’رمضان میں کھیلوں پر پابندی سمجھ سے بالاتر‘

خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کی ضلعی کونسل نے ایک قرارداد پاس کرکے رمضان المبارک میں ہر قسم کے کھیلوں کی تقریبات منعقد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کی ضلعی کونسل نے ایک قرارداد پاس کرکے رمضان المبارک میں ہر قسم کے کھیلوں کی تقریبات منعقد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ضلعی کونسل کے اس فیصلے کو کھیلوں کے شوقین افراد کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے ضلعی کونسل میں جماعت اسلامی کے رکن سیف الاسلام کی جانب سے کونسل کے اجلاس میں قرارداد پیش کی گئی جس میں انہوں نے رمضان کے مہینے میں ہر قسم کے کھیلوں کے ٹورنامنٹس منعقد کرنے پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔

کونسل میں پیش کی گئی اس قرارداد کو متفقہ طور پر مںظور کر لیا گیا۔ مذکورہ  قرارداد کی جو کاپی نمائندہ انڈپینڈنٹ اردو نے دیکھی اس کے متن کے مطابق: ’رمضان کا مہینہ عبادات کا مہینہ ہوتا ہے اور ضلع کے مختلف مقامات پر منعقد ہونے والے نائٹ ٹورنامنٹ عبادات اور تراویح کو متاثر کرتے ہیں۔‘

مزید تحریر ہے: ’رمضان میں ٹورنامنٹس کی وجہ سے نوجوان نسل عبادات سے محروم رہ جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ میں اس قرارداد کے ذریعے مطالبہ کرتا ہوں کہ کھیلوں کے ٹورنامنٹس پر رمضان میں پابندی لگائی جائے۔‘

 اسی ضمن میں پیر کے روز ضلعی ناظم کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو ایک مراسلہ بھی بھیجا گیا جس میں انہوں نے ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے جو کھیلوں کی کسی بھی قسم کی تقریب منعقد کرنے کی کوشش کریں گے۔

مراسلے میں ضلعی ناظم نے لکھا: ’اگر کسی بھی شخص نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کوئی بھی کھیل کی تقریب منعقد کی تو اس کے خلاف ’احترام رمضان آرڈیننس‘ کے تحت کارروائی کی جائے۔‘

ضلعی کونسل کے اس فیصلے پر مختلف لوگوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔

ضلعی اپوزیشن ارکان کا موقف ہے کہ  کونسل کو آئینی طور پر ایسی کوئی پابندی لگانے کا اختیار نہیں ہے۔

اس وقت دیر میں جماعت اسلامی کی ضلعی حکومت موجود ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن رکن عالم زیب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مقامی گورنمنٹ ایکٹ کے مطابق کھیلوں کی سرگرمیوں پر پابندی کا اختیار ضلعی کونسل کے پاس نہیں ہے اور نہ ہی ضلعی کونسل اس طرح کی قرارداد پاس یا قانون سازی کر سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا: ’کچھ نادان ارکان کو اپنی پارٹی پالیسی کا بھی نہیں پتہ اور وہ محض نمبر بڑھانے کے لیے ایسی قرارداد کونسل میں پیش کرتے ہیں جس کی کوئی قانونی اور آئینی حیثیت نہیں ہوتی۔‘

اس حوالے سے عالم زیب نے ڈپٹی کمشنر کے نام ایک خط بھی لکھا، جس میں انہوں نے اس قانونی مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں کھیلوں کی سرگرمیوں پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔

احترام رمضان آرڈیننس میں کھیلوں پر پابندی کی شق موجود نہیں

انڈپینڈنٹ اردو نے جب احترام رمضان آرڈیننس کا مطالعہ کیا تو اس میں رمضان میں کھیلوں پر پابندی کے حوالے سے کوئی شق موجود نہیں ہے۔

اس آرڈیننس میں زیادہ تر رمضان میں عوامی مقامات پر کھانے پینے پر پابندی کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔

عوامی مقامات پر کھانے پینے یا ہوٹل کھلا رکھنے کی صورت میں آرڈیننس کے مطابق ملزم کو تین مہینے قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ اس آرڈیننس کے تحت سینما گھروں اور تھیٹرز کو رمضان میں بند کرنے کا کہا گیا ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں ملزم کو چھ ماہ تک قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

کھیلوں کے شوقین کیا کہتے ہیں؟

ضلع لوئیر دیر کے علاقے ملک آباد سے تعلق رکھنے والے محمد عمران گزشتہ کئی سالوں سے اپنے علاقے میں رمضان میں کرکٹ کا ٹورنامنٹ منعقد کرتے ہیں۔اس ٹورنامنٹ میں ضلع بھر سے کھلاڑی حصہ لیتے ہیں اور عموماً میچ نمازِ تراویح کے بعد شروع ہوتے ہیں۔

عمران نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’رمضان میں کھیلوں کی سرگرمیوں پر پابندی سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

انہوں نے ٹورنامنٹ کے انعقاد کے بارے میں بتایا کہ چونکہ رمضان میں دن کے وقت گرمی کی شدت زیادہ ہوتی ہے اور لوگ عبادات میں مصروف ہوتے ہیں تو رات کے وقت میچ منعقد کرنے پڑتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’اس قسم کی تقاریب سے نوجوان نسل مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب ہوتی ہے۔ زیادہ تر نوجوان افطاری اور عشا کی نماز کے بعد سحری تک نہیں سوتے تو وہ کھیلوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔‘

ضلع لوئر دیر کے ناظم محمد رسول خان سے انڈپینڈنٹ اردو نے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا، تاہم جماعت اسلامی کی تحصیل بلامبٹ کے ناظم عمران الدین نے رابطے پر بتایا کہ یہ پابندی ضلع کونسل نے لگائی ہے اور اس کا صرف یہی ایک مقصد ہو سکتا ہے کہ نوجوان اس مہینے میں عبادات کر سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ