اسلحے کی فروخت میں کرپشن: سابق فرانسیسی وزیراعظم بری

فرانسیسی عدالت نے پاکستان سے اسلحے کے ایک معاہدے میں رشوت لینے کے الزام کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم ایڈورڈ بلادور کو بدعنوانی کے الزامات سے بری کر دیا ہے تاہم ان کے سابق وزیر دفاع کو جیل کی سزا سنا دی۔

4 نومبر، 2014۔ فرانسیسی وزیراعظم ایڈوار بالاڈر وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور وزیر برائے سرمایہ کاری آصف علی زرداری کا پیرس میں استقبال کر رہے ہیں۔(اے ایف پی)

فرانسیسی عدالت نے پاکستان سے اسلحے کے ایک معاہدے میں رشوت لینے کے الزام کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم ایڈورڈ بلادور کو بدعنوانی کے الزامات سے بری کر دیا ہے تاہم ان کے سابق وزیر دفاع کو جیل کی سزا سنا دی۔

فرانس کی لا کورٹ آف دا ریپبلک (سی جے آر) نے جمعرات کو اس مقدمے کی سماعت کی جس میں ان دو شخصیات پر پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ اسلحے کی فروخت کے معاملات میں رشوت لینے کا الزام لگایا گیا تھا۔

اس مقدمے کا فیصلہ سابق صدر نکولس سرکوزی کو ایک ایسے معاملے میں سزا سنائے جانے کے کچھ دن بعد سامنے آیا ہے جس نے ملک میں سیاسی بدعنوانی پر قومی بحث کو جنم دیا تھا۔ 

91 سالہ بلادور پر 1995 میں اپنی ناکام صدارتی مہم کے لیے ہتھیاروں کے سودوں سے غیر قانونی کمیشن حاصل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

ان کے سابق وزیر دفاع 78 سالہ فرانکوئس لیٹارڈ کو اثاثوں کے ناجائز استعمال میں ملوث ہونے کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور انہیں دو سال قید اور ایک لاکھ یورو جرمانے کی سزا دی گئی تھی۔

ان دونوں شخصیات میں سے کوئی بھی فیصلے کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھا۔

بلادور اور ان کے وزیر دفاع پر 2017 میں پاکستان کو فروخت کی جانے والی آبدوزوں اور 1993 سے 1995 کے درمیان سعودی عرب کو بیچنے والی فریگیٹس کے معاہدوں میں پائی جانے والی بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

یہ الزامات پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں 2002 میں ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کے دوران سامنے آئے جس میں فرانسیسی انجینئروں کی بس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس دھماکے میں آبدوزوں پر کام کرنے والے 11 فرانسیسی انجینئروں سمیت پندرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ابتدائی طور پر القاعدہ کے دہشت گرد نیٹ ورک کو اس کا زمہ دار سمجھا گیا تھا۔

لیکن اس معاملے میں بدعنوانی کی جانب توجہ اس وقت مرکوز ہوئی جب فرانسیسی تفتیش کاروں نے اس پہلو پر غور کرنا شروع کیا کہ آیا یہ دھماکہ کمیشن کی ادائیگی میں رکاوٹ کے لیے تو نہیں کیا گیا۔

بلادور 1995 میں صدارتی انتخابات ہار گئے اور ان کے پیشرو نے سابقہ حکومت کی جانب سے طے کی گئی ادائیگیوں کو روک دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پائے گئے معاہدوں میں بڑے پیمانے پر کمیشن لینے کے لیے نیٹ ورکس کی تشکیل میں لییوٹارڈ کو ’نمایاں اور منظم کردار‘ ادا کرنے کے لیے قصوروار پایا گیا۔

پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ کمشن کی مجموعی رقم آج کے حساب سے 117 ملین یورو بنتی ہے جن میں سے کچھ کو بلادور کی صدارتی مہم میں خرچ کیا گیا۔

1995 میں انتخابی شکست کے تین دن بعد بالادور کے انتخابی اکاؤنٹ میں 10.25 ملین فرانک رقم جمع کرائی گئی تھی جو بعد میں اس مقدمے کا مرکز بنی۔

بلادور نے دعویٰ کیا کہ یہ رقم چندہ اور تجارت سے حاصل ہوئی ہے لیکن استغاثہ نے کہا کہ یہ رقم سوئٹزرلینڈ کے بینکوں سے نکلوائی گئی تھی۔ 

بلادور کو بری کرنے کے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ رقم کے بارے میں تعین نہیں کیا جاسکا کہ یہ کہاں سے آئی تھی۔

سابق وزیراعظم نے اپنی بریت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا: ’مجھے افسوس ہے کہ اس مقدمے کو طرح ختم ہونے میں ایک صدی کا چوتھائی حصہ صرف ہوا۔‘

سابق وزیر دفاع لییوارڈ نے کہا کہ وہ فرانسیسی نظام عدل اور اس کی زیادتیوں پر شرمندہ ہیں جب کہ کراچی میں مارے گئے انجینئرز کے اہل خانہ کے وکیل نے اس فیصلے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔

پاکستان میں اس کیس سے متعلق بدعنوانی کے الزامات پر حکومت نے اپریل 1997 میں اپنے چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل منصورالحق کو ہٹا دیا تھا۔ بعدازاں ان پر فرد جرم عائد کی گئی لیکن 2012 میں پلی بارگیننگ کے بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا