’ہماری کرکٹ ابھی ختم نہیں ہوئی‘

اکمل برادران ماضی میں اپنے غیر سنجیدہ رویے اور غیر مستقل مزاجی کی وجہ سے تنازعات کا شکار رہے ہیں۔

آئی سی سی ورلڈ کپ 30 مئی 2019 کو لندن میں شروع ہونے جارہا ہے جس میں اس بار پاکستان کے کئی پرانے کھلاڑیوں کی جگہ نئے کھلاڑیوں کو بھیجا گیا ہے۔

کرکٹ کے اس بڑے مقابلے میں نہ بھیجے جانے والے اکمل برادران بھی ہیں یعنی کامران اکمل اور ان کے بھائی عمر اکمل۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ ینگ ٹیلنٹ کو آگے لانا ہے نہ کہ آزمائے ہوئے کھلاڑیوں کو بار بار آزمانا۔

ویسے بھی جن کھلاڑیوں کو باہر کیا گیا وہ دو تین ورلڈ کپ میں اپنی کارکردگی دکھا چکے ہیں۔

دوسری جانب کامران اکمل نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ بھیجی گئی ٹیم سے ’پر امید ہیں۔ اب یہ منحصر ہے کہ ورلڈ کپ کے دن کون کتنا اچھا کھیلتا ہے اور کون مثبت کرکٹ کھیلتا ہے۔ ہماری دعائیں پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہیں۔‘

کامران اکمل کی باتوں سے کچھ طنز بھی جھلکا۔ کہنے لگے: ’اب تو ٹیم چلی گئی ہے۔ جب تک ٹورنامنٹ چل رہا ہے ہم نے اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنا ہے۔ پتا چل جائے گا کہ ٹیم کیسی ہے اور کس وجہ سے بھیجی ہے۔ ٹیم کی کارکردگی سب کو نظر آجائے گی۔‘

ان کی باتوں سے تھوڑا دکھ بھی محسوس ہوا۔ بولے: ’ٹیم میں نہ ہونے کا دکھ تو ہر کسی کو ہوتا ہے اور اب ہر کوئی تو ٹیم میں آ نہیں سکتا۔ جو سلیکٹروں کو بہتر لگی وہ ٹیم انہوں نے سلیکٹ کرلی ہے۔‘

اور ساتھ ہی وہ پر جوش بھی دکھائی دیے، بڑے پر اعتماد لہجے میں کہنے لگے: ’ورلڈ کپ میں نہ جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہماری کرکٹ ختم ہوگئی ہے۔ ہم محنت کرتے رہیں گے۔ ورلڈ کپ کے بعد بھی کرکٹ ہونی ہے ختم نہیں ہو جانی۔‘

اکمل برادران ماضی میں اپنے غیر سنجیدہ رویے اور غیر مستقل مزاجی کی وجہ سے تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ ٹیم میں سلیکٹ اور ڈراپ ہونے کے تسلسل کا شکار بھی رہے ہیں۔ جہاں تک ان کی کرکٹ میں کارکردگی کی بات ہے توحالات اتنے برے بھی نہیں۔ کامران اکمل ڈومیسٹک ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ سینچریاں بنانے والے تیسرے بلے باز ہیں۔ ون ڈے کپ میں تنازعات کا شکار رہنے والے عمر اکمل 342 رنز کے ساتھ ٹاپ سکورر ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ