مریم نواز کی سپریم کورٹ سے ’درخواست‘ پر پی ٹی آئی کی تنقید

مسلم لیگ ن کی نائب صدر کی سینیٹ انتخابات اور الیکشن کمیشن کے کردار کے حوالے سے ایک ٹویٹ پر جہاں حکمران جماعت نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، وہیں ن لیگی رہنماؤں کے مطابق اس پیغام کے ذریعے ’اپنا موقف عوام تک پہنچایا‘ گیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز (فائل تصویر:اے ایف پی)

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے سینیٹ الیکشن اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے کردار کے حوالے سے ٹوئٹر پر ایک پیغام پر جہاں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، وہیں ن لیگی رہنماؤں کے مطابق اس پیغام کے ذریعے ’اپنا موقف عوام تک پہنچایا‘ گیا ہے۔

مریم نواز نے منگل کو اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’ای سی پی ایسی کسی چیز پر کس طرح دوبارہ غور کر سکتی ہے، جو آئین میں شامل ہے۔ اگر اس میں آئینی ترمیم کی ضرورت ہو تو اس کے کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ احتیاط برتے اور ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے تاثر جائے کہ کسی کے کہنے پر آئین کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔‘

اس ٹویٹ کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے جوابی ٹویٹ اور انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف صاحب کی بیٹی سپریم کورٹ کو دھمکیاں دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ محترمہ ہمیشہ سے ضدی ہیں، بھلے زبردستی میڈیکل کالج میں داخلہ ہو یا چچا کو ہٹا کر پارٹی پر قبضہ کرنا۔‘

شہباز گِل نے مزید کہا کہ ’ان کے والد نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا اور بیٹی بھی اسی راہ پر گامزن ہیں لیکن یاد رہے عمران خان این آر او دیں گے نہ ہی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں تبدیلی ہو گی۔‘

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مایوسی کا شکار ہے اسی لیے اداروں کو دھمکانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ریلیف مل سکے۔ ’اس معاملے کا سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کو نوٹس لینا چاہیے۔‘

دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکریٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں سوال اٹھایا کہ ’پی ٹی آئی کے اپنے رہنما اور کارندے خود کتنا اداروں کا کتنا احترام کرتے ہیں؟ فارن فنڈنگ کیس ہو، فیصل واوڈا نااہلی کیس ہو یا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس، حکمران جماعت نے ہمیشہ اداروں پر شدید تنقید کی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ ’دوسری بات یہ کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کہا ہے کہ سیکریٹ بیلٹ کے ذریعے ہی سینیٹ الیکشن کرانے کا درج ہے تو وہ 24 گھنٹے میں سوچ بچار کر کے آئیں۔‘

بقول عظمیٰ بخاری: ’مریم نواز نے اسی معاملے پر کہا ہے کہ آئینی طور پر الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ آئین پر چل سکتے ہیں۔ اس میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کا ہے اس لیے الیکشن کمیشن آئین کے مطابق ہی جواب دے، کسی غیبی ہاتھ کے ملوث ہونے سے یا حکومتی ہدایت پراپنا غیر آئینی جواب جمع نہ کرائیں اور سپریم کورٹ بھی آئینی طور پر اس معاملے کو نمٹائے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ معاملہ آئین کا ہے اور اداروں کے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے آئینی فرائض انجام دینے سے متعلق بیان میں کون سی توہین ہے؟ پی ٹی آئی رہنما ہر معاملے پر اپوزیشن کی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی کوشش کرتے ہیں جس کا اداروں کو نوٹس لینا چاہیے۔‘

اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی صارفین اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں، جن میں سے کئی نے مریم نواز کے بیان پر تنقید کی ہے جبکہ بعض ان کی حمایت میں پیغام جاری کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گذشتہ روز (15 جنوری) کو سماعت کے دوران الیکشن کمیشن سے سینیٹ انتخابات شفاف بنانے کے لیے پولنگ سکیم طلب کی تھی۔

وفاقی حکومت نے صدارتی ریفرنس کے ذریعے عدالت سے رائے مانگی ہے کہ کیا سینیٹ الیکشن آئینی ترمیم کے بغیر اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوسکتا ہے یا نہیں؟ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ حکومت سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور ووٹوں کی خرید و فروخت سے بچنے اور شفاف انتخابات کے لیے شوآف ہینڈ کے ذریعے سینیٹ الیکشن کروانا چاہتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان