سرینگر: برف باری میں آن لائن ڈیلیوری کرتے گھڑ سوار کی ویڈیو وائرل

ایک جانب جہاں لوگ شدید سردی میں کام کرنے والے گھڑ سوار کی تعریف کر رہے ہیں تو وہیں کچھ لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ آیا یہ ویڈیو مارکیٹنگ کا طریقہ تو نہیں؟

سری نگر میں برف باری کے دوران گھوڑے پر سوار ایک شخص پارسل کی ترسیل کر رہا ہے (عمر غنی /ٹوئٹر)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر کی برف سے ڈھکی گلیوں میں ایک گھڑ سوار کی آن لائن سٹور کی ڈیلیوری دیتے ہوئے ویڈیو وائرل ہو گئی۔

بھارتی اخبار ’انڈیا ٹو ڈے‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سری نگر میں برف باری کے دوران گھوڑے پر سوار ایک شخص پارسل کی ترسیل کر رہا ہے۔

بعد ازاں امریکی کمپنی ایمازون نے اپنی ایک ٹویٹ میں تصدیق کی کہ وہ شخص کمپنی سے وابستہ ڈیلیوری ایگزیکٹیو ہے۔

ویڈیو میں کیا دکھایا گیا؟

کشمیری فوٹو جرنلسٹ عمر غنی کی ٹوئٹر پر شیئر ہونے والی اس ویڈیو میں سری نگر میں برف باری کے دوران ڈیلیوری ایگزیکٹیو کو گھوڑے پر سوار دیکھا جا سکتا ہے جو کچھ ہی لمحوں بعد گھوڑے سے اتر کر پارسل ایک شخص کے حوالے کر دیتا ہے۔ ایگزیکٹیو نے پارسل حوالے کرنے سے پہلے اپنے موبائل کیمرے سے اس کی تصویر بھی لی اور پھر وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آگے چل پڑا۔

عمر نے اپنی پوسٹ کے عنوان میں لکھا: ایمازون کا ڈیلیوری کا نیا طریقہ۔‘ ’ایمازون ہیلپ‘ نے عمر غنی کی پوسٹ پر جواب دیتے ہوئے لکھا: ’ڈیلیوری اب بھی وعدے کے مطابق ہوتی ہے۔‘

سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو کو ہزاروں بار لائیکس اور ری ٹویٹ کیا جا چکا ہے۔ متعدد صارفین نے سخت ترین حالات میں نوجوان کی کاوش کو سراہا۔

ایک صارف نے تبصرے کیا: ‘یہ لڑکا یقیناً تعریف کے قابل ہے۔‘ ایک اور صارف نے لکھا: ’یہ حقیقی جدوجہد ہے، بھائی۔ اسے جاری رکھیں۔‘

 

کہیں یہ مارکیٹنگ تو نہیں؟

جہاں ایک طرف ڈیلیوری رائیڈر کی تعریف ہو رہی ہے وہیں لوگ اس ویڈیو پر سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کہیں یہ مارکیٹنگ کی ترکیب تو نہیں؟ شریتما چوہدری نے ٹوئٹر پر سوال کیا کہ ’کیا یہ اصل میں ہو رہا ہے؟ یا کیا یہ مارکیٹنگ سٹنٹ ہے؟‘

سلفیہ نامی ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ ’ویڈیو کون ریکارڈ کر رہا تھا؟ ویڈیو ریکارڈ کرنے والے کو کیسے پتہ کہ ڈیلیوری والا گھوڑے پر آ رہا ہے؟ ہم سب جانتے ہیں کہ کشمیر کے بہتر حالات میں بھی ڈیلیوری سروس کیسی ہوتی ہے؟‘

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل