ملک کو فوج نہیں، عوام اکٹھا رکھتی ہے: وزیراعظم عمران خان

جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم کا روحانیت کو سوپر سائنس بنانے کا عہد۔

القادر یونیورسٹی کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم نے کہا کہ اس یونیورسٹی میں نظریہ پاکستان اور ریاستِ مدینہ کے حوالے سے ریسرچ ہوگی۔ تصویر: ریڈیو پاکستان

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جس مقصد سے پاکستان کا قیام ہوا تھا، ہم اس سے بہت دور جا چکے ہیں اور اس مقصد کی طرف واپس جانا ملک کی بقا کے لیے ضروری ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق، وزیراعظم نے یہ بات اتوار کو جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔  

وزیزاعظم کا کہنا تھا کہ 23 سال پہلے جب انہوں نے تحریک انصاف بنائی تو اس کا منشور اور نظریہ وہی تھا جو بانی محمد علی جناح کا تھا، کہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے۔

’یہی ریاستِ مدینہ کا اصول تھا جسے پاکستان نے بننا تھا، لیکن نہ ہم اسلامی رہے اور نہ ہی فلاحی صرف ایک ریاست رہ گئے۔ وہ قوم جس کا نظریہ ختم ہو جائے، وہ خود بھی ختم ہو جاتی ہے۔‘

انہوں نے زور دیا کہ کوئی فوج ملک کو اکٹھا نہیں رکھ سکتی، بلکہ ملک کو اس کی عوام اکٹھا رکھتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کو اچھے لیڈر نہیں ملے اور سوہاوہ میں یہ یونیورسٹی اس مقصد سے بنائی جارہی ہے کہ یہاں پاکستانی نوجوانوں کو لیڈر بنایا جائے۔

انہوں نے کہا: ’اس یونیورسٹی میں نظریہ پاکستان اور ریاستِ مدینہ کے حوالے سے ریسرچ کرائیں گے، یہاں سکالرز بیٹھیں گے جو یہ جاننے کے لیے مطالعہ کریں گے کہ کیسے کمزور اور غریب مسلمانوں نے اس وقت کی دو سپر پاورز کو شکست دی اور سات سو سالوں تک دنیا کی امامت کی۔‘

وزیراعظم کے مطابق، القادر یونیورسٹی روحانیت کے سپاہ سالار عبدالقادر جیلانی کے نام پر بنائی جا رہی ہے جو عظیم صوفی تھے اور جنہوں نے اسلام، روحانیت اور سائنس کا تعلق جوڑا تھا اور روحانیت پر تحقیق کی تھی۔

وزیراعظم نے کہا:’اس یونیورسٹی میں بھی سائنس، اسلام اور روحانیت کا تعلق قائم کیا جائے گا۔ ہم روحانیت کو سپر سائنس بنائیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست