کیا کوہلی کسی دباؤ میں ہیں؟

سچن تندولکر کے بعد بھارتی کرکٹ میں دیوتا سمجھے جانے والے ویرات کوہلی کی کارکردگی پچھلے کئی ماہ سے تنزلی کا شکار ہے۔

(اے ایف پی)

آسٹریلیا کے خلاف حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھارت نے دو، ایک  سے سیریز تو جیت لی لیکن کلین سوئپ کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔

ایک روزہ میچوں کی سیریز میں یکطرفہ شکستوں نے بھارتی ٹیم کا اعتماد مجروح کر دیا تھا اور آخری میچ میں فتح حاصل کرنے کے باوجود بھارتی ٹیم بکھری بکھری نظر آرہی تھی۔

لیکن ٹیم کے ہیڈ کوچ روی شاستری نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی کی سیریز میں نہ صرف ’ہم کھویا ہوا اعتماد واپس حاصل کرلیں گے بلکہ آسٹریلیا کو اس کی سرزمین پر شکست دیں گے۔‘

پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ہی بھارت نے اپنی جھلک دکھا دی اور 11 رنز سے کینگروز کو شکست دے کر جیت کا کھاتہ کھول لیا تاہم اس میچ میں نئے بولر نتاراجن کی آخری اوورز میں عمدہ بولنگ تھی جس نے آسٹریلین بلے بازوں کو سکور کرنے کا موقع نہیں دیا اور بھارت کو فتح سے ہمکنار کیا۔

دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی فتح نے بھارت کے قدم چومے لیکن اس بار فتح گر ہردک پاندیا تھے جن کی طوفانی اننگز نے 195 رنزکا ہدف پورا کر لیا ورنہ میچ تو بھارت کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔

بھارتی ٹیم کی کارکردگی دیکھتے ہوئے امید ہو چلی تھی کہ بھارت شاید کلین سوئپ کر لے گا لیکن ایسا ہو نہ سکا۔

تیسرے اور آخری میچ میں پہلے آسٹریلیا کی طرف سے میتھیو ویڈ نے 80 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور کینگروز نے مجموعی سکور 186 بنا ڈالا  تو دوسری طرف سے پہلی دفعہ کوہلی کا بیٹ جاگا کوہلی نے 85 رنز بنائے۔

ان کی بیٹنگ کے دوران محسوس ہو رہا تھا کہ شاید منحوسیت کے بادل چھٹ گئے ہیں اور کوہلی اپنی پہلی ٹی ٹوئنٹی سنچری مکمل کر لیں گے مگر اچانک کوہلی نے ایک اونچا شاٹ کھیلا جس میں پوری طرح قوت نہ تھی اور نتیجے میں وہ آؤٹ ہوگئے۔

کوہلی کے علاوہ کوئی دوسرا بلے باز 187 کے ہدف تک نہ پہنچ سکا اور بھارت کی کشتی 174 پر ڈوب گئی اور یوں بھارت کا خواب چکناچور ہوگیا۔

سچن تندولکر کے بعد بھارتی کرکٹ میں دیوتا سمجھے جانے والے ویرات کوہلی کی کارکردگی پچھلے کئی ماہ سے تنزلی کا شکار ہے۔ بیٹنگ میں وہ اپنی روایت کے مطابق بڑے سکور نہیں کر پا رہے ہیں اور فیلڈنگ میں بھی وہ کمزور نظر آنے لگے ہیں۔

آئی پی ایل میں بھی وہ اپنی خراب بیٹنگ اور فیلڈنگ کے باعث تنقید کا نشانہ بنے تھے اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ تھکے تھکے سے نظر آتے ہیں حالانکہ کوہلی اس کی نفی کرتے ہیں اور ابھی بھی روزانہ کئی کئی گھنٹے فزیکل ٹریننگ میں گزارتے ہیں۔

ان کے کچھ ساتھی جو ان کے مطلق العنان رویہ سے نالاں ہیں اب کھل کر کہنے لگے ہیں کہ ویرات کوہلی کو ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی سے ہٹا دیا جائے کیونکہ وہ کپتانی کا دباؤ برداشت نہیں کر پا رہے ہیں۔

کوہلی کی کپتانی کو لے کر اب سابق کھلاڑی بھی مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ روہت شرما کو کپتان بنا دیا جائے جن کی کپتانی میں ممبئی انڈینز کی ٹیم نے پانچویں مرتبہ آئی پی ایل کے چیمپئین بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

روہت شرما کی حمایت میں سابق وکٹ کیپر پرتھوی پٹیل نے بیان دیا ہے جن کے خیال میں اب صحیح وقت ہے کہ کوہلی پر سے ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا کیا جائے۔

سوال یہ ہے کہ کیا کوہلی واقعی تنزلی کا شکار ہیں یا پھر کسی دباؤ میں ہیں؟

اگر ویرات کوہلی کی ایک سال کی کارکردگی دیکھیں تو اس سال انہوں نے 10 میچوں میں 36.87 کی اوسط سے 295 رنز بنائے ہیں حالانکہ وہ مجموعی طور پر دس سال میں 85 میچوں میں 50 کی اوسط سے 2928 رنز بنا چکے ہیں جس سے یہ بات عیاں ہے کہ اب وہ اس طرح نہیں کھیل رہے جیسے دو سال قبل تک تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹیسٹ میچوں اور ایک روزہ میچوں سے قطع نظر ٹی ٹوئنٹی میں ان کا گراف تنزل پذیر ہے۔ دوسرے دو فارمیٹ میں وہ دنیا کے بہترین بلے باز نظر آتے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی میں صرف انٹرنیشنل ہی نہیں آئی پی ایل میں بھی وہ بجھے بجھے سے رہے۔ آئی پی ایل کے حالیہ سیزن میں 15 میچوں میں 466 رنز بنا کر وہ کئی نئے کھلاڑیوں سے پیچھے رہ گئے جبکہ کپتانی بھی زیادہ اچھی نہ رہی۔ رائل چیلنجرز کو وہ چوتھے نمبر سے آگے نہ لے جا سکے۔

فیلڈنگ میں بھی ان سے ایسے کیچ چھوٹ گئے جو کلب کرکٹ میں بھی نہیں چھوڑے جاتے حالانکہ کوہلی ایک انتہائی مستعد فیلڈر ہیں۔

بھارتی ٹیم کی ایک روزہ میچوں میں شکست اور ٹی ٹوئنٹی میں کلین سوئپ کا موقع ہوتے ہوئے نہ کرنا کوہلی پر تنقید کو بڑھاوا دے رہا ہے۔

ماہرین اب اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ویرات کوہلی ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی کسی اور کھلاڑی کے سپرد کر دیں تاکہ وہ دوسرے دو فارمیٹ پر بھرپور توجہ دے سکیں۔

ویرات کوہلی کی ذہنی کشمکش کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ آخری میچ میں میتھیو ویڈ کے ایل بی ڈبلیو کے ریویو کے لیے امپائرز سے بحث کرتے رہے قواعد کے مطابق انہیں 15 سیکنڈ کے دوران ریویو لینا چاہیے تھا لیکن وہ ری پلے دیکھتے رہے اور وقت گزرنے کے بعد ریویو کا تقاضہ کر رہے تھے جو کہ قوانین کے خلاف تھا۔

عمر کے اعتبار سے ویرات کوہلی میں ابھی کافی کرکم باقی ہے۔ ان کی کپتانی میں بھارتی ٹیم کا اگلا امتحان ٹیسٹ سیریز ہے جس کا آغاز 17 دسمبر سے ہو رہا ہے۔ ویرات کوہلی کے لیے پہلا ٹیسٹ بہت اہم ہے کیونکہ اس ٹیسٹ کے بعد بقیہ تین ٹیسٹ وہ نہیں کھیلیں گے۔

بھارتی تاریخ کے دوسرے سب سے کامیاب بلے باز ویرات کوہلی  ذہنی طور پر کپتانی چھوڑنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں اس کا جواب تو فی الحال ممکن نہیں لیکن وہ ایک ایسے بااصول شخص ہیں جس نے کروڑوں ڈالر کا اشتہاری معاہدہ ایک سوفٹ ڈرنک کمپنی کے ساتھ یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ میں خود نہیں پیتا تو اس کی تشہیر کیوں کروں۔

ایسے بااصول شخص کے لیے کپتانی سے زیادہ اپنی عزت نفس عزیز ہوگی جس نے کرکٹ کا ہر اعزاز اپنی کارکردگی اور محنت سے حاصل کیا ہے اس کے لیے قیادت اعزاز تو ہو سکتی ہے لیکن ضد نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ