سینیٹ انتخابات: بلوچستان میں ووٹ کی قیمت سب سے زیادہ کیوں؟

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گذشتہ دنوں ایک بیان میں کہا تھا کہ بلوچستان میں سینیٹ کے ایک ووٹ کی قیمت 50 سے 80 کروڑ روپے لگائی جارہی ہے۔

سینیٹ کے انتخابات کے لیے تین مارچ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے (تصویر: بشکریہ سینیٹ آف پاکستان آفیشل فیس بک پیج)

پاکستان میں تین مارچ کو ہونے والے ایوان بالا (سینیٹ)کے انتخابات کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے اور اسی دوران ووٹوں کی خرید وفروخت کے حوالے سے وزیراعظم کے بیان نے کئی سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گذشتہ دنوں کلرسیداں میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ بلوچستان میں سینیٹ کے ایک ووٹ کی قیمت 50 سے 80 کروڑ روپے لگائی جارہی ہے۔ 

انہوں نے کہا: 'آج نہیں کئی دفعہ پہلے بھی مجھے پیسوں کے عوض سینیٹ کی سیٹ بیچنے کی آفر ہوئی اور اس سلسلے میں براہ راست اور بالواسطہ رابطے کیے گئے۔'

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی چارٹر آف ڈیموکریسی میں اوپن بیلٹ کا معاہدہ کرچکی ہیں۔ 

ساتھ ہی انہوں نے کہا: 'اصل ایشو یہ ہے کہ کیا اس موجودہ سسٹم کے تحت الیکشن ہونا چاہیے یا نہیں؟ یاد رکھیں اگر سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹنگ نہ ہوئی تو اپوزیشن والے روئیں گے، سیکرٹ ووٹنگ کے تحت حکومت کو اپوزیشن سے زیادہ سیٹیں مل سکتی ہیں۔'

یاد رہے کہ سینیٹ کے انتخابات خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن بیلٹ سے کروانے کے لیے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کردیا گیا ہے۔

صدر عارف علوی کے دستخط سے جاری اس آرڈیننس کو انہی کی طرف سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس پر اعلیٰ عدالت کی رائے سے مشروط کیا گیا ہے۔

ادھر بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے جمعرات (11 فروری) کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے، تو پورے پارلیمان کا تقدس پامال ہوتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ 'جب ایک رکن اسمبلی کا ووٹ فروخت کرتا ہے تو کئی ہزار لوگوں کا ضمیر فروخت کرتا ہے۔'

 لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان بار بار کہہ رہے ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ کے تحت ہونے چاہییں۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت بھی سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ ہونے چاہیے تھے، مگر کہیں بدنیتی کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا، لیکن اب اپوزیشن کو اوپن بیلٹ کی حمایت کرنی چاہیے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 63 کے مطابق اگر کسی نے پارٹی کے خلاف ووٹ کاسٹ کیا تو اس کی رکنیت معطل ہوجائےگی۔

بلوچستان اسمبلی میں جماعتوں کی پوزیشن اس طرح ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے 24 ممبران ہیں۔ دوسرے نمبر پر متحدہ مجلس عمل کے 11، بی این پی مینگل کے دس، پاکستان تحریک انصاف کے سات، اے این پی کے چار ، بی این پی عوامی کے تین اور مسلم لیگ ن، پشتونخواملی عوامی پارٹی اور جے ڈبلیو پی کا ایک ایک ممبر سینیٹ کا رکن ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہےکہ بلوچستان سینیٹ کے انتخابات میں خریدو فروخت کے حوالے سے ہمیشہ بدنام رہا ہے، کیوں کہ یہاں ہر انتخابات میں ایسی ہی صورتحال نظر آتی ہے۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ یہ سلسلہ 1998 یا 1990 سے شروع ہوا۔ اس وقت ایک ایم پی اے کی قیمت 50 لاکھ روپے تک تھی۔

شہزادہ ذوالفقار کے بقول: 'سینیٹ کے انتخابات کے دوران ووٹ بیچنے کو پہلے معیوب سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ عام ہوگیا ہے، تاہم بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں کے ارکان  اور جے یوآئی کے لوگ اپنے ہی لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں، وہ بکتے نہیں ہیں۔'

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی نشستوں پر باہر سے آنے والے سرمایہ کاروں کا عمل دخل عرصے سے جاری ہے۔ 1990 میں زرات خان، صدرالدین ہاشوانی اور اکرم ولی محمد کو یہاں سے منتخب کرایا گیا۔

'اکرم ولی محمد جب سینیٹر بننے کےلیے آئے تو انہوں نے کوئٹہ کے سرینا ہوٹل میں آکر کیمپ لگایا اورر اس وقت کے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کے پولیٹکل سیکرٹری نے آکر یہاں معاملات طے کیے اور وہ سینیٹر بھی منتخب ہوگئے۔'

شہزادہ ذولفقار کے مطابق: 'ہم نے انتخاب کے بعد سینیٹر ولی محمد سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا وہ بلوچستان کی ترقی کے لیے اقدامات کریں گے، لیکن اپنے تین سالہ دور میں انہوں نے نہ کبھی صوبے کا دورہ کیا اور نہ ہی سینیٹ کے اجلاس میں کوئی بات کی۔'

سینیٹ کے انتخابات کے دوران کبھی دلچسپ صورتحال بھی سامنے آتی ہے۔ شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ پچھلے انتخابات کے دوران حسین اسلام بھی یہاں آئے تھے، انہوں نے ٹیکنوکریٹس کی نشست کے لیے کاغذات جمع  کرائے لیکن ان کے  کاغذات پہلے یہاں سے اور بعد میں سپریم کورٹ سے بھی مسترد ہوگئے۔

انہوں نے بتایا: 'حسین اسلام نے چونکہ پہلے پیسے دے دیے تھے اور ایم پی ایز نے انہیں پیسے واپس کرنے سے انکار کردیا تھا، لہذا اس کا حل اس طرح نکالا گیا کہ انہیں عبدالقدوس بزنجو نے مشیر بنالیا اور فشریز کا محکمہ دے دیا۔'

بقول شہزادہ ذوالفقار: 'چونکہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سندھ کے غیر قانونی ٹرالرز  آتے ہیں، جو غیر قانونی شکار کرتےہیں، لہذا حسین اسلام کو بھی یہ محکمہ دیا گیا تاکہ وہ اپنے ڈوبے ہوئے پیسے نکال سکیں۔'

ذوالفقار سمجھتے ہیں کہ یہ المیہ ہےکہ بلوچستان کو ہمیشہ استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ باہر کے لوگ یہاں آتے ہیں، ووٹ خریدتے ہیں اور سینیٹر بن جاتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'چونکہ عبدالقدوس کے دور میں جو لوگ بکے وہی، اب بلوچستان عوامی پارٹی کا حصہ ہیں، لہذا میں نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ دوبارہ نہیں بکیں گے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہزادہ ذوالفقار کا ماننا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا اوپن بیلٹ کا فیصلہ اس لحاظ سے بہتر ہے کہ اس سے ووٹ دینے والا کا پتہ چل جائے گا۔ ویسے پتہ سب کو ہوتا ہے، لیکن اس سے پارٹی اپنے رکن کے خلاف آسانی سے کارروائی کرسکے گی، لہذا اپوزیشن کو بھی اس فیصلے کی حمایت کرنی چاہیے۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر انوار الحق کاکڑ بھی سینیٹ کے الیکشن میں ووٹوں کی خریدوفروخت کو سب سے برا تصور کرتے ہیں۔

انوار الحق کاکڑ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں وزیراعظم عمران کے بلوچستان میں سینیٹ ووٹوں کی خریدوفروخت کے بیان کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب بھی یہ سلسلہ بلوچستان میں ہو رہا ہوگا، جس کی وہ تردید نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ بلوچستان سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے اس وجہ سے آئیڈیل ہے کہ یہاں تعداد کم ہونے کے باعث ووٹ خریدنے میں آسانی ہوتی ہے۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ 'یہ ہماری سیاست کا سب سے برا کلچر ہے۔ یہ پورے پاکستان میں ہے لیکن ہمارے ہاں زیادہ ہے۔'

انہوں نے کہا کہ جس طرح سینیٹ کے الیکشن کا طریقہ کار ہے، اس میں کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتا۔

اپنی پارٹی کی حکمت عملی بتاتے ہوئے انہوں نے کہا: 'بلوچستان عوامی پارٹی نے سینیٹ کے امیدواروں کے حوالے سے کمیٹی بنائی جس نے 70 لوگوں کے انٹرویوز کیے، میں بھی اس کاحصہ ہوں۔ اس کے علاوہ کور کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، جو سکروٹنی کے بعد حتمی فیصلہ کرے گی۔'

تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ووٹ بیچنے والوں میں سے اکثر لوگوں کا تعلق مسلم لیگ ن ، مسلم لیگ ق اور پیپلز پارٹی سے ہوتا ہے، جو اب یہ کام عام کھلے عام کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست