علاقہ غیر سے علاقہ خیر تک: باجوڑ کے سٹڈی سرکل

ایک دوسرے کی بات تحمل سے سننے اور دلائل کے ساتھ دوسرے کو اپنے بات سمجھانے کی قلت ہی ان علاقوں کو ماضی میں انتہا پسندی کی جانب دھکیلنے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

باجوڑ کے صدر مقام خار سے چند کلومیٹر مغرب میں ایک پرفضا مقام ہے۔ مقامی نوجوان ہر شام یہاں کھلے آسمان تلے بیٹھ کر اردگرد کے ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ایک دائرے کی صورت یہاں بیٹھنے کا مقصد گپ شپ ہوتا ہے۔ لیکن یہاں اب ایک تعمیری سرگرمی مثبت بحث مباحثہ منعقد ہونا بھی ہے۔ چار چھ پڑھے لکھے باجوڑی اپنی بات کرتے بھی ہیں اور سنتے بھی مہذب طریقے سے ہیں۔

ایک دوسرے کی بات تحمل سے سننے اور دلائل کے ساتھ دوسرے کو اپنی بات سمجھانے کی قلت ہی ان علاقوں کو ماضی میں انتہا پسندی کی جانب دھکیلنے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں اور بات جب مذہب جیسے حساس مسئلے پر ہو تو ’میرا موقف درست ہے‘ ہی سننے کو ملتا تھا۔ لیکن اب یہ تبدیل ہو رہا ہے۔

کم از کم خیبر پختونخوا میں ضم شدہ نئے ضلع باجوڑ میں چند پڑھے لکھے نوجوانوں نے اس کمی کا احساس کیا ہے اور اس کمزوری کو دور کرنے کے لیے ایک دوسرے کی بات سننے اور برداشت پیدا کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔

باجوڑ سٹڈی سرکل کے نام  یا جسے پشتو میں ’د رنڑاں ملگرے‘ (روشنی کے دوست) بھی کہتے ہیں مقامی نوجوان ڈیڑھ سال سے خیالات کے تبادلے کے اس عمل کا آغاز کئے ہوئے ہیں۔ نا کوئی دفتر ہے اور نہ کوئی ویب سائٹ۔ بس وہ خار ہو یا پشاور کہیں بھی کھلے میدان میں بیٹھ کر تبادلہ خیال کر لیتے ہیں۔ چائے پکوڑے یا تو ساتھ لے آتے ہیں یا پھر قریبی رہنے والے لے آتے ہیں۔ اگر خوردونوش نہ بھی ہو گپ شپ پھر بھی ہو جاتی ہے۔ 

اس سرکل کے ایک منتظم پشاور یونیورسٹی کے حنیف الرحمان سے صدر مقام خار سے باہر کھلے میدان میں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں پوچھا کہ سٹڈی سرکل کا آخر مقصد کیا ہے؟

’ہمارا مقصد یہاں پر ایک ایجوکیٹڈ بحث، ایکیڈمک بحث، نوجوانوں کو کتابوں کی جانب لے کر آنا ہے جو انٹرنیٹ کی وجہ سے ختم ہوگیا ہے۔ بنیادی مقصد یہاں لائبریری کھولنے کا اور تعلیم یافتہ لوگوں کو موقع دینا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو جانیں پہچانیں۔‘

نوجوان کن موضوعات پر زیادہ بات کرتے ہیں؟ حنیف الرحمان نے بتایا کہ ’یہاں پر خواتین کی تعلیم کے مسائل ہیں، یہاں کالج کم ہیں۔ لوگ اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے زیادہ کوشش نہیں کر رہے ہیں تو عورتوں کی تعلیم پر بات ہوتی ہے، قبائلی سرداروں کا جو نظام تھا اچھا تھا یا نہیں اس پر غور کرتے ہیں۔‘  

سٹڈی سرکل کی چند ویڈیوز انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہیں۔ ان میں دیکھنے سے نہیں لگتا کہ کوئی مخصوص طبقہ ہی اس میں شرکت کرتا ہے۔ تاہم حنیف الرحمان نے بتایا کہ جو لوگ علم سے دوستی رکھتے ہیں وہ سب آتے ہیں۔ اس میں کوئی قدغن نہیں ہے۔ لیکن زیادہ تر ہم چونکہ فیس بک اور سوشل میڈیا پر پیغام دیتے ہیں تو زیادہ چونکہ نوجوان ہی اس کا استعمال کرتے ہیں تو ہمارے سیشن کا حصہ وہ ہی بنتے ہیں۔‘

شام کا اندھیرا تیزی سے دائرے میں بیٹھے نوجوانوں کے گرد گاڑھا ہوتا جا رہا تھا۔ سکیورٹی حالات میں بہتری آئی ہے لیکن رسک لینے کو کوئی تیار نہیں سو گپ شپ برخاست کرنے پر اکتفا ہوتا ہے۔ تاہم جاتے جاتے حنیف الرحمان سے دریافت کیا کہ کوئی فائدہ بھی محسوس ہوا اس تبادلہ خیال سے تو ان کا کہنا تھا کہ ’برداشت کا کلچر بڑھا ہے۔ ایک دوسرے کی مخالف رائے سنتے ہیں۔ تحقیق پر مبنی بات زیادہ کرتے ہیں۔ اپنے سے اب کم بات کرتے ہیں۔‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ مضمون انڈپینڈنٹ اردو کی پاکستان کی مغربی سرحد پر واقع سابق قبائلی علاقوں کے گذشتہ برس صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام پر ہفتہ وار سیریز ’علاقہ غیر سے علاقہ خیر تک‘ کی دوسری قسط ہے جس میں وہاں حالات میں بہتری کیسے لائی جاسکتی ہے پر بات ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل