’علیک سلیک ہو جاتی اگر میڈیا زیادہ بڑھاوا نہ دیتا‘

دو شنبے میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران بھارت کے ایک سفارتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میڈیا پر پاکستان بھارت ٹاکرے کے مناظر دکھا دکھا کر انہوں نے اس معاملے کو حساس کر دیا ہے، اس لیے اب یہ معاملہ دھیما چلے گا۔‘

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی (بائیں) اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر (دائیں)۔ (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

تاجکستان کے دارالحکومت دو شنبے میں والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران دو روایتی حریف ملکوں پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات پر پڑی برف تو نہ پگھلی تاہم بھارت کے ایک اعلیٰ سفارتی اہلکار نے ملاقات نہ ہونے کا ملبہ بھی میڈیا پر ڈال دیا۔

مذکورہ بھارتی سفارتی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’علیک سلیک ہو جاتی اگر میڈیا اس معاملے کو زیادہ بڑھاوا نہ دیتا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میڈیا پر پاکستان بھارت ٹاکرے کے مناظر دکھا دکھا کر انہوں نے اس معاملے کو حساس کر دیا ہے، اس لیے اب یہ معاملہ دھیما چلے گا۔‘

دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ ’گذشتہ شب سے لے کر اب تک بھارتی ہم منصب اور وہ بارہا آمنے سامنے ہوئے، لیکن کوئی علیک سلیک نہیں ہوئی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نہ بھارتی وزیر خارجہ نے خواہش کا اظہار کیا اور نہ ہی انہوں نے کوئی کوشش کی۔‘

30 مارچ کو ہونے والے اس اجلاس میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے ورچوئل شرکت کی جب کہ دیگر رکن ممالک کے نمائندے اجلاس میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی بھی ورچوئل شرکت تھی۔

ہر سال ہونے والے ہارٹ آف ایشیا اجلاس کے موضوعات میں عموماً افغانستان اور خطے میں امن کے قیام کے حوالے سے ہی بات کی جاتی ہے لیکن رواں برس ہونے والے اس اجلاس کو پاکستان اور بھارت کے تناظر میں بھی اہمیت دی جا رہی تھی۔

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی تاریخ دیکھی جائے تو ہر سال کی تقریر میں وہی رٹے رٹائے بیانات ہوتے ہیں، جن میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ ایک دوسرے پر دراندازی کے الزامات لگاتے رہے ہیں لیکن حالیہ بیانات کے تناظر میں پاکستان اور بھارت دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے اجتناب کیا۔

آج کے اس اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ نے براہ راست ایک دوسرے کو دہشت گردی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا اور نہ ہی ایک دوسرے کا نام لیا لیکن بالواسطہ طور پر بھارتی وزیر خارجہ نے افغانستان میں دہشت گردی کے ذمہ داروں کے لیے ’غیر ملکی عناصر‘ کا نام لیا جب کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے ’تخریب کاروں‘ کو افغانستان میں تشدد پسندی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

دوسری جانب گذشتہ رات سے اب تک دونوں وزرائے خارجہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آتے رہے لیکن ابھی تک جس ’علیک سلیک‘ کی توقع کی جا رہی تھی، وہ ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

گذشتہ روز ہونے والے عشائیے میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ موجود تھے لیکن کوئی خاص بریک تھرو نہیں ہوا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انڈپینڈنٹ اردو سے غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ گذشتہ رات ہونے والےعشائیے میں ’بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر دوسری میز پر بیٹھے تھے جب کہ وہ خود الگ میز پر بیٹھے تھے اس لیے علیک سلیک نہیں ہو سکی۔‘

سفارتی ذرائع کے مطابق ظہرانے پر بھی دونوں وزرائے خارجہ ایک دوسرے سے گریزاں نظر آئے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پیر کی شام دوشنبہ پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ترکی کے وزیرخارجہ سے طے شدہ ملاقات کی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کے وزیر خارجہ بھی پیر کی شام کو پہنچے لیکن رات نو بجے تک وہ تین ملاقاتیں کر چکے تھے۔ ان کی ایران، ترکی اور افغانستان کے صدر سے ملاقات ہوئی۔

اجلاس کے دن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پانچ دیگر ملاقاتیں کیں، جن میں افغان صدر اشرف غنی، افغان وزیر خارجہ حنیف اتمر، ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف، آذر بائیجان کے وزیر خارجہ اور ازبکستان کے وزیر خارجہ شامل تھے۔

ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسیس کے سلسلے کا یہ نواں اجلاس تھا، جس کا انعقاد صدارتی محل میں کیا گیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وسط ایشیائی ممالک میں عموماً صدارتی محل کے لیے وسیع وعریض رقبہ مختص ہوتا ہے۔ یہاں بھی ایسے ہی رقبے کے اندر محلات بنائے گئے ہیں، جن میں سے ایک محل میں اجلاس کا انعقاد کیا گیا تھا جب کہ صدر اشرف غنی کو بھی ایک صدارتی محل میں ٹھہرایا گیا۔

جب سربراہان مملکت کا کوئی اجلاس ہوتا ہے تو تمام سربراہان مملکت کے لیے محلات کو سرکاری گیسٹ ہاؤس کا درجہ دیا جاتا ہے۔

کرونا سے بچاؤ کے کیا انتظامات تھے؟

اجلاس میں سکیورٹی کے تو سخت انتظامات کیے گئے تھے، لیکن کرونا ایس او پیز پر کوئی خاص عملدرآمد نظر نہیں آیا۔

مقامی صحافیوں نے بتایا کہ دسمبر 2020 کے بعد سے تاجکستان میں کرونا کے کیسز سامنے نہیں آئے، جس کے بعد تاجکستان کے صدر نے اس ملک کو ’کرونا فری‘ قرار دے دیا تھا۔

دوسری جانب چند صحافیوں کا یہ بھی موقف تھا کہ حکومت نے مقامی طور پر کرونا ٹیسٹ ہی بند کر دیے ہیں، لہذا نہ ٹیسٹ ہوں گے اور نہ کیس سامنےآئیں گے، لیکن یہ سچ ہے کہ دوشنبے میں زندگی کرونا سے پہلے والی ہی نظر آ رہی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا