یہ کرکٹ ہے، کچھ بھی ہو سکتا ہے

پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے اختتامی اور فیصلہ کن میچ جو کرونا وائرس کے باعث کھیلے نہیں جاسکے تھے ہفتے سے کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں دوبارہ شروع کیے گئے۔

محمد عامر نے کراچی کنگز اور محمد حفیظ نے لاہور قلندرز کی جیت میں اہم کردار ادا کیا (اے ایف پی)

کرکٹ میں سپر اوور لاٹری کی مانند ہوتا ہے کیونکہ پورے میچ کی محنت صرف چھ گیندوں کی نذر ہو جاتی ہے اور ایک بہت اچھا میچ کھیل کر بھی ہارنے والی ٹیم ہاتھ ملتی رہ جاتی ہے جیسے کل ملتان سلطانز گراؤنڈ سے مایوس پلٹ گئی۔

پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے اختتامی اور فیصلہ کن میچ جو کرونا وائرس کے باعث کھیلے نہیں جاسکے تھے ہفتے سے کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں دوبارہ شروع کیے گئے۔

ہفتے کو کھیلے جانے والے دو میچوں میں پہلا میچ کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کے درمیان روایتی انداز میں سست روی سے کھیلا گیا۔ دونوں ٹیموں کی کارکردگی ایک جیسی رہی۔۔۔ نہ گھن گرج اور نہ فلک شگاف شاٹ۔۔۔ بس ایسا لگ رہا تھا کوئی وارم اپ میچ ہے۔

ملتان سلطانز کی پہلے بیٹنگ مردہ دلی کا شاہکار بنی رہی تو کراچی کی بھی کچھوے کی چال تھی۔

بابر اعظم نے ایک اور ففٹی تو بنائی مگر کشتی کنارے تک نہ پہنچا سکے۔

ملتان سلطانز کے 141 رنز کو عبور کرنے کے لیے آخری اوور میں صرف سات رنز چاہیے تھے لیکن تجربہ کار کپتان عماد وسیم نو آموز الیاس خان کے اوور میں صرف چھ رنز بنا سکے اور یوں میچ ٹائی ہو گیا۔

سپر اوور

میچ ٹائی ہونے کے بعد قانون کے مطابق سپر اوور کھیلا گیا جس میں کراچی  13 رنز بنا سکا۔

ملتان کی جوابی بیٹنگ میں ایک اوور میں 14 رنز روی بوپارہ اور ریلی روسو کے لیے مشکل نہ تھے لیکن  پھر بھی مشکل ترین ہدف بن گئے۔

قومی ٹیم سے ڈراپ ہونے والے محمد عامر نے سپر اوور کی چھ گیندیں اس قدر مہارت سے کیں کہ دونوں بلے بازوں کو کسی بڑی ہٹ کا موقع نہ مل سکا۔

ہر گیند تیز اور یارکر تھی۔۔ دونوں بلے باز کوشش کے باوجود شاٹ نہ کھیل سکے اور سپر اوور کی بازی محمد عامر نے جیت کر صرف کراچی کو فائنل میں نہیں پہنچایا بلکہ دور کسی کمرے میں بیٹھے ہوئے پاکستانی چیف سیلیکٹر مصباح الحق کو بھی کرارا جواب دے دیا کہ میں اب بھی اتنا ہی خطرناک بولر ہوں جتنا دو سال پہلے تھا۔

پشاور زلمی بمقابلہ لاہور قلندرز

اگر تجربہ کے ساتھ سکون اور مہارت کی بات ہو تو محمد حفیظ  ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے بے مثال بلے باز ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ وہ پر سکون رہتے ہیں اور بری گیند کا انتظار کرتے ہیں۔

لاہور قلندرز کی طرف سے ان کی اننگز فتح گر تو تھی ہی لیکن پہلی دفعہ لاہور کو فائنل کی دوڑ میں بھی شامل کر دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پشاور زلمی کو ان کے جارحانہ بلے باز کامران اکمل کی خدمات حاصل نہیں تھیں جس کے باعث ٹیم نے 170  کا سکور تو حاصل کر لیا لیکن لاہور کے بولرز کو غلطیوں پر مجبور نہ کر سکے۔

آخری اوورز میں انگلینڈ کے ولجوئن کے 37 رنز نے لاج رکھ لی ورنہ سکور اور کم ہوتا۔ حیدر علی پہلی گیند پر ہی شاہین شاہ کے ہاتھوں بولڈ ہو گئے جبکہ امام الحق نے اپنے غلط سیلیکشن کو سست بیٹنگ سے پوری طرح ثابت کیا۔

لاہور قلندرز کی بیٹنگ بھی نشیب وفراز کا شکار ہوتی رہی۔ بین ڈنک بھی بڑا سکور نہ کرسکے، فخر زمان حسب عادت جلدی آؤٹ ہو گئے لیکن محمد حفیظ نے تمام بلے بازوں کی کمی پوری کر دی۔

آخری پانچ اوورز میں 50 رنز کا ہدف عبور کر کے پشاور کا سفر ختم کر دیا۔ حفیظ کی 74 رنز کی اننگ میں نو  چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔

لاہور قلندرز کو اب فائنل میں پہنچنے کے لیے اتوار کو ملتان سلطانز کو ایلیمینٹر میں شکست دینا ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ