برسبین ٹیسٹ: بھارت کو فٹنس کے مسائل

گابا میں آسٹریلیا نے تین دھائیوں سے شکست نہیں کھائی ہے لہذا میزبان ٹیم سیریز جیتنے کی امید سے ہوگی۔ بھارت کی زخمی کھلاڑیوں کی طویل فہرست بھی آسٹریلیا کے فائدے میں جاتی ہے۔

سڈنی ٹیسٹ میں بھارت کے کھلاڑی ہنوما وہاری ایک شاٹ کھیلتے ہوئے (اے ایف پی)

زخمی کھلاڑیوں سے بری طرح متاثر بھارت کی کرکٹ ٹیم گابا کے میدان میں جمعہ کے آخری ٹیسٹ کے لیے بڑی امیدوں کے ساتھ اترے گی۔ سڈنی میں ڈرا کے بعد جس سے سیریز ایک ایک سے ٹائی ہے اسے بارڈر گواسکر ٹرافی اپنے پاس رکھنے کی خواہش ہوگی۔

مہمان ٹیم کی برسبین میں شکست سے بچنا ہوگا جیسا کہ انہوں نے سڈنی میں آسٹریلیا کے بہت زبردست بولنگ اٹیک کے خلاف آخری دن بیٹنگ میں کیا۔

آسٹریلیا کے کپتان ٹم پین کے الزامات کے بعد کہ سٹیو سمتھ نے میچ کے آخری دن جان بوجھ کر رشاب پانٹ بیٹنگ گارڈ کو صاف کیا آسٹریلیا کی ٹیم تنقید کی زد میں آ گئی۔ تماشائیوں کی جانب سے نسل پرستی پر مبنی غلط زبان کے استعمال نے بھی ٹیسٹ پر چھایا رہا۔

گابا میں آسٹریلیا نے تین دھائیوں سے شکست نہیں کھائی ہے لہذا میزبان ٹیم سیریز جیتنے کی امید سے ہوگی۔ بھارت کی زخمی کھلاڑیوں کی طویل فہرست بھی آسٹریلیا کے فائدے میں جاتی ہے۔

آل راونڈر راوندر جدیجا تازہ ترین زخمی ہونے والے بھارتی کھلاڑی ہیں جن کا بائیں انگوٹھا جگہ سے ہل گیا ہے۔ تیز گیند باز جسپریت بومرا بھی شاید پیٹ کے مسئلے کی وجہ سے میچ سے باہر ہو جائیں۔

مہمان ٹیم پہلے ہی تجربہ کار تیز باؤلر محمد شامی، یومیش یادو اور اشانت شرما اور بلے باز کے ایل راہول کے بغیر ہیں جبکہ کپتان ورات کوہلی بیٹی کی پیدائش کی وجہ سے چھٹی پر ہیں۔

اگر بومرا کھیل نہیں سکتے تو ان کے پہلے سے ہی ناتجربہ کار باولنگ اٹیک کی قیادت محمد سراج کریں گے جنہوں نے صرف دو ٹیسٹ میچ اب تک کھیلے ہیں۔ ان کے علاوہ بھارت کو نودیپ سینی دستیاب ہیں جنہوں نے سڈنی میں اپنا پہلا میچ کھیلا اور ٹی ناتراجن یا شاردول ٹھاکر جن کے پاس کوئی ٹیسٹ کیپ نہیں ہے۔

چھٹے نمبر پر کھیلنے والے ہنوما ویہاری کے بارے میں بھی شکوک و شبہات ہیں جنہیں ہیمسٹرنگ کا مسئلہ درپیش ہے۔ روی ایشون کو جنہوں نے کریز پر ویہاری کے ساتھ تین گھنٹے گزارے تھے کمر کا درد ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان مشکلات کے باوجود بھارت کے سابق عظیم کھلاڑی سنل گواسکر سمجھتے ہیں کہ وہ برسبین میں جیت سکتے ہیں جہاں کرونا کی وجہ سے محض 50 فیصد تماشائی میچ گراونڈ پر دیکھ سکیں گے۔

انہوں نے اس ہفتے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ وہ ’جانتے ہیں کہ گابا آسٹریلیا کا قلعہ ہے لیکن بھارتی ٹیم میں ان کا مسابلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ آسٹریلیا نے اس میدان پر 1988 سے شکست نہیں چکھی لیکن یہ کسی بھی وقت تبدیل ہوسکتا ہے۔ اگر ریہانا کی کمپنی ایسا کچھ کرتی ہے تو وہ ہرگز حیران نہیں ہوں گے۔‘

’صدمہ اور ناامیدی‘

آسٹریلیا سڈنی میں اپنی حرکتوں کے بعد میدان میں اتر رہی ہے۔  پین کو ایشون کے خلاف زبان درازی کی وجہ  زبردستی معافی منگوائی گئی جنہیں اس سے قبل امپائر کے خلاف ایسا کرنے پر جرمانہ کیا جا چکا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے بحثیت کپتان دن گنے جاچکے ہیں۔

سمتھ نے آسٹریلیا کے روزنامے ڈیلی ٹیلیگراف کو بتایا کہ وہ کریز پر ان کی حرکت دیکھ کر ’صدمے اور امیدی‘ سے دوچار ہوگئے تھے۔

لیکن آسٹریلیا کی میلبورن میں دوسری ٹیسٹ میں شکست اور سڈنی میں فتح کے لیے بھارت کو آوٹ کرنے میں ناکامی کے بعد ان پر دباؤ ہے کہ وہ ناصرف کارکردگی دکھائیں بلکہ اپنی حرکات و سکنات کو قابو میں بھی رکھیں۔

آسٹریلیا کے کوچ جسٹن لینگر نے بدھ کو کہا کہ وہ سیریز کے آغاز سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ اس مقابلے میں فتح فٹ اور طاقتور کی ہوگی۔ ’جو ہو رہا ہے وہ اس تھیٹر اور ڈرامے کا حصہ ہے اور یہ ایسا ہمیشہ رہا ہے۔‘

آسٹریلیا کی کھلاڑیوں کو بھی فٹنس کے مسائل درپیش ہیں۔ نوجوان اوپنر ول پوکوسکی سڈنی میں فیلڈنگ کے دوران کندھے کے درد کا شکار ہوگئے۔ ان کی عدم موجودگی میں توقع ہے کہ مارکس ہیرس اننگ کا آغاز کریں۔

ادھر آف سپنر ناتھن لیون اپنا سواں ٹیسٹ کھیلیں گے جس میں انہیں 400 وکٹیں مکمل کرنے کے لیے چار مزید وکٹیں چاہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ