ژوب سے گزرتی سائبیریائی کونجوں کو غیر قانونی شکاریوں سے خطرہ

سائبریا کے برفیلے جنگلات سے تاجکستان، افغانستان اور پاکستان کے راستے ہمسایہ ملک بھارت کے گرم علاقے بھارت پور راجستھان تک چار ہزار کلومیٹر تک کی اس طویل فضائی ہجرت میں بلوچستان کے بعض علاقے بھی شامل ہیں، جہاں یہ خوبصورت پرندے مختصر مگر پرخطر قیام کرتے ہیں۔

سریلی آواز، خوبصورت پنکھ، لمبی گردن، اونچے قد اور مختلف ممالک سے گزر کر ہزاروں میل سفر کرنے والے مہمان پرندے سائبیریائی کونج آج بھی امن کے سفیر اور موسم بہار کی نوید سنانے کے لیے مشہور ہیں۔

قبائلی معاشرے میں ان کا ناتا خوش قسمتی سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ یورپی ملک سویڈن میں کونج کو برڈ آف فارچون جبکہ جاپان میں خوشی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن متعدل آب و ہوا کے لیے رخت سفر باندھ کر براعظم ایشیا کے ایک سرے سے دوسرے تک ہجرت کرنے والے یہ خوبصورت پرندے سنگدل شکاریوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔

سائبریا کے برفیلے جنگلات سے تاجکستان، افغانستان اور پاکستان کے راستے ہمسایہ ملک بھارت کے گرم علاقے بھارت پور راجستھان تک چار ہزار کلومیٹر تک کی اس طویل فضائی ہجرت میں بلوچستان کے بعض علاقے بھی شامل ہیں، جہاں یہ خوبصورت پرندے مختصر مگر پرخطر قیام کرتے ہیں۔ کونج عموماَ 20 سے 25 سال تک زندہ رہتی ہے اور روزانہ دو سو کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے۔

قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے متصل بلوچستان کا ضلع ژوب کونج کے بین الاقوامی کوریڈور میں شامل ہے جسے انڈس فلائی وے یا گرین روٹ بھی کہا جاتا ہے۔ شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر بہنے والا دریائے ژوب کونج کی قدیم قیام گاہ ہے۔

شکار کے موسم میں دریا کے کنارے درجنوں شکاری کیمپ لگائے جاتے ہیں جو روزانہ کے حساب سے سینکڑوں کونج مختلف طریقوں سے پکڑتے ہیں۔ اگرچہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کی جاتی ہے، لیکن بعض بااثر شکار پارٹیاں جو لکی مروت، بنوں اور خیبرپختوںخوا کے دیگرعلاقوں سے ژوب کا رخ کرتی ہیں، مقامی لوگوں سے مل کر بلاخوف و خطر شکار کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں آنے والی کونج ڈومیزل نسل ہے۔ جس کی تعداد ہر سال غیرقانونی طریقے سے ہونے والی شکار کے باعث کم ہوتی جارہی ہے۔

دریائے ژوب کے کنارے آباد گاؤں کے رہائشی عزیزالرحمٰن گذشتہ ایک دہائی سے کونج کے شکار سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ شوق سے کونج کا شکار کرتے ہیں۔

کونج سال میں دو انڈے اور دو بچے دیتی ہے۔ پکڑی گئی کونج کو گندم اور باجرہ کھلایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اکثر شکاری نصب کیے گئے جال کی مدد سے کونج پکڑتے ہیں جبکہ بعض شکاری کونج کی آواز پر مشتمل ایم پی تھری کی مدد سے، تاہم کچھ تعمیراتی کام میں لیولنگلے لیے استعمال ہونے والے لوہے (سال) اور 30 گز لمبی ڈوری کی مدد سے کونج پکڑتے ہیں۔

شکاری عموماَ ایک پالے ہوئے جوڑے کو کیمپ کے قریب پنجرے میں رکھ کر نر اور مادہ الگ کرتے ہیں، ان کی آوازیں سن کر فضا میں اڑنے والی کونجیں نیچے آتی ہیں اور جال میں پھنس جاتی ہیں۔

عزیزالرحمن نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے شکار کرنے کا طریقہ 10،15 سال قبل بنوں سے آئے ہوئے شکاریوں سے سیکھا تھا۔ ان کے خیال میں کونج پکڑنا اب شوق نہیں رہا بلکہ کاروبار بن چکا ہے۔

کلی اپوزئی سے تعلق رکھنے والے حسین عالم نے اپنے گھر میں 16 کونج اس لیے پال رکھے ہیں، کہ ان کے بقول انہیں کونج کی آواز پسند ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ وہ کونج کا ان کی ضرورت کے مطابق خیال رکھتے ہیں۔ خوراک کے ساتھ علاج کا بھی بندوبست کرتے ہیں۔

حسین عالم نے مزید بتایا کہ کونج کی آنکھیں نہایت نازک ہوتی ہیں جو روشنی سے جلد متاثر ہوجاتی ہیں۔ لیکن وہ ڈاکٹر سے باقاعدہ علاج کراتے ہیں۔ فضا میں ہجرت کرنے والے کونج کی آواز سن کر گھر کے صحن میں قید کونجیں بھی شور مچاتی اور کاٹے گئے پروں کے سہارے اڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔

اگرچہ بلوچستان میں جنگلی حیات کی حفاظت کے لیے وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 2014 موجود ہے۔ لیکن صوبے میں ایکٹ کے غیرموثر نفاذ اور بے دریغ غیرقانونی شکار کے باعث کونج کی تعداد ہر سال کم ہوتی جارہی ہے۔ شکاری کونج پکڑنے کے بعد پنجروں میں قید کرکے ملک کے دیگر حصوں میں منتقل کرتے ہیں۔ اور فی جوڑا ایک ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک بیچا جاتا ہے۔

ژوب میں ایک شکاری نے رواں سیزن کے دوران 70 کونج زندہ پکڑے اور ساڑھے تین لاکھ روپے کے عوض فروخت کردیے۔

سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان محمد صدیق مندوخیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت غیرقانونی شکار کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے، چالان عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور پکڑے گئے کونج آزاد فضا میں چھوڑ دیے جاتے ہیں۔

ان کے مطابق ہر سال موسم بہار کی آمد کے موقع پر مارچ اپریل کے مہینوں میں کونج راجستھان سے سائبریا اور موسم کی تبدیلی یعنی سردی کے شروع ہونے سے قبل ستمبر اکتوبر میں واپس سائبریا ہجرت کرنے کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں سے گزرتی ہیں۔

سائبریائی پرندے دنیا میں ہجرت کے لیے عموماً سات فضائی راستوں کا استعمال کرتے ہیں، جن کو فلائی ویز کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں پہنچنے کے لیے پرندے روٹ نمبر فور کا استعمال کرتے ہیں۔ مذکورہ فلائی وے پر ہرسال ہزاروں کی تعداد میں پرندے سفر کرتے ہیں۔ اس فلائی وے کے ذریعے مہمان پرندے سائبریا سے قازقستان، ایران، افغانستان، ہندوکش اور قراقرم کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، دریائے سندھ اور پنجاب کی آب گاہوں سے ہوتے ہوئے بھارت کے علاقے راجستھان میں پہنچتے ہیں۔

پاکستان آب گاہوں کے تحفظ کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدے رامسر کنونشن کا توثیق کنندہ ہے۔ رامسر سائیٹس میں شامل مجموعی طور پر 19آب گاہوں میں سے پانچ بلوچستان میں ہیں۔ رامسر سائیٹ ایسے مقام کو قرار دیا گیا ہے جہاں 20 ہزار کے قریب پرندے قیام کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے رامسر سائیٹس بھی تنزلی کا شکار ہیں۔

عالمی ادارے ورلڈ وائلڈ فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ڈائریکٹروائلڈ لائف اور ریجنل ہیڈ بلوچستان سندھ طاہر رشید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس وقت دنیا میں کونج کی پندرہ اورایشیا میں آٹھ قسمیں ہیں۔ پاکستان میں پہلے چار قسم کی کونجیں آتی تھیں لیکن غیرقانونی شکار، قدرتی مسکن کے انحطاط، خشک ہوتی آب گاہوں، فضائی راستوں کے غیر محفوظ ہونے اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث ان میں سے دو قسم کی کونجیں پاکستان میں نایاب ہوچکی ہیں۔ سائبیریائی اور سارس کونج کی نسلیں اب تقریباً معدوم ہوچکی ہیں۔ اب صرف ڈومیزل اور یوریشین کونج یہاں سے گزرتی ہیں۔

بلوچستان میں داخل ہونے کے لیے چاغی اور نوشکی کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ عالمی سطح پر ہجرت کرنے والے پرندوں کی نسلوں کو بچانے اور ان کے فضائی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے مئی اور اکتوبر میں مہمان پرندوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

طاہر رشید کے مطابق جنگلی حیات کے تحفظ اور مہمان پرندوں کی نایاب ہوتی نسلوں کو بچانے کے لیے عالمی، ملکی اورعلاقائی سطح پر ٹھوس اور مربوط اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ اس ضمن میں سالانہ بنیاد پر سروے کرنے چاہیں تاکہ ان کی تعداد میں کمی کا صحیح اندازہ ہو اور جنگلی حیات کی اہمیت کے پیش نظر مقامی سطح پرلوگوں میں شعوروآگہی کی شدید ضرورت ہے، تاکہ ماحولیات اور قدرت کی تخلیق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ اگر اس مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا تو آئندہ چند سالوں کے دوران پرندوں کی باقی ماندہ تعداد بھی کرہ ارض سے معدومیت کا شکار ہو جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا