خیبر پختونخوا پولیس، بلٹ پروف جیکٹ لازمی: جیکٹس کا لیول کیا؟

حال ہی میں صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ دوران ڈیوٹی اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران لازمی بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ کا استعمال کریں گے۔

پولیس اہلکاروں کو اعلیٰ حکام کی جانب سے یہ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ اگر انہوں نے  بلٹ پروف جیکٹ پہننے کے سلسلے میں کوتاہی برتی تو مبینہ اہلکار سمیت تھانے کے انچارج کے خلاف بھی کارروائی ہوگی (تصویر:  بشکریہ LYRA)

خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے 30 دسمبر 2020 کو جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق تمام پولیس اہلکاروں کو دوران ڈیوٹی بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ کا استعمال کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آپریشنز کے دفتر سے جاری ہونے والے اس نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کوئی پولیس اہلکار بغیر جیکٹ اور ہیلمٹ کے ڈیوٹی پر پایا گیا تو اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ انچارج کو بھی معطل کیا جائے گا جبکہ سپروائزر اور افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خیبر پختونخوا کی پولیس پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں میں پاکستانی فوج کے بعد سب سے زیادہ سرگرم رہی ہے اور دہشت گرد حملوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف کونفلکٹ سٹڈیز ساؤتھ ایشین ٹیررزم پورٹل کے مطابق 2001 میں افغانستان پر امریکی قبضے اور اس کے بعد علاقے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد پاکستان میں ہونے والے 15 ہزار 362  دہشت گرد حملوں میں سات ہزار 289 سکیورٹی اہلکار جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

خیبرپختونخوا پولیس کی ان قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کینیڈا اور اقوام متحدہ کے ڈرگ اینڈ کرائم کے تدارک سے متعلق ادارے نے صوبائی پولیس کو وقتاً فوقتاً سینکڑوں بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹس کے عطیات دیے ہیں۔

بلٹ پروف جیکٹ کا استعمال کب اور کیسے شروع ہوا؟

پندرہویں صدی کے آغاز میں اطالوی اور رومن اشرافیہ نے بلٹ پروف جیکٹ پر تجربات شروع کیے۔ انہوں نے ان جیکٹس کی مختلف تہوں میں لوہے کا استعمال کیا، جس کا واحد مقصد گولی کا رخ تبدیل کرنا تھا۔

لوہے کی ظاہری تہہ کا کام گولی کی رفتار کو جذب کرنا اور اندرونی تہہ کا کام گولی کو بدن کو چھونے سے روکنا تھا، لیکن لوہے کی دھات سے بنے یہ سوٹ گولیوں کے سامنے اکثر ناکام رہے اور وقت کے ساتھ جدت اختیار کرنے والی گولیوں اور بندوقوں کا مقابلہ نہ کرسکے۔

 1800 میں جاپانیوں نے ان مخصوص جیکٹوں میں ریشم کا استعمال شروع کیا اور ان کو نرم بنایا لیکن یہ فارمولا بھی زیادہ کارگر ثابت نہ ہوا۔ بلٹ پروف جیکٹ کی تلاش میں سرگرم افراد کو بڑی کامیابی 1970 کی دہائی میں ملی جب امریکہ میں ڈوپونٹ کیولار کپڑا ایجاد ہوا۔

کیولار کپڑے نے ریڈیل ٹائر میں استعمال ہونے والے سٹیل بیلٹ کی جگہ لینی تھی لیکن اپنی مضبوطی کہ وجہ سے اس کا استعمال بلٹ پروف جیکٹس میں ہونے لگا۔

بلٹ پروف جیکٹس کہاں تیار ہوتے ہیں؟

بلٹ پروف جیکٹس کا استعمال اور اس کے بنانے کا کام مغربی دنیا میں شروع ہوا لیکن انسانی جسم کو خطرناک حالات میں بیرونی خطرات سے بچانے اور جنگ کے دوران کسی حملے یا دشمن کے کاری ضرب سے بچنے کے لیے تدابیر کی سوچ بہت پرانی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موجودہ دور میں دنیا کے تقریباً ہر ترقی یافتہ ملک اور بلٹ پروفنگ سے وابستہ پیشہ ور افراد، جن کی اس ٹیکنالوجی تک رسائی ممکن ہو، اس قسم کی مخصوص جیکٹس بنانے میں مصروف ہیں۔

اس قسم کی جیکٹس کی قیمت کئی سو سے لے کر کئی ہزار ڈالر میں ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جتنی جدت بلٹ پروف جیکٹس نے اختیار کی ہے، پہننے والے پر بھی لازم ہوگیا ہے کہ وہ اپنی ضرورت اور زیر استعمال جیکٹ سے باخبر ہو، ورنہ غلط استعمال کی صورت میں جان سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔

دنیا میں اس وقت دس ایسی کمپنیاں ہیں، جو بلٹ پروف جیکٹس، ہیلمٹ اور دوسرا دفاعی سامان بناتی ہیں ان میں پہلا نمبر کینیڈا کی سفاری لینڈ لمیٹڈ کا آتا ہے۔

کینیڈا کے شہر انٹاریو میں واقع سفاری لینڈ کی سالانہ آمدنی 863.64 ملین امریکی ڈالر ہے۔ اس کاروبار میں باقی نو امریکی کمپنیاں ہیں، جن میں سب سے زیادہ آمدنی ڈوپانٹ یو ایس اے کی ہے۔

جیکٹس میں استعمال ہونے والا مٹیریل اور اقسام

باڈی آرمر، جس کا کام انسانی جسم کو گولی یا دوسری کسی چیز کے خطرناک ٹکراؤ سے بچانا ہے، کا استعمال فوج، پولیس، سکیورٹی گارڈز اور اس پیشے سے وابستہ افراد میں عام ہے۔ ان کے علاوہ وہ افراد جو اپنی جان کو خطرہ محسوس کرتے ہیں ان جیکٹس کا استعمال کرتے ہیں۔

بلٹ پروف جیکٹس دو اقسام کی ہوتی ہیں، جیسے کہ سافٹ آرمر اور ہارڈ آرمر ۔عام طور سے ان جیکٹس کا کام گولی کا راستہ روکنا اور چاکو چھری کا وار ناکام بنانا ہے لیکن یہ کس قسم کی گولی کے خلاف موثر ہوگا اس بات کا تعین اس کی ساخت کرتی ہے۔

بلٹ پروف جیکٹس کی ساخت یا کلاس کچھ اس طرح ہے۔

Level II, IIA

 Level III, IIIA

Level IV

لیول ٹو اے اور تھری اے کی جیکٹس کیولار کپڑے کی بنی ہوتی ہیں اور انہیں سافٹ آرمر کہا جاتا ہے۔اس ساخت کی جیکٹس نائن ایم ایم سے لے کر 44 میگنم والی گولی کا راستہ روکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

لیول تھری اور لیول فور کو ہارڈ آرمر کہا جاتا ہے اور یہ جیکٹس مشین گن، زوردار بندوق یا اس ساخت والے اسلحے کے خلاف مفید ہوتی ہیں۔ اس قسم کی جیکٹس میں آرمر پلیٹوں کا استعمال ہوتا ہے جو اکثر سرامک، پولیتھین، سٹیل یا ٹائٹینیم کی بنی ہوتی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں کس لیول کی جیکٹس استعمال ہوتی ہیں؟

پشاور کے تھانہ یکہ توت کے ایس ایچ او علی سید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں حکومت کی جانب سے موصول ہونے والی بلٹ پروف جیکٹس کا تعلق کلاس تھری اور فور سے ہے اور ان میں 'آرمر پلیٹس' کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ جیکٹس ہائی کیلیبر گولیوں کے خلاف موثر رہتی ہیں، تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ گولیاں لگنے کی صورت میں پلیٹوں کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔

کیا بلٹ پروف جیکٹس انسان کو بلٹ پروف بنا سکتی ہیں؟

بلٹ پروف جیکٹس اور اس ضمن میں استعمال ہونے والی اشیا کی دنیا بہت وسیع ہے اور بہت سے موقعوں پر غلط معلومات سے بھری پڑی ہے۔

کچھ لوگوں کو جان سے زیادہ موسم کی فکر ہوتی ہے اور ان کے خیال میں ان کو گولی سے زیادہ گرمی سے بچنا ضروری ہے۔ ایسے افراد دستیابی کے باوجود بلٹ پروف جیکٹس کا استعمال نہیں کرتے۔

خیبر پختونخوا کی پولیس کے حوالے سے بھی ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ گرمیوں میں وہ ان جیکٹس کا استعمال ترک کر دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق باڈی آرمر انسانی جان بچانے میں موثر ثابت ہوئی ہے، لیکن چند مخصوص حالات میں یہ جیکٹس جان بچانے میں ناکام بھی ثابت ہوچکی ہیں۔ ان مخصوص حالات میں جیکٹس پہننے والے شخص کو لگنے والی گولیوں کی تعداد،گولی لگنے کے فاصلے اور ایک جگہ پر ایک سے زیادہ گولیاں لگنا شامل ہیں۔

ان جیکٹس کو پہننے والا گولی سے بچ تو سکتا ہے، لیکن ایسی مثالیں مشاہدے میں آئی ہیں جن میں بلٹ پروف جیکٹ پہنے اہلکاروں کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور خون کا جسم کے اندر اخراج ہوا۔

دنیا کےتمام ترقی یافتہ ممالک میں، جہاں پولیس اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو یہ جیکٹس فراہم کی گئی ہیں، ان پر اس کا استعمال بھی لازم قرار دیاگیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان