جب کین ولیم سن نے اپنی میچ فیس اے پی ایس کے متاثرین کو دی

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن جتنے بڑے کھلاڑی ہیں اتنے ہی بڑے انسان۔ ان کا والہانہ پن آج بھی پاکستانیوں کے دل پر نقش ہے۔

کین ولیم سن موجودہ دور کے سب سے زیادہ سٹائلش بلے باز ہیں۔ (اے ایف پی)

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم 2014 کے اواخر میں متحدہ عرب امارات میں پاکستان کی ٹیم کے ساتھ سیریز کھیل رہی تھی۔ تین ٹیسٹ ہوچکے تھے اور ایک روزہ میچوں کی سیریز جاری تھی۔

چوتھا  ایک روزہ میچ 17 دسمبر کو کھیلا جانا تھا کہ ایک روز قبل پاکستان میں آرمی پبلک سکول پشاور کا المناک سانحہ پیش آگیا۔ میڈیا کے ذریعے جب یہ خبر یو اے ای میں دونوں ٹیم تک پہنچی تو ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔   

نیٹ پریکٹس سے واپسی پر جب کیویز کے کپتان کین ولیم سن سے ہوٹل میں ملاقات ہوئی تو ان کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ بوجھل قدموں سے جب وہ پاس سے گزرے تو میں نے ان سے بات کرنا چاہی تو اشارے سے منع کردیا۔ استفسار پر ولیم سن کا صبر کا دامن چھوٹ گیا اور اشکبار آنکھوں سے پشاور کا واقعہ یاد کرنے لگے کہ کس طرح معصوم بچوں کو خون میں نہلادیا گیا۔

میں سوچنے لگا یہ نہ پاکستانی ہیں اور نہ ان کا کوئی عزیز مارا گیا مگر کس قدر غمگین ہیں۔

ان کی یہ غمگین کیفیت دورے کے اختتام تک برقرار تھی رہی۔

اگلے روز کین نے پریس کانفرنس میں خاص طور سے پشاور کا ذکر کیا اور اپنے غم کا اس طرح اظہار کیا کہ کچھ دیر کو تو صحافیوں سے بھرا ہال افسردہ ہوگیا۔ ولیم سن نے کانفرنس میں  اپنی میچ فیس  پشاور سانحہ کے متاثرین کے لیے دینے کا اعلان کیا اور اس بس یہ ہی نہیں بلکہ اپنی محبتوں کے اظہار کے لیے یونس خان کے ذریعے اپنا پورا کٹ بیگ پشاور سانحہ میں بچ جانے والے بچوں کو تحفے میں پیش کردیا۔

ان کا یہ والہانہ پن آج بھی پاکستانیوں کے دل پر نقش ہے۔

کین ولیم سن جتنے بڑے کھلاڑی ہیں اتنے ہی بڑے انسان۔  کم گو اور نفیس لہجے میں گفتگو کرنے والے کین ولیم سن کی شخصیت گذشتہ ورلڈ کپ کے فائنل میں سب کو مزید گرویدہ بنا گئی جب امپائرز کے ایک متنازع فیصلے نے نیوزی لینڈ کو چیمپیئن بننے سےمحروم کردیا۔

 میچ کے اختتام پر انہوں نے امپائرز پر تنقید کرنے سے انکار کردیا اور شکست کو کھلے دل سے قبول کرکے جب انگلینڈ کو مبارکباد دی تو دنیا بھر نے انہیں حقیقی چیمیئن قرار دے دیا۔ ہر زبان ان کے گیت گانے لگی ۔

کین ولیم سن موجودہ دور کے سب سے زیادہ سٹائلش بلے باز ہیں۔ ان کی بیٹنگ میں اگر دور قدیم کی جھلک ہے تو دور جدید کاجارحانہ پن بھی۔ ان کا اپنے قدموں کو تیزی سے حرکت دینا اور ٹائمنگ کا بہترین مظاہرہ دوسرے چار بہترین بلے بازوں میں امتیازی درجہ دیتا ہے۔  

ولیم سن اس وقت نیوزی لینڈ کے ہر فارمیٹ کے قومی کپتان ہیں۔ نومبر 2010 میں بھارت کے خلاف اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والے ولیم سن اب تک 81 ٹیسٹ میچوں میں 52 کی اوسط سے 6727 رنز سکور کرچکے ہیں جبکہ 151 ایک روزہ میچوں میں 6171 رنز بنا چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئی سی سی کی مرد کھلاڑیوں کی ٹیسٹ رینکنگ میں ولیم سن اس وقت دوسری پوزیشن پر ویراٹ کوہلی کے ساتھ موجود ہیں اور کوہلی کا حالیہ فارم دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ وہ جلد ہی کوہلی سے دوسری پوزیشن چھین لیں گے۔

ولیم سن اب تک 22 سنچریاں بنا چکے ہیں جن میں تین ڈبل سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ان کی تازہ ترین سنچری ویسٹ انڈیز کے خلاف ہملٹن ٹیسٹ میں تھی جب ایک ایسی وکٹ پر انہوں نے 251 رنز کی اننگز کھیلی جس پر بیٹنگ آسان نہ تھی۔  

اس ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کی جیت نے اسے آئی سی سی ٹیسٹ چیپیئن شپ کی رینکنگ میں دوسری پوزیشن کے قریب پہنچادیا ہے جہاں بھارت 360 پوائنٹس کے ساتھ پہلے جبکہ آسٹریلیا 296 کے ساتھ دوسرے اور انگلینڈ 292 کے ساتھ تیسری پوزیشن پر ہے۔ نیوزی لینڈ کی پہلے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف جیت نے چوتھی سے دوسری پوزیشن کے قریب کردیا ہے ۔ اس جیت کے معمار کین ولیم سن تھے جن کی شاندار ڈبل سنچری نے فتح کی بنیاد رکھی۔

2016 میں جب سے انہوں نے قیادت سنبھالی ہے نیوزی لینڈ کی کارکردگی دن بدن بہتر ہوتی گئی ہے۔ ان کی قیادت میں 33 ٹیسٹ میں سے  19 میں نیوزی لینڈ فاتح رہی ہے جو کسی بھی نیوزی لینڈ کپتان کا سب سے بہترین ریکارڈ ہے۔

ان کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ بحیثیت کپتان ہر ٹیسٹ کھیلنے والے ملک کے خلاف سنچری بناچکے ہیں ۔ ایک روزہ میچوں میں بھی ان کا ریکارڈ متاثر کن ہے 77 میچوں سے 41 میں وہ کیویز کو وکٹری سٹینڈ پر لے کر آئے ہیں۔

گذشتہ ورلڈ کپ میں وہ سب سے کامیاب ترین کپتان تھے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 578 رنز بنائے اور ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔ ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے خلاف ان کی سنچریاں کرکٹ کی بہترین اننگز میں شمار کی جاتی ہیں۔  

وہ ٹی ٹوینٹی میں بھی کامیاب کپتان ہی۔ ویسٹ انڈیز کے ساتھ سیریز کے اختتام پر نیوزی لینڈ کی پاکستان سے سیریز شروع ہوجائے گی جس کے لیے پاکستان ٹیم نیوزی لینڈ میں قرنطینہ مکمل کرچکی ہے اور آج کوئنز ٹاؤن روانہ ہوجائے گی جہاں وہ اگلے ایک ہفتے ٹریننگ کرے گی۔ 18 دسمبر سے ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز ہوگا جبکہ دو ٹیسٹ کی سیریز 26 دسمبر سے شروع ہوگی ۔

پاکستان کے لیے یہ سیریز قدرے مشکل ہوگی کیونکہ کین ولیم سن کے ساتھ ٹرینٹ بولٹ واگنر اور ساؤتھی پر مشتمل بولنگ اٹیک زبردست فارم میں ہے۔ پاکستان کے لیے اچھی خبر یہ ہوسکتی ہے کہ کین ولیمسن کچھ دنوں کے لیے کرکٹ سے چھٹی لینا چاہتے ہیں کیونکہ ان کی پارٹنر سارہ رحیم امید سے ہیں اور اس مہینے کے آخر تک ان کے بچے کی پیدائش کا امکان ہے۔

واضح رہے سارہ رحیم پاکستانی نژاد ہیں اور عرصہ دراز سے نیوزی لینڈ میں مقیم ہی۔ں ان کی ملاقات ولیم سن سے ایک ہسپتال میں ہوئی تھی جہاں وہ نرس تھیںں۔ اگر ولیم سن پاکستان سے سیریز میں خود کو علیحدہ رکھتے ہیں تو یہ پاکستان کے لیے بہت اطمینان کی خبر ہوگی لیکن کرکٹ شائقین کے لیے نہیں جو کچھ دن ایک ایسے کھلاڑی کو ایکشن میں نہیں دیکھ سکیں گے جو موجودہ دور کے سب سے سٹائلش بلے باز ہیں۔

کین ولیمسن اگر میدان میں ایک بھرپور پروفیشنل کرکٹر نظر آتے ہیں تو میدان سے باہر ایک معصوم بچے کی مانند جس کے چہرے کی مسکراہٹ اور سادگی میں وہی چاشنی ہے جتنی ان کے کور ڈرائو یا پل شاٹ میں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ