارپوز کی جانب سے کی گئی سخت تنقید کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے ہی حکم کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ویڈیو