راولپنڈی ٹیسٹ: رضوان کی شاندار سینچری رائیگاں تو نہیں جائے گی؟

جنوبی افریقہ کے خلاف اس ٹیسٹ میں 370 رنز کا ہدف ایک انتہائی مشکل اور کٹھن ہے، جس کے لیے کئی بڑی اننگز چاہیے ہوں گی۔

محمد رضوان کا جنوبی افریقہ کے خلاف  سینچری بنانے کے بعد  ایک انداز (تصویر: اے ایف پی)

صرف چار وکٹیں باقی ہوں، میچ کا چوتھا دن ہو اور ایک بڑا سکور کرنے کا دباؤ ہو، ساتھ میں اختتامی بلے باز جن کی شہرت بھی جلد آؤٹ ہونےکی ہو تو کسی بھی مستند بلے باز کے ہاتھ پاؤں پھول سکتے ہیں۔ ایسے میں ایک وکٹ کیپر بلے باز کے لیے تو پھر آر یا پار کی صورتحال رہ جاتی ہے۔ اکثریت تو اس منظر نامے میں بس مارو اور مرجاؤ کو ترجیح دیتے ہیں، یعنی دو چار اونچے نیچے شاٹ اور پویلین واپس!

شاید یہ سارے مفروضے صحیح ثابت ہوتے اگر وکٹ پر محمد رضوان نہ ہوتے۔ ایک ایسا کھلاڑی جس کا اسٹیمنا ایسا ہو کہ پورا دن کھیل کر بھی تھکن نہیں اور کھیل پر توجہ ایسی کہ جیسے ابھی ابھی آیا ہو۔ ہر گیند کو پوری سمجھ بوجھ سے کھیلنا اور رنز کی رفتار بھی مناسب رکھنا رضوان کا ہی خاصا ہے۔

گذشتہ ایک سال میں رضوان نے جس بلے بازی کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے ساری دنیا کو حیران کر رکھا ہے۔ آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور پھر پاکستان کی پچوں پر مایہ ناز بولرز کے سامنے ان کا ڈٹ جانا اور ڈٹ کر مقابلہ کرنا ایک ایسی خوبی بن چکا ہے، جس کا کوئی ثانی نہیں۔

ایک ایسی دیوار جو جب چاہے حریف کے راستے میں رکاوٹ بن جائے اور مغلوب ہوتی ہوئی فوج کو جینے کا حوصلہ بھی دے اور جنگ کا طریقہ بھی۔

راولپنڈی ٹیسٹ کے چوتھے دن بھی ان کی بیٹنگ حملے اور دفاع کا ایسا سنگم تھی، جس میں دوسرے ساتھیوں کے ساتھ رفاقتیں بھی تھیں اور وکٹ کے چاروں طرف خوبصورت شاٹ بھی ۔

پہلے یاسر شاہ کے ساتھ 68 رنز  اور پھر نعمان علی کے 97 رنز کی رفاقت نے پاکستان کو نہ صرف مشکلات سے نکالا بلکہ فتح کے راستے پر گامزن کردیا۔

رضوان نے جس طرح آج بیٹنگ کی اور سنچری سکور کی وہ کسی بھی طرح کسی بڑے بلے باز کے انداز سے کم نہ تھی۔ کمال خوبصورتی سے وہ کور ڈرائیو سوئپ اور پل شاٹ کھیل رہے تھے۔ اعتماد اس قدر تھا کہ ہر بولر کو اگلے قدم پر کھیلتے تھے، جس سے بولر کی لائن متاثر ہوتی تھی۔

رضوان نے 204 گیندوں پر ناقابل شکست 115 رنز بنائے جو 15 چوکوں سے مزین تھے ۔یہ رضوان کی ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی سینچری ہے۔

نعمان علی نے بھی رضوان کا بھرپور ساتھ دیا۔ وہ اپنی نصف سینچری مکمل نہ کرسکے اور 45 رنز بنا کر ربادا کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ پاکستان کے آخری آؤٹ ہونے والے کھلاڑی شاہین شاہ تھے۔

پاکستان نے دوسری اننگز میں 298 رنز بنا کر جنوبی افریقہ کو جیت کے لیے 370 رنز کا پہاڑ سا ہدف دے دیا۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے جارج لنڈے نے پانچ کھلاڑی آؤٹ کیے۔

جنوبی افریقہ میچ بچانے میں مصروف

جنوبی افریقہ کی بیٹنگ لائن اس سیریز میں خاصی حوصلہ شکن رہی ہے اور اتنے بڑے ہدف کے تعاقب میں گھبراہٹ اور عجلت فطری ہوتی ہے لیکن اوپنر ایڈم مارکرم اور وان داڈوسن نے مشکل صورتحال میں اب تک اعتماد اور حوصلے سے بیٹنگ کی ہے۔ دونوں بلے بازوں نے دفاع کے ساتھ حملہ کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔

جنوبی افریقہ کی پہلی وکٹ جلد ہی گرگئی تھی۔ ڈین ایلگر 17 رنز بناکر شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر رضوان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ اس وقت پروٹیز کا سکور 33 رنز تھا۔

تاہم اس کے بعد مارکرم اور ڈوسن نے صورتحال کو سنبھال لیا اور چوتھے دن کے اختتام تک بنا کسی اضافی نقصان کے سکور 127 تک لے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے بولرز اب تک دونوں بلے بازوں کو پریشان کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں، اس کی ایک وجہ پچ کا مزید سپاٹ ہوجانا ہے، جس پر سپنرز کو ٹرن نہیں مل رہا اور گیند بھی بلے پر مناسب آرہی ہے۔

پاکستانی کیمپ پچ کے اس رویے سے پریشان ہوگا لیکن حریف ٹیم کے لیے  مزید 243 رنز کسی بھی طرح آسان نہیں ہیں جبکہ جنوبی افریقہ کے بقیہ بلے باز اچھی فارم میں بھی نہیں ہیں۔

جنوبی افریقہ نے ماضی میں 400 رنز کا ہدف عبور کرکے بھی جیت حاصل کی ہے لیکن اس کی ساری فتوحات برصغیر سے باہر کی پچوں پر ہیں۔

اس ٹیسٹ میں 370 رنز کا ہدف ایک انتہائی مشکل اور کٹھن ہے جس کے لیے کئی بڑی اننگز چاہیے ہوں گی۔

ٹیسٹ کے آخری دن پیر کو صبح کا سیشن بہت اہم ہوگا اور اگر پاکستان کو صبح کے سیشن میں کامیابی نہ ملی تو ٹیسٹ کا نتیجہ خلاف توقع ہوسکتا ہے۔

پاکستان کی بولنگ اس سیریز میں اب تک متاثر کن رہی ہے اور ماہرین کو امید ہے کہ پانچویں دن بولرز مہمان ٹیم کو آؤٹ کر لیں گے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان کے مرد بحران فائٹنگ بلے باز محمد رضوان کی شدید بدقسمتی ہوگی کہ ان کی شاندار سینچری رائیگاں چلی گئی۔

رضوان کی یہ اننگز پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گی  جو ایک مشکل ترین صورتحال میں عزم وحوصلے سے کھیلی گئی اور جیت کی بنیاد رکھ گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ