شیخ رشید: پاکستانی سیاست کا چاٹ مصالحہ؟

چند دن کی بات ہے شیخ صاحب کے پاس کوئی ایسا نیا چاٹ مصالحہ ضرور تیار ہوگا جس سے سیاست کی دنیا میں ایک بار پھر چٹخارے بکھر جائیں گے۔

اے ایف پی فوٹو

راولپنڈی کی تنگ گلیاں اور ان گلیوں میں دوڑتی موٹر سائیکل پر ایک بھاری بھرکم شخص۔ بائیک ٹی وی چینل کی پہلے سے موجود ڈی ایس این جی کے پاس رکتی ہے اور یہ شخص اس کی چھت پر چڑھ کر ایک جوشیلی تقریر شروع کر دیتا ہے۔

یہ یادگار تصاویر ہر ٹی وی دیکھنے والے کے ذہن میں نقش ہو چکی ہیں۔ یہ شیخ رشید ہیں جن کی سیاست راولپنڈی کی گلیوں اور ٹی وی سکرینوں پر روزانہ چھائی رہتی ہے۔ انہیں نیوز چینلز کا ہیرو بنے رہنے کا فن خوب آتا ہے۔ جیسے بھارتی فلم سٹار گووندا تین دہائیوں تک فلموں پر چھائے رہے ویسے ہی شیخ صاحب سیاسی دنیا میں تین دہائیوں سے یا شاید اس سے بھی پہلے سے راج کرتے چلے آرہے ہیں۔

بلب کے نشان کے ساتھ پارلیمانی سیاست میں قدم رکھنے والے شیخ صاحب کو اس کے بعد کبھی بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ نہیں رہا۔ بعد میں سائیکل پر سوار ہوئے، وقت پڑا تو شیر سے بھی دوستی کر ڈالی اور آخرمیں تنگ آکر قلم و دوات کے انتخابی نشان کے ساتھ اپنی جماعت بنا لی۔

اس جماعت کی خوبصورتی یہ ہے کہ صرف وہ ہی اس کے کرتا دھرتا ہیں۔ انہیں کسی کی کیا ضرورت۔ ٹی وی ٹاک شوز میں ان کی شرکت کے لیے ایک شرط لازم ہوتی ہے اور وہ ہے ’ون مین شو‘۔

یہ ہی ون مین شو عوامی مسلم لیگ میں بھی چل رہا ہے۔ شیخ رشید کو اپنی مقبولیت پر اندھا اعتماد ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ کس طرح؟ تو وہ ایسے کہ سال2013 کے انتخابات سے قبل انتخابی مہم کی کوریج کے لیے لال حویلی جانے کا اتفاق ہوا۔

لال حویلی کے باہرایک مجمع موجود تھا جب لوگ ذرا کم ہوئے تو شیخ صاحب ہماری ٹیم کو اندر لے گئے۔ میرے چند صحافی دوست شیخ صاحب کی باتوں سے لاجواب ہو رہے تھے۔ شیخ صاحب نے میری بیزار شکل کی جانب دیکھا اور کہا۔۔آپ کو پتہ ہے بےنظیر؟ میں نے پوچھا کیا؟ شیخ صاحب نے طنزیہ انداز میں کہا یار آپ لوگ تحقیق نہیں کرتے ،پھر شیخ صاحب مسکرانے لگے۔

میرے ہی ایک صحافی دوست نے ان سے کہا کہ کس بات پر تحقیق؟ آپ بتا دیں ہم کر لیں گے۔ شیخ صاحب بولے میں جن ٹاک شوز میں جاتا ہوں خواتین میرے پروگرام کی سی ڈیاں بنا کر بار بار دیکھتی ہیں!!!! میں نے حیرانی سے شیخ صاحب کی جانب دیکھا تو بولے بےنظیر!! آپ میرے حلقے میں ابھی جائیں اور خواتین سے دریافت کرلیں (دل میں تو ایک خرافاتی سوال آیا لیکن اُس وقت پی گئی!!! )۔

ویسے اس بات سے کوئی شخص انکاری نہیں کہ شیخ رشید جس پروگرام میں جاتے ہیں اس پروگرام کی ریٹنگ چڑھ جاتی ہے۔ جیسے کسی انتہائی سنجیدہ فلم میں آئٹم نمبر فلم کی مقبولیت کا باعث بن جاتا ہے۔ اسی طرح ان کی کسی پروگرام میں شمولیت اس شو کی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ ان کی طاقت چٹ پٹی مگر کھلی ڈُلی باتیں اور پیش گوئی کے نام پر اپنی خواہشات کا اظہار ہے۔

عام انتخابات 2018 سے قبل پورے دس سال تک شیخ صاحب نومبر میں یہ پیش گوئی کر دیتے تھے کہ اس حکومت کو اگلی بہار دیکھنا نصیب نہ ہو گئی۔ معلوم نہیں کیوں شیخ صاحب کی مارچ سے کیا ان بن ہے۔

 ہر پیش گوئی اسی ماہ کے گرد ہوا کرتی تھی۔ پھر بہارگزر جاتی تو شیخ صاحب خود ہی حکومت کے خاتمے کی ڈیڈلائن میں یک طرفہ توسیع کر دیتے تھے۔ بڑی معذرت کے ساتھ چند اینکرز ان کی باتوں کو سچ جان کر خبروں کی ہیڈ لائنز بنانے پر تل جاتے۔۔۔ پیش گوئیوں کا یہ سلسلہ24/7 چلتا رہتا ہے۔

ان کے پاس پی ٹی آئی حکومت کے اتحادی کے طور پر ریلوے کی وزارت ہے۔ ان کا یہاں بھی کمال ہے کہ وہ عمران خان کی ایسی ایسی صفات بیان کرتے ہیں کہ خود خان صاحب کو بھی نہیں معلوم۔

شیخ صاحب اور کسی بات پر یقین رکھتے ہوں یا نہیں لیکن انہوں نے شاید سوچ لیا ہے کہ عمران خان کی بقا میں ہی ان کی بقا ہے۔ اس لیے اب میڈیا پر نجومی کم بننے لگے ہیں۔ اب جب بھی کوئی اینکر ان سے پیش گوئی والا سوال کرتا ہے تو وہ یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ ’یار آپ پروگرام آگے بڑھائیں مجھے نہ پھنسائیں ‘ ۔

چند دن کی بات ہے شیخ صاحب کے پاس کوئی ایسا نیا چاٹ مصالحہ ضرور تیار ہوگا جس سے سیاست کی دنیا میں ایک بار پھر چٹخارے بکھر جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ