پی ایس ایل 6: جب زندگی کا پہلا میچ بھی آدھا دیکھا 

انڈپینڈنٹ اردو کے کراچی میں نامہ نگار امر گرُڑو نے زندگی میں پہلی مرتبہ کرکٹ میچ سٹیڈیم میں دیکھنے کی کوشش کی، یہ تجربہ کیسا رہا؟

امر کرکٹ کے میدان میں (انڈپینڈنٹ اردو)

اگر کوئی نیا بندہ کراچی میں نیشنل سٹیڈیم جا کر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچ میں آنے والے نوجوانوں کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ لے تو اسے یقین ہوگا کہ دہشت گردی سے کئی دہائیوں سے متاثر ملک کے سب سے بڑے شہر کے لیے یہ میچ کسی تحفے سے کم نہیں۔

آج کل کے ڈیجیٹل نیوز کے جدید دور میں کراچی کا کوئی بھی صحافی کسی ایک بیٹ میں ماہر ہو، اسے اپنے ’کمفرٹ زون‘ سے نکلنا ہی پڑتا ہے۔ اس وسیع شہر میں 15 سال سے صحافت کرتے ہوئے ہر روز نئی بات سیکھنے کو ملی۔ لیکن کرکٹ سے میری اتنی ہی بنتی ہے جتنی شاید کسی صحرائی کی سوئمنگ پول سے بنتی ہو۔ اس کی ایک وجہ شاید سیکنڈری سکول میں کاک بال سے کرکٹ کھیلتے ہوئے بازو پر لگی گیند ہوسکتی ہے جس نے مجھے بے ہوش کر دیا تھا۔ وہ دن آج کا دن، کرکٹ کھیلنا تو دور کی بات میچ دیکھنے سے بھی توبہ کر لی تھی۔

صحافت میں ماحولیات میری بیٹ رہی ہے، اس لیے جب کرکٹ میچ کی کوریج کا حکم ملا تو میرے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔ یہ ایسے ہے، جیسے کسی سپورٹس صحافی کو کلائیمیٹ چینج کانفرنس کور کرنے کے لیے بھیج دیا جائے۔ 

پچھلے سال پی ایس ایل کی کوریج کی ذمہ داری میری ساتھی رپورٹر رمیشہ علی کی تھی، مگر کچھ عرصہ قبل وہ ایک فیلوشپ پر آکسفورڈ چلی گئیں۔ لہذا اس سال ٹورنامنٹ کا آغاز ہوا تو میرے کان کھڑے ہوئے کہ یہ اس بار تو کور کرنا ہی پڑے گا۔ پھر وہی ہوا جس کا خوف تھا۔ چند دن بعد اسلام آباد آفس سے فون آیا کہ آپ سٹیڈیم جائیں اور 'آنکھوں دیکھا احوال' لکھیں۔

اب پھولی سانسوں کے ساتھ ادھر ادھر  معلوم کرنا شروع کیا کہ پی ایس ایل کے ٹکٹ کہاں سے ملتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ہمارے اسلام آباد آفس کی ساتھی جویریہ حنا گذشتہ سال پی ایس ایل جا چکی ہیں، تو جھٹ سے انہیں فون کیا۔ انہوں نے اپنے بھائی سے بات کر کے بتایا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے اس سال ٹکٹ صرف آن لائن ہی خریدے جاسکتے ہیں۔ ساتھ میں ایک ویب سائٹ کا لنک بھی بھیج دیا کہ یہاں سے ٹکٹ بک کروائیں۔

ٹکٹ کی بکنگ کرتے ہوئے مختلف مراحل کے بعد جب سیٹ منتخب کرنے کی باری آئی، تو سائٹ پر گول دائرے پر لکھا تھا کون سے انکلوژر میں سیٹ بک کریں گے۔ تب میرے لیے یہ پہلا انکشاف تھا کہ سٹیڈیم میں ایک سے زائد انکلوژر بھی ہوتے ہیں۔

میں نے زندگی میں کبھی سٹیڈیم میں میچ نہیں دیکھا۔ ایک دو نہیں، نیشنل سٹیڈیم میں کرکٹ ہیروز کے نام سے منسوب 14 انکلوژرز میں کس میں سیٹ بک کراؤں، یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ خیر ایک انکلوژر پر کلک کیا، تو سب سیٹ بک تھیں، دوسرے کا بھی یہی حال، تیسرا فیملی کے لیے تھا۔ ویسے ہی خوش ہورہا تھا کہ ٹکٹ ہی نہیں مل رہا۔

تاریخ تبدیل کر کے ایک ایک انکلوژر کھولا تو آخرکار 24 فروری کے دن کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائٹیڈ کے میچ کے لیے ماجد خان انکلوژر میں کافی سیٹیں خالی مل گئیں۔ جھٹ سے ٹکٹ بک کرلی۔ ماجد انکلوژر، گیٹ نمبر چار، سیٹ نمبر 76۔ ای ٹکٹ ایمیل میں آگیا۔ یہ مرحلہ تو مکمل ہوگیا۔ 

ابھی میچ میں دو دن تھے، مگر اس دوران میچ کے حوالے سے اسلام آباد آفس سے دو تین فون بھی آگئے، اب تو پریشانی اور بھی بڑھ گئی، یہ کیسے ہوگا۔ اس سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ سٹیڈیم میں کون سی طرف سے جایا جائے، کیوں کہ سکیورٹی کے باعث سٹیڈیم کے اطراف میں گاڑیوں کی داخلہ پر پابندی تھی۔

24 فروری کی دوپہر ایک سپورٹس جرنلسٹ کو فون کیا کہ بھائی سٹیڈیم میں کئی انکلوژر ہیں، ماجد خان انکلوژر جانا ہو تو کہاں سے جائیں، انہوں نے کہا کہ وہ لاہور میں ہیں اور اس سال پی ایس ایل کی سکیورٹی پلان پر اپڈیٹیڈ نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کے ٹائیم میڈیکوز تک چلے جائیں، وہاں سے پیدل آسانی سے اندر جاسکتے ہیں۔ 

میچ تو شام سات بجے کا تھا، مگر میں نے سوچا تھوڑا پہلے جاکر سٹیڈیم کا جائزہ لوں۔ چار بجے صدر سے رکشہ لیا اور چل دیے سٹیڈیم۔ ماسک لازمی تھا تو وہ بھی لے لیا۔

جیل روڈ سے یو ٹرن لے کر جیسے ہی نیو ٹاؤن کی جانب مڑے تو ایک سکیورٹی کیمپ نظر آیا جس میں بڑی تعداد میں پولیس اور ٹریفک پولیس کے اہلکار نظر آئے۔ روڈ بھاری گاڑیوں کے بند کر دیا گیا تھا۔ لیاقت نیشنل ہسپتال اور آغا خان ہسپتال کو کراس کرنے بعد جیسے ہی میں ٹائیم میڈیکوز پہنچا تو وہاں پولیس رینجزر، ٹریفک پولیس اور کمانڈوز کا ایک میلہ لگا ہوا تھا۔ پولیس موبائلوں کے ساتھ بڑی تعداد میں بکتر بند گاڑیاں موجود تھیں۔ سٹیڈیم کی جانب جانے والے تمام راستوں پر پولیس، رینجرز کی بھاری نفری تھی۔

ٹائیم میڈیکوز پر رکشے سے اتر کر اطراف کا جائزہ لیا کہ اب کس طرف جانا چاہیے لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ ایک ٹریفک سارجنٹ سے پوچھا کہ بھائی چار نمبر گیٹ کہاں ہے؟ جواب میں موٹرسائیکل سواروں سے تنگ آئے ہلکی داڑھی والے دبلے پتلے سارجنٹ نے سوک سینٹر جانے والی سڑک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس طرف۔

اب میں سوک سینٹر والی سڑک پر چل دیا۔ کارساز سے سوک سینٹر کے لیے جانے والی ٹریفک کے لیے بنے پل کے سٹیڈیم کے برابر نیچے اترنے سے پہلے پیدل چلتے ہوئے مجھے بائیں ہاتھ پر پی ایس ایل کی پارکنگ نظر آئی جس کے دروازے پر کھڑے اہلکار سے چار نمبر گیٹ کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ غلط سمت میں آگئے ہیں، واپس جائیں، پل کے نیچے سے گزر کر ملینیئم مال کی جانب مڑ جائیں آگے، بائیں جانب پر سکیورٹی گیٹ سے اندر جائیں وہیں سے سب گیٹ شروع ہوتے ہیں۔

لو جی اب واپس چلنے لگے۔ پل کے نیچے سے میلینیئم مال  والی سڑک پر تھوڑا آگے بائیں جانب بڑی سائیز کے کنٹینرز کے درمیان سے اندر داخل ہوگئے۔ اندر سکیورٹی گیٹ لگے ہوئے تھے، مجھے ایک کمانڈر نے اشارہ کیا کہ رک جائیں، پی ایس ایل رضاکاروں کا ایک گروپ بھی وہاں انتظار میں کھڑا تھا، میں ان کے ساتھ انتظار کرنے لگا۔

پولیس نے راستہ بند کررکھا تھا۔ ایک ہیلی کاپٹر سٹیڈیم کے اوپر چکر کاٹ رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں سائرن بجاتی چار پولیس موبائیلوں کے درمیاں چلتی وین پہنچی تو راستہ کھول دیا گیا۔ شاید اہم لوگ آئے تھے۔ جیسے وین اندر گئی تو سکیورٹی گیٹ پر کھڑے پولیس کمانڈو نے اشارہ کیا کہ اب آپ لوگ آسکتے ہیں۔ قطار میں مجھ سے آگے کھڑے نوجوان نے گرین شرٹ پہنی تھی اور ایک بیگ اٹھایا ہوا تھا۔ سکیورٹی گیٹ کے بعد جسمانی تلاشی لے کر جب ان کا بیگ چیک کیا گیا تو اس میں پاور بینک تھا۔ پولیس کمانڈو نے نوجوان سے کہا پاور بینک کی اجازت نہیں، یا تو اس کو یہاں رکھیں یا واپس جائیں۔ میں کچھ دیر کھڑا رہا، مگر نوجوان کو اندر نہیں آنے دیا گیا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تھوڑا آگے چلے تو جسمانی تلاشی کے ساتھ ٹکٹ دیکھا گیا۔ تلاشی کے دوران کئی افراد سے سگریٹ، ماچس اور لائٹر بھی لے لیا گیا تھا کہ ان اشیا کی سٹیڈیم ممانعت ہے۔ اس جگہ پر پان، گٹکے کے پیکٹ، سگریٹ کے ڈبوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ تلاشی کے دوران میری جیب میں رکھی بال پین بھی سپاہی نے یہ کہہ کر وہیں رکھ دی کہ پین بھی اندر لے جانا منع ہے، کہ کوئی مخالف ٹیم کے سپورٹر کو پین مار کر زخمی نہ کر دے۔ سٹیڈیم میں ان اشیا کے علاوہ کھانے اور یہاں تک کے پانی لے جانے کی بھی اجازت نہیں۔ 

وہاں سے چار سو قدم کے فاصلے پر گیٹ نمبر چار پہنچے تو پھر جسمانی تلاشی کے بعد ٹکٹ چیک کر کے اندر جانے دیا۔ ایک رضاکار نے ای ٹکٹ کو سکین کیا اور قومی شناختی کارڈ کی تصویر لی، جو دونوں ایپ میں سیو ہوگئیں۔

اس کے بعد رضاکار نے ماسک ہٹانے کا کہا اور میرے فوٹو بھی بنائی۔ اس کے بعد گیٹ کے برابر میں ایک میز پر بیٹھے شخص نے شناختی کارڈ کو سکین کیا اور کہا اب آپ جاسکتے ہیں۔ میرے ساتھ دو کم عمر نوجوان بھی قطار میں تھے، جنہوں نے اپنے والد اور والدہ کے نام سے ٹکٹ خریدا تھا۔ وہ والدین کے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی ساتھ لائے تھے۔ انہیں اندر جانے نہیں دیا گیا۔

سٹیڈیم میں آنے کے لیے ٹکٹ خود کے نام پر ہونا چاہیے، کوئی شناختی دستاویز کا ہونی ضروری ہے، اگر آپ کم عمر ہیں تو ب فارم ساتھ رکھیں، ورنہ آپ کو اندر نہیں جانے دیا جائے گا۔ 

اس مرحلے کے بعد ایک بار پھر انکلوژر میں داخلے سے پہلے سکیورٹی گیٹ سے گزرے، جسمانی تلاشی ہوئی اور ایک بار پھر ٹکٹ سکین کیا گیا، جس کے بعد اندر جانے کی اجازت ملی۔ تو آخرکار ہم ماجد خان انکلوژر میں داخل ہوگئے۔

وقت سے پہلے آئے تھے، تو اتنی بھیڑ نہیں تھی۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی گراؤنڈ میں پریکٹس کر رہے تھے۔ ہمارے انکلوژر کے سامنے کراچی کنگز کے کھلاڑی موجود تھے۔ اس وقت ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب پریکٹس کرتے ہوئے اچانک کرکٹ کے کھلاڑیوں نے فٹ بال کھیلنا شروع کر دیا۔

میچ شروع ہونے تک انکلوژر آدھا بھر چکا تھا۔ تماشائیوں میں خواتین کی تعداد کم تھی، اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ میچ کے دوران شور سے پتہ چلا کہ تماشائیوں میں اکثریت کراچی کنگز کے حامیوں کی ہے۔

آدھے میچ کے بعد مچھروں نے کاٹنا شروع کر دیا۔ اور کیوں کہ میں اکیلا ہی آیا تھا کوئی دوست بھی ساتھ نہیں تھا، تو بور ہونے لگا۔ اس کے علاوہ سٹیڈیم میں سکور بھی نہیں بتا رہے تھے، اس لیے سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا۔ سوچا کہ 'آنکھوں دیکھا احوال' بہت ہوگیا، اب چلنا چاہیے۔ یہ سوچ کر باہر چل دیا۔

کراچی کنگز کے تابڑتوڑ چھکوں اور چوکوں سے دل کو اطمینان تھا کہ اب تو جیت کراچی ہی کی ہے، تو گھر چلنا چاہیے۔ خیر یہ تو دیر سے پتہ چلا شرجیل کی سینچری بھی ضائع ہوگئی اور کراچی ہار گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ مقابلے کے اپ سیٹ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے کراچی کو شکست دے دی۔

خیر میں جیسے انکلوژر سے نکلا، آتے ہوئے تیزی سے تلاشی لیتے اور ہر آنے پر نظر رکھے ہوئے سپاہی تھک کر بیٹھے ہوئے تھے۔ سٹیڈیم کی روشنیوں کے باعث باہر سڑک پر خاصی روشنی تھی۔ میں میچ کے متعلق سوچتے ہوئے گھر روانہ ہوگیا۔     

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ