موزمبیق: داعش کا اہم قصبے پر قبضے کا دعویٰ، ہزاروں شہری بے گھر

گذشتہ ہفتے سے موزمبیق کے شمالی قصبے پالما پر جاری حملے کے بعد داعش نے اس پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ امریکہ نے موزمبیق کی حکومت کو مدد فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

پیلما شہر میں پکیٹاکیٹ بندرگاہ کے منسلک ایک علاقے میں ایک بچہ 29 مارچ کو خالی گلی میں کھیل رہا ہے۔ پالما میں شدت پسندوں کے حملوں میں بے گھر ہونے والے ہزاروں شہریوں کا یہاں پناہ کے لیے آنا متوقع ہے (اے ایف پی) 

افریقی ملک موزمبیق کے اہم شمالی قصبے پالما پر داعش سے وابستہ عسکریت پسندوں کے طویل اور مہلک حملے کے بعد امریکہ نے پیر کو موزمبیق کی مدد کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

عسکریت پسندوں نے گذشتہ ہفتے بدھ کو پالما پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں توسیع ہوئی ہے اور اس کا دائرہ 2017 کے بعد سے مہلک انداز میں پورے شمالی موزمبیق تک پھیل چکا ہے۔

داعش اور موزمبیق کے حکام کے مطابق درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ عینی شاہدین نے اسے ایک منظم حملہ قرار دیا ہے جبکہ شہریوں کی ایک نامعلوم تعداد ابھی تک لاپتہ ہے۔

موزمبیق میں زیر تکمیل کئی ارب ڈالر کے گیس منصوبے پر سب سے بڑا حملہ قریب ترین مقام سے کیا گیا۔ یہ حملہ فرانسیسی آئل کمپنی اور توانائی کے شعبے کی دوسری بڑی کمپنیوں کی تنصیبات سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر کیا گیا۔

داعش نے اپنے ٹیلی گرام چینلز پر ایک بیان میں کہا کہ ’اس کے سپاہیوں نے پالما کے قصبے پر قبضہ کر لیا ہے۔‘ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حملے کا نشانہ فوجی اور حکومتی اہداف تھے۔ حملے میں درجنوں فوجی اور ’صلیبی جنگیں‘ لڑنے والے ملکوں کے شہری مارے گئے۔‘ داعش کا اشارہ مغربی ممالک کی طرف تھا۔

دوسری جانب امریکی محمکہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا: ’ہم نے دہشت گردی، پرتشدد دہشت گردی کے مقابلہ کرنے اور داعش کو شکست دینے کے لیے موزمبیق کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔‘

داعش نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر اس کے کمانڈوز دکھائے گئے ہیں، تقریباً ایک سو مسلح افراد جن میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔ ان لوگوں نے یونیفارم پہن رکھے ہیں جب کہ سروں پر سرخ رنگ کے سکارف ہیں۔ کئی ماہرین نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ایسا لگتا ہے ویڈیو موسیبوا ڈا پریا بندرگاہ کے علاقے میں ریکارڈ کی گئی۔ اس بندرگاہ پر بھی داعش کا قبضہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ ویڈیو کب ریکارڈ کی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سول سوسائٹی کے کارکن ایڈریانو نوونگا نے کہا ہے کہ صوبہ کاربو ڈیلگاڈو میں واقعے اس بندرگاہ کی آبادی 75 ہزار تھی لیکن اب یہ قصبہ مکینوں سے خالی ہو چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’تشدد بند ہو گیا ہے لیکن یہ مانا جاتا ہے کہ کچھ عسکریت پسند واپس جا چکے ہیں جب کہ کچھ وہیں چھپے ہوئے ہیں۔‘

عینی شاہدین کے مطابق حملے سے پہلے درجنوں جنگجو قصبے میں داخل ہو چکے تھے۔ مویڈا کے علاقے سے جہاں انہوں نے پناہ لے رکھی ہے، پالما کے ایک رہائشی نے کہا: ’حملہ آور چند روز پہلے قصبے میں پہنچ چکے تھے۔ وہ مقامی لوگوں کے گھروں میں چھپ گئے جنہیں معاوضہ دیا گیا تھا۔ حملے کا آغاز پالما کو جانے والی شاہراہوں سے کیا گیا۔‘

عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے حملہ آوروں کو مار بھگانے کی کوشش کی۔ تب قصبے کے اندر موجود جنگجوؤں نے حملہ کر دیا۔ ادھر اقوام متحدہ نے پالما پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ تشدد سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن جوجارک کا کہنا تھا: ’ہم پالما میں اب بھی بگڑتی ہوئی صورت حال پر بے حد فکر مند ہیں جہاں 24 مارچ سے مسلح حملے شروع ہوئے اور مبینہ طور پر درجنوں لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

حملے میں بچ جانے والے متعدد افراد نے کہا ہے کہ انہیں جنوب مویڈا میں پناہ حاصل کرنے کے لیے جنگل میں 180 کلومیٹر سفر کرنا پڑا۔ جب وہ وہاں پہنچے تو لنگڑا رہے تھے اور ان کے پاؤں سوجے ہوئے تھے۔

علاقے سے فرار ہونے والے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’بہت لوگ تھک کر گر گئے۔ وہ مزید چلنے کے قابل نہیں تھے۔ ان میں خاص طور پر بوڑھے لوگ اوربچے شامل تھے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی افریقہ