’بچے سے ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے میجر کو برخواست کرنے کی سفارش‘

عسکری ذرائع کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک سکول میں بچے سے ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی پاداش میں فوج کی تحقیقاتی کمیٹی نے میں حاضر سروس میجر کو گھر بھیجنے کی سفارش کر دی ہے۔

عسکری ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک سکول میں جا کر اپنے بیٹے سے لڑائی کرنے والے بچے سے ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے میجر کے خلاف تحقیقات مکمل ہو گئیں، جن کے بعد پاکستانی فوج کی تحقیقاتی کمیٹی نے حاضر سروس میجر کو گھر بھیجنے کی سفارش کر دی ہے۔

نو اپریل کو دو بچوں کی لڑائی کے بعد مذکورہ میجر پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے وردی میں سکول آ کر بچے کو تھپڑ مارا تھا۔ 

عسکری ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے سکول میں بچوں کی لڑائی میں ملوث ہونے پر میجر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا، جن میں ثابت ہوا کہ انہوں نے بچے کو جھڑکا اور بدسلوکی کی۔

انہوں نے کہا کہ ’سکولوں میں لڑائی کے ہزاروں واقعات ہوتے ہیں لیکن بطور باوردی فوجی، کچھ اصول ہوتے ہیں جن کو مذکورہ میجر نے جذبات میں آ کر نظر انداز کر دیا۔‘

 جب عسکری ذرائع سے سوال کیا گیا کہ ان آفیسر کے خلاف کیا ضابطے کی کارروائی کی جائے گی تو انھوں نے کہا کہ ’ممکنہ طور پہ اُن کو ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا اور مراعات بھی نہیں دی جائیں گی، تاہم فیصلے پر آرمی چیف کے دستخط ہونا ابھی باقی ہیں۔‘ 

’باوردی شخص عام لوگوں کی طرح سڑک پر کھڑے ہو کر گول گپے بھی نہیں کھا سکتا‘

لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عوام فوج سے محبت کرتے ہیں ایسے کسی رویے کی توقع وہ باوردی شخص سے نہیں کرتے اس لیے اُن کا ردعمل بھی سخت آتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’فوج میں ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ جذباتی صرف دُشمن کے سامنے ہونا ہے اس کے علاوہ ہمیں جذباتی ہونے کی اجازت نہیں ہے۔‘

اُن سے جب سوال کیا گیا کہ کیا پرائیویٹ سکول میں وردی پہن کر بچے کو لینے جا سکتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: ’معمول میں یونیفارم پہن کر پرائیویٹ جگہ پر نہیں جانا چاہیے، ہاں ہنگامی صورت حال میں جایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی سڑک پہ کھڑے ہو کر گول گپے کھا سکتا ہے ہم وردی میں ایسا بھی نہیں کر سکتے۔‘

نوکری سے فارغ ہونے والے افسر کی بطور فوجی شناخت ختم ہو جاتی ہے

لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفی نے نمائندہ انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ جب نوکری سے گھر بھجوانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو متعلقہ آفیسر اپنے نام کے ساتھ عہدہ اور ریٹائرڈ کا لفظ نہیں لگا سکتا۔ اگر وہ میجر ہے تو عمر کے 18 سے 35 سال کا دورانیہ اُس کی زندگی سے حذف ہو جاتا ہے۔ وہ بطور ریٹائرڈ فوجی افسر اپنی شناخت استعمال نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا کہ فوج کے اصول بہت سخت ہوتے ہیں اصولوں کی خلاف ورزی پر کسی کو معافی نہیں دی جاتی۔ جبری ریٹائرمنٹ کے بعد متعلقہ افسر فوج کے ماتحت کسی بھی اور ادارے میں نوکری کا اہل نہیں رہتا اور نہ ہی کوئی اور سرکاری نوکری کر سکتا ہے، کیونکہ ایسی کوئی بھی نوکری کرنے کے لیے جی ایچ کیو سے این او سی لیا جاتا ہے اور نوکری سے نکالے گئے افسر کو این او سی بھی نہیں ملتا اُس کی لائف زیرو پہ چلی جاتی ہے۔‘

نو اپریل کو ڈیرہ اسماعیل خان کے سٹی سکول میں یہ واقعہ پیش آنے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا جس کے بعد عسکری حکام نے معاملے کا نوٹس لیا تھا اور تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ 

رابطہ کرنے پر سکول حکام نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جب متاثرہ بچے کے والدین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی فون نہیں اُٹھایا۔

تاہم متعلقہ میجر کے اہل خانہ نے اس معاملے پہ لاعلمی کا اظہار کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان