اسانج کی امریکہ حوالگی کی درخواست مسترد، ’مگر یہ صحافت کی فتح نہیں‘

برطانوی صحافی گلین گرین والڈ نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ اسانج کی امریکہ حوالگی کے خلاف فیصلہ ’اچھی خبر‘ ضرور ہے، لیکن اسے ’صحافت کی فتح‘ نہیں سمجھنا چاہیے۔

ایک برطانوی عدالت نے پیر کو فیصلہ سنایا ہے کہ وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو جاسوسی کے الزام میں امریکہ کے حوالے نہ کیا جائے۔

لندن کی سینٹرل کرمینل کورٹ میں جج وینیسا بیریٹسر نے فیصلہ دیا کہ اسانج کی دماغی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ انہیں ملک بدر کیا جائے۔ 

جج نے کہا کہ امریکہ میں اسانج کو ممکنہ طور پر قیدِ تنہائی میں رکھا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ ان کی امریکہ حوالگی ’ظالمانہ‘ ہو گی۔ اسانج کو امریکہ میں سخت سکیورٹی والی جیل میں 175 سال قید کی سزا سنائی جا سکتی تھی۔

جج نے کہا کہ اسانج کو ان کے فیصلے کے خلاف امریکہ کی جانب سے ممکنہ اپیل تک حراست ہی میں رکھا جائے۔ 49 سالہ اسانج نے اپنی ویب سائٹ وکی لیکس پر امریکہ کی عراق میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات شائع کی تھیں، جس پر انہیں امریکہ میں جاسوسی اور سائبر ہیکنگ کے 17 مقدمات کا سامنا تھا۔

وہ اس وقت لندن کی ایک جیل میں قید ہیں۔ حال ہی میں اس جیل میں کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کی وجہ سے انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، جسے ان کے وکیل نے ’نفسیاتی تشدد‘ قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسانج خودکشی کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ 

’صحافت کی فتح نہیں‘

برطانوی صحافی گلین گرین والڈ نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ وہ یہ تو سمجھتے ہیں کہ اسانج کی امریکہ حوالگی کے خلاف فیصلہ ’اچھی خبر‘ ہے، لیکن اسے ’صحافت کی فتح‘ نہیں سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’ظاہر ہے یہ صحافت کی فتح نہیں ہے۔ اس کے برعکس، جج نے واضح کیا ہے کہ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ اسانج پر 2010 میں اشاعت کے سلسلے مقدمہ چلایا جا سکتا تھا۔ اس کی بجائے یہ امریکی جیلوں کے انتہائی ظالمانہ نظام کے خلاف فیصلہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’انجامِ کار، انسانی اور سیاسی نقطۂ نظر کے لحاظ سے اصل بات یہ ہے کہ اسانج کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔ امریکی حکومت کو اس کی پروا نہیں کہ وہ کس جیل میں رکھے جاتے ہیں، یا کیوں۔ وہ بس انہیں پنجرے میں رکھ کر خاموش کروانا چاہتے ہیں۔

’انہیں فوراً رہا کیا جائے۔‘

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسانج کی منگیتر سٹیلا مورس نے برطانوی اخبار ’دا میل‘ میں ایک آرٹیکل میں لکھا تھا کہ اگر برطانوی عدالت نے جولین اسانج کو امریکی جیل میں عمر قید کاٹنے بھیج دیا تو یہ ملک آزادیِ اظہار کے لیے محفوظ نہیں رہے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ اب آذربائیجان جیسا ملک ہمیں صحافت کی آزادی پر لیکچر دے رہا ہے۔ 

برطانوی اخبار دا گارڈین نے لکھا تھا کہ ’وکی لیکس کے ذریعے جرائم کا پردہ فاش کرنے پر کسی پر بھی مقدمہ نہیں چلانا چاہیے۔ اس کی بجائے ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی عدالت برائے جرائم کے خلاف بھرپور جنگ شروع کر رکھی ہے کہ اس ان الزامات کی تفتیش کیوں کی اور اس آدمی کے پیچھے پڑ گیا ہے جس نے انہیں افشا کیا تھا۔

اخبار نے اسانج کے خلاف امریکی مہم کو سیاسی عزائم پر مبنی قرار دے کر لکھا ہے کہ اگر یہ فیصلہ ہو گیا تو کوئی اخبار خود کو محفوظ نہیں سمجھ سکے گا۔

اسانج اس وقت لندن کی ایک جیل میں قید ہیں۔ حال ہی میں اس جیل میں کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کی وجہ سے اسانج کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے جسے ان کے وکیل نے ’نفسیاتی تشدد‘ قرار دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسانج خودکشی کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ 

جولین اسانج کون ہیں اور انہوں نے کیا کیا ہے؟

جولین اسانج کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور انہوں نے 2006 میں وکی لیکس نامی ویب سائٹ قائم کی تھی جہاں پر مختلف ملکوں اور اداروں کے رازوں پر مبنی معلومات افشا کی جاتی تھیں۔

2010 میں وکی لیکس نے امریکی فوج کے انٹیلی جنس اینالسٹ چیلسی میننگ کی فراہم کردہ معلومات شائع کیں جن میں امریکی فوج کی جانب سے عراق اور افغانستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تفصیل موجود تھی۔ 

اس کے جواب میں امریکی حکومت نے وکی لیکس اور جولین اسانج کے خلاف مجرمانہ تحقیقات شروع کر دی تھیں۔ اس کے بعد سویڈن میں اسانج کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ قائم ہو گیا جس میں ایک خاتون نے الزام لگایا کہ اسانج نے ان کی مرضی کے بغیر ان سے جنسی تعلق قائم کیا تھا۔

اسانج نے سویڈن حوالگی سے بچنے کے لیے ایکواڈور کے لندن میں واقع سفارت خانے میں پناہ لے لی جہاں وہ سات سال تک مقیم رہے۔ اپریل 2020 میں وہ سفارت خانے سے نکل آئے تھے جس کے بعد سے وہ لندن کی ایک جیل میں بند ہیں۔

ایک کروڑ لیکس

وکی لیکس ویب سائٹ 2006 میں رجسٹر ہوئی تھی تاہم اس گروپ نے اپنا کام 2007 میں شروع کیا۔ اسانج کا کہنا تھا کہ یہ ویب سائٹ انکرپشن کا استعمال کرے گی تاکہ یہ سینسرشپ سے آزاد ہو۔

فلمیں

وکی لیکس کے مسئلے پر دو بڑی فلمیں بن چکی ہیں۔ ’دا ففتھ سٹیٹ‘ (2013) اور 2016 میں فرانس کے کین فلمی میلے میں دکھائی جانے والی دستاویزی فلم ’رسک۔‘ اس کے علاوہ اسانج امریکی ٹیلی ویژن شو ’دا سمپسنز‘ میں مہمان کے طور پر شامل ہوئے جس کی لائنیں انہوں نےایکواڈور کے سفارت خانے سے فون پر ریکارڈ کروائی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا